اگلی بڑی جنگ یکسر مختلف ہو گی، حالات کا تعین کرنا مشکل، سربراہ پینٹاگون

اگلی بڑی جنگ یکسر مختلف ہو گی، حالات کا تعین کرنا مشکل، سربراہ پینٹاگون

Spread the love

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) اگلی بڑی جنگ مختلف

امریکی وزیر دفاع نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل کے ممکنہ تنازعات کی صورت

ماضی سے بالکل مختلف ہو گی۔ ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ

مستقبل کے حالات کا تعین کرنا فی الوقت بہت مشکل ہے۔ امریکی وزارتِ دفاع کے

سربراہ نے واشنگٹن سے کہا وہ سائبر اور اسپیس خطرات کا اندازہ لگاتے ہوئے

جدید ٹیکنیکل اور ڈیجیٹل اختراعات کو دفاعی معاملات میں بھرپور انداز میں

استعمال کرے۔

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

مقامی میڈیا کے مطابق لائیڈ آسٹن نے اپنی تقریر میں مزید بیان کیا کہ نئے دور کی

عسکری ضروریات میں کوانٹم کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر کی جدید

مہارت کا استعمال شامل ہو سکتا ہے اور ان سے دفاعی ریسپونس کی رفتار بھی

انتہائی تیز ہو گی۔ اسی ریسپونس میں اجتماعی ڈیٹا کا حصول اور اس کی شیئرنگ

بھی شامل ہو گی۔ چینی افواج میں تیز رفتاری سے جدیدیت متعارف کرانے کے

خدشات اور ممکنہ جارحانہ رویوں کے تناظر میں امریکی وزیر دفاع نے واضح

کیا کہ اب اس تاثر میں رہنا درست نہیں کہ امریکا دنیا کی سب سے باصلاحیت

مسلح افواج رکھتا ہے اور ایسے حالات میں جب مخالف قوتیں اپنی طاقت کی دھار

کو تیز سے تیز تر کرنے میں مصروف ہوں۔

=قارئین=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

میڈیا کے مطابق اپنی تقریر میں پینٹاگون کے سربراہ نے چین کا نام تو نہیں لیا،

مگر امریکی وزیر دفاع نے صدر جو بائیڈن کی طرف سے خارجہ امور میں

سفارتی عمل کو بنیادی حیثیت دینے کے عمل کو کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ

امریکی فوج کی قوت ملکی سفارت کاروں کو کسی بھی تنازعے میں ممکنہ

اضافے اور خطرے کی شدت کو کم کرنے میں مددگار دے گی۔

اگلی بڑی جنگ مختلف

Leave a Reply