اہلِ دہلی کا واضح پیغام “میرا بھارت مہان، ہی ہندوستان کی اصل پہچان”

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اہلِ دہلی واضح پیغام

ایڑی چوٹی کا زور لگانے اور اپنے تمام اہم قائدین کو انتخابی مہم میں اتارنے کے باوجود بھارتی وزیراعظم نریندر امودی اور انکی پارٹی کو نئی دہلی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ عام آدمی پارٹی نے70 ارکان کی اسمبلی میں 62 نشستیں جیت کر ایک بار پھر دہلی کا تخت فتح کرلیا۔ بی جے پی کو صرف8 نشستیں ملیں، جبکہ کانگریس دہلی کی اسمبلی میں کوئی بھی نشست جیتنے میں ناکام رہی، بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق عام آدمی پارٹی نے53.57 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ بی جے پی کو38.58 فیصد ووٹ ملے، جبکہ کانگریس پارٹی کے حصے میں5 فیصد سے بھی کم ووٹ آئے-

مزید پڑھیں : لو جی لگ گیا ریورس گیئر—– مگر چوکنا رہنا ہوگا

پچھلے ریاستی الیکشن میں عام آدمی پارٹی کے 67 جبکہ بی جے پی نے صرف 3 نشستیں حاصل کی تھیں، کانگریس تب بھی کوئی نشست لینے میں کامیاب نہ ہوپائی تھی۔ نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے اپنی پارٹی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے لوگوں نے نئی سیاست کی بنیاد رکھی ہے اور یونٹی ( کام کی سیاست ) ہے۔ اہلِ دہلی واضح پیغام

الیکشن میں بی جے پی کی حکمت عملی

Moodi

بی جے پی نے دہلی کے اسمبلی انتخابات جیتنے کےلئے اپنی پوری طاقت صرف کی،انتخابی مہم کے دوران40 ریلیوں اور جلسوں سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کئی ریلیوں سے خطاب کیا اور کئی روز تک یہاں ڈیرے ڈالے رکھے، تمام مرکزی وزراء اور کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ بھی انتخابی مہم میں شریک رہے اور کئی کئی راتیں ان کچی آبادیوں میں گزاریں جنہیں پکی بستیوں میں تبدیل کرنے کا اعلان کرکے عام آدمی پارٹی کے ووٹ توڑنے کی کوشش کی۔ کیونکہ کچی آبادیوں میں رہنے والے زیادہ تر غریب لوگ عام آدمی پارٹی اور اس کے قائد اروند کیجریوال کے مداح اور ووٹر ہیں، اس کے باوجود بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی پارلیمنٹ جرائم پیشہ عناصر کا گڑھ

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دہلی اسمبلی کا الیکشن مودی کے نام پر لڑا کیونکہ اس کے پاس نئی دہلی کے وزیراعلیٰ کےلئے کوئی ایسا چہرہ نہیں تھا، جو اروند کیجریوال کی مقبولیت کا سامنا کر سکتا۔ ابتداء میں بی جے پی نے بھو جپوری فلموں کے اداکار منوج تیواری کو بی جے پی کی دلی شاخ کا صدر بنایا اور اسے آگے لائی، مگر کیجریوال کے مقابلے میں وہ بہت کمزور نظر آئے، عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے انتخابی مہم میں تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بہتری اور اپنی حکومت کی کارکردگی کو موضوع بنایا، عوام سے صاف صاف کہا کہ اگر آپ کو میرا کام پسند ہے تو مجھے ووٹ دیں ورنہ بے شک مسترد کر دیں۔ اہلِ دہلی واضح پیغام

ہندو مسلم اختلافات، شہریت کا متنازعہ قانون، شاہین باغ احتجاج اہم موضوعات

اس کے برعکس بی جے پی کی توجہ وزیر اعظم نریندر مودی کی کارکردگی پر رہی۔ ان کے انتخابی منشور میں تو دہلی کے مسائل پر توجہ دی گئی تھی، لیکن انتخابی مہم کے دوران مقامی موضوعات پر بہت کم بات کی گئی، ہندو مسلم اختلافات، شہریت کا متنازعہ قانون، شاہین باغ احتجاج، دیش کے غداروں کا ذکر، بی جے پی کے رہنماﺅں نے دھمکیاں اور گالیاں زیادہ دیں۔ بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم میں شہریت کے متنازعہ قانون کیخلاف ہونیوالے احتجاج خصوصاً شاہین باغ میں جاری دھرنے اور احتجاج کو بنیاد بنا کر نفرت انگیز اور منفی مہم چلائی، شاہین باغ میں جاری مظاہرے کو بی جے پی نے ملک دشمنی اور غداری قرار دیا، لوگوں کو بتایا گیا کہ اگر عام آدمی پارٹی جیت گئی تو پورا دہلی شاہین باغ بن جائے گا۔

انتخابات میں مسلمانوں کیخلاف اخلاقیات سے گری نعرے بازی

کئی رہنماﺅں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ الیکشن جیتنے کے بعد شاہین باغ والوں کے گھروں میں گھس کر انہیں اٹھا لے جائیں گے۔ بی جے پی کی انتخابی مہم میں مسلمانوں کے خلاف پہلی بار اس قدر کھل کر نفرت کا اظہار کیا گیا، جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا، حالانکہ اترپردیش کے عام انتخابات اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں بھی مسلمانوں کے خلاف نعرے لگائے گئے، مگر وہ اتنے غلیظ اور اخلاق سے گرے ہوئے نہیں تھے، جو نئی دہلی کے انتخابات میں بی جے پی کے رہنماﺅں کے منہ سے سنے گئے۔ اہلِ دہلی واضح پیغام

عام آدمی پارٹی کی بہترین انتخابی پالیسی

اروند کیجریوال نے انتخابات سے پہلے ہی سیاسی تنازعات اور متنازعہ معاملات میں پڑنے سے گریز شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے بی جے پی کے سیاسی حملوں اور شاہین شاغ کے جال سے بچنے کےلئے مثبت رویہ اپنایا۔ انہوں نے شاہین باغ، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی اور جے این یو جیسے مقامات کا دورہ کرنے سے بھی گریز کیا۔ عام آدمی پارٹی کے انتخابی منشور میں دہلی کے مسائل پر توجہ دی گئی، دوسری طرف بی جے پی نفرت کی بنیاد پر الیکشن جینا چاہتی تھی یہ حکمت عملی نریندر مودی اور امیت شا گجرات میں استعمال کرتے رہے ہیں، مگر انتخابی نتائج نے بتا دیا کہ دہلی والوں نے گجرات کی سیاست کا یہ انداز قطعاً اور یکسر مسترد کر دیا۔

دہلی کے عوام اور کیجریوال کی سابقہ حکومت

de6

کیجریوال کی حکومت نے سرکاری سکولوں، ہسپتالوں، محلہ کلینکوں اور گورننس کے شعبے میں اچھا کام کیا، جس کا اعتراف کیجریوال کے مخالفین بھی کرتے ہیں، خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں وہ سب سے کامیاب وزیراعلیٰ ہیں۔ انہوں نے دہلی کے سکولوں کی حالت بدل کر رکھی دی ہے، دہلی کے بیشتر عوام کیجریوال کی حکومت کی کارکردگی سے خوش ہیں، اِس لئے انہوں نے بی جے پی کے مستقبل کے وعدوں کی بجائے موجودہ حقیقتوں کو فوقیت دی، عام آدمی پارٹی کو سب سے بڑی حمایت کچی آبادیوں سے ملتی ہے۔ ان کچی بستیوں میں تقریباً 50 لاکھ لوگ رہتے ہیں ان کی حمایت جیتنے کےلئے مودی حکومت نے بڑے پاپڑبیلے، قانون بھی منظور کیا، مگر پھر بھی وہ ان لوگوں کا دِل نہ جیت سکے- اہلِ دہلی واضح پیغام

کوما میں چلی گئی جمہوریت اور بھارت کے مستقبل کی سیاست

دلی کے غریب طبقے کو شاہد اندیشہ تھا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے انہیں شہریت ثابت کرنے کےلئے بہت ساری دستاویزات دینا پڑیں گی، اس ڈر نے بھی بہت سے ووٹرز کو بی جے پی کی طرف جانے سے روکا۔ دہلی کی اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی کی شکست سے اگرچہ مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر براہِ راست کوئی اثر نہیں پڑا، مگر بھارتی جمہوریت پر اس کے بہتر اثرات مرتب ہوں گے- کیونکہ بی جے پی کی عام انتخابات میں کامیابی اور سیکولر جماعتوں کی ناکامی سے وہ کوما میں چلی گئی تھی۔
مستقبل میں لگ رہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں سیکولر نہ انتہاپسند بلکہ معتدل سیاسی پارٹیوں جن میں عام آدمی فی الحال سرفہرست نظر آتی ہے کے ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے امکانات روشن ہیں،اگر عام آدمی پارٹی نے اپنی سابقہ کارکردگی کو برقرار رکھنے سمیت اس میں مزید اضافہ کیا تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ مرکز میں ایک پاور گروپ کے طور پر سامنے نہ آ سکے-

عام آدمی پارٹی کے اقدامات اور اہل دہلی کی دانشمندی

عام آدمی پارٹی نے دہلی میں اپنے پانچ سالہ اقتدار میں عوامی فلاح کے بے شمار کام کئے، ان اقدامات کے تحت اس وقت دہلی کے لوگوں کو پانی اور بجلی کی مفت سہولت میسر ہے، جبکہ خواتین دہلی حکومت کی بسوں میں مفت سفر کرتی ہیں، اس کیساتھ ساتھ صوبائی حکومت نے محلہ کلینک کے نام سے شفاخانے کھولے ہیں، جہاں شہریوں کو مفت ادویات ملتی ہیں۔ دارالحکومت دہلی کو خصوصی انتظامی حیثیت حاصل ہے، یہاں کی صوبائی حکومت کے پاس دوسری صوبائی حکومتوں جتنے اختیارات نہیں ہیں۔ یہاں پولیس کا محکمہ بھی مرکزی وزارتِ داخلہ کے تحت آتا ہے۔ اہلِ دہلی واضح پیغام

اہل بھارت کو دہلی کے عوام ہی کی تقلید کرنا ہوگی

اصل انتظامی سربراہ لیفٹیننٹ گورنر ہوتا ہے، جس کی تقرری مرکزی حکومت کرتی ہے اسی وجہ سے بیشتر معاملات پر دہلی حکومت اور مرکز کے درمیان ٹکراﺅ کی صورتحال رہتی ہے۔ اس ٹکراﺅ کی صورتحال میں اب مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن نئی دہلی کے عوام نے ارباب اختیار ہی کو نہیں پورے بھارت کے عوام کو پیغام دیدیا ہے کہ اگر وہ حقیقی معنوں میں “میرا بھارت مہان” دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں نئی دہلی کے عوام ہی کی تقلید کرنا ہوگی، ورنہ ہندوستان کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں بلکہ وہ خود ہی اپنی موت آپ مر جائیگا-

یہ بھی ضرور پڑھیں : بھارت کی اندرونی حالت اور شیخو جی

اہلِ دہلی واضح پیغام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply