اٹھارویں ترمیم میں بہتری ، صدارتی نظام کی تکرارآخر کیوں؟

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(تجزیاتی رپورٹ جے ٹی این آن لائن)

صدر ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے اٹھارہویں ترمیم بہتر ہو سکتی ہے، ختم نہیں

کی جائے گی،پارلیمینٹ میں بحث ہونی چاہئے، متعلقہ آئینی ترمیم میں صوبوں کے

اتفاق رائے ہی سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے، حال ہی میں وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں

صدارتی نظام اسلامی نظام کے زیادہ قریب ہے۔ وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے

بھی کہا ہے اٹھارہویں ترمیم ختم نہیں کی جا رہی۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری مسلسل کہہ رہے ہیں وفاقی

حکومت اٹھارہویں ترمیم ختم کرنے کی تیاری کر چکی ہے اور اُن کے خلاف

بنائے گئے مقدمات کا خفیہ مقصد یہی ہے کسی طرح ایسے حالات پیدا کر دیئے

جائیں کہ یہ آئینی ترمیم ختم ہو سکے، ملک کے بعض سیاستدان اور دانشوروں کا

ایک حلقہ صدارتی نظام کی حمایت میں بھی مہم چلائے ہوئے ہے۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم ہو یا کوئی بھی دوسری ترمیم، یہ اب آئین کا حصہ بن چکی

ہیں اور پارلیمینٹ نے دوتہائی اکثریت کے تحت اِن تمام ترمیموں کی منظوری دی

ہوئی ہے،ان ترامیم پر اگر حکومت یا کسی سیاسی جماعت کو اب اعتراض ہے تو

اِن ترامیم میں مزید ترمیم کر لی جائے یہ سب کچھ آئین میں طے شدہ طریق ِ کار

کے مطابق ہی ہو سکتا ہے اور پارلیمینٹ کے فلور پر ہی طے پا سکتا ہے،

اٹھارہویں ترمیم سے ملک اور صوبوں کو کیا فائدہ ہوا اور اس کے کیا کوئی ایسے

منفی پہلو بھی ہیں، جن کا جاری رہنا ملک اور صوبوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ یہ

سارے معامات پارلیمینٹ میں زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔ صدرِ مملکت نے اس

ترمیم کو بہتر بنانے کی جو بات کی ہے وہ بھی تشنہ ہے انہوں نے اوّل تو ایسی

کوئی تفصیلات نہیں بتائیں، جنہیں جان کر یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ اٹھارہویں

ترمیم کے کِس حصے کو بہتر بنانا مقصود ہے اور وہ کیا بہتری ہے جو لائی جائے

گی، جب تک یہ معلوم نہ ہو اِس معاملے پر کوئی رائے زنی نہیں کی جا سکتی۔البتہ

بہتری لانے کی بات سُن کر یہ رائے ضرور قائم کی جا سکتی ہے کہ حکومت

بہتری کے نام پر اس ترمیم میں بعض تبدیلیاں کرنے کے حق میں ہے، ورنہ صدرِ

مملکت کو اس معاملے پر بات کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

18ویں آئینی ترمیم میں کسی بھی ردّوبدل یا بہتری کے لئے ضروری ہے حکومت

اس سارے معاملے کو قومی اسمبلی یا سینیٹ کے روبرو رکھے اور بل کی

صورت میں ایوان زیریں یا ایوانِ بالا میں پیش کر دے، ترمیم میں جو بہتری

مقصود ہے اس کی تفصیلات بھی پارلیمینٹ میں رکھی جائیں، جب تک ایسا نہیں

کیا جاتا اُس وقت تک اِس مسئلے پر بحث برائے بحث کا کوئی فائدہ نہیں، حکومت

اور اپوزیشن دونوں اس معاملے پر سیاست تو کر سکتی ہیں، لیکن اس کا کوئی

ٹھوس نتیجہ، پارلیمینٹ کے اندر ہی نکل سکتا ہے، بعض حلقوں کو اعتراض ہے

اسمبلی کے اندر اس ترمیم پر بحث نہیں ہوئی اُن کے علم میں ہونا چاہئے کہ قائمہ

کمیٹیوں میں طویل عرصے تک اس معاملے پر بحث مباحثہ ہوتا رہا اور ایک ایک

شق پر طویل غور کے بعد ترمیمی مسودے کو حتمی شکل دی گئی تھی، کوئی بھی

بل منظوری سے پہلے قائمہ کمیٹیوں کے پاس ہی جاتا ہے اور دیکھا یہی گیا ہے

جو بل قائمہ کمیٹی منظور کر لے وہ اسی شکل میں قومی اسمبلی سے منظور ہو

جاتا ہے اب اس پر یہ سوال اٹھانا کہ پارلیمینٹ میں بحث نہیں ہوئی،معاملے کو ڈی

ٹریک کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ اس طرح تو بہت سے ایسے قوانین نکل آئیں

گے جو ایوان میں کسی بحث کے بغیر منظور ہو گئے اور اُن پر آج تک کسی نے

اعتراض نہیں کیا، اگر صرف بحث نہ ہونے یا تفصیلی بحث نہ ہونے کی دلیل کی

بنیاد پر کسی مسودۂ قانون یا آئینی ترمیم پر اعتراض کیا جا سکتا ہے تو پھر یہ

معاملہ بڑی دور تک جا سکتا ہے، کیونکہ ماضی میں بہت سے قوانین عجلت ہی

میں منظور کرائے گئے، ایسا کیوں ہوتا ہے اور عجلت میں قانون سازی کی

ضرورت کیوں پیش آئی ہے اس پر تفصیلی بحث تو ہم کسی دوسرے موقع پر اُٹھا

رکھتے ہیں،لیکن کوئی بل بحث کے ساتھ منظور ہو یا بحث کے بغیر، اس کی

قانونی و آئینی حیثیت یکساں ہوتی ہے، زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، حال ہی

میں بجٹ2018-19ء میں ترمیم کا بل بھی کسی بحث کے بغیر ہی منظور ہوا تھا

کیا اس پر حکومت کے کسی رُکن نے اعتراض کیا؟ اور کیا اس پر اسی طرح عمل

نہیں کیا جا رہا جس طرح بحث کے بعد منظور ہونے والے بلوں پر کیا جاتا ہے۔

قومی اسمبلی میں حکومت کو حلیف جماعتوں سے مل کر معمولی اکثریت حاصل

ہے، وہ سادہ اکثریت سے اب تک غالباً چھ مسوداتِ قانون منظور کرا سکی ہے جو

آٹھ ماہ میں کوئی اچھی کارکردگی نہیں، ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا وہ

’’اٹھارہویں ترمیم کو بہتر بنانے کے لئے‘‘ آئینی ترمیم کا بل منظور کرا سکتی

ہے، اس کے لئے ضروری ہے حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے

درمیان قومی اسمبلی میں ایسی ورکنگ ریلیشن شپ ہو کہ مخالف جماعتیں کسی بل

پر تعاون پر تیار ہو جائیں،لیکن نہ صرف یہ کہ ایسا نہیں ہے،بلکہ دور دور تک

کوئی امکان بھی نظر نہیں آتا کہ حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان کوئی بہتر

تعلقات کا ر قائم ہوں گے، کیونکہ جس طرح کی فضا بن چکی ہے اور جس طرح

کی بیان بازیاں ہو رہی ہیں اُن کی موجودگی میں جلتی آگ پر تیل تو ڈالا جا سکتا

ہے اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے پانی نہیں انڈیلا جا سکتا،تعلقات کی اسی ناہمواری کا

نتیجہ ہے کہ سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے دو ارکان کے تقرر کے

لئے وزیراعظم اور قائد ِ حزبِ اختلاف کے درمیان بامعنی مشاورت ہی نہیں ہو

رہی، جو آئینی ضرورت ہے خط کتابت کا راستہ البتہ اختیار کیا گیا ہے اور اگر

’’بامعنی مشاورت ‘‘کے بغیر ارکان کا تقرر ہوا تو یہ غیر آئینی تصور ہو گا اور

اگر یہ معاملہ اعلیٰ عدالتوں میں چلا جائے تو وہاں سے اس کی توثیق ہونا مشکل

ہے، ایسے میں حکومت حزبِ اختلاف سے تعاون کی امید کیسے کر سکتی ہے؟

حکومت کو کِسی بھی آئینی ترمیم پر حزبِ اختلاف کا تعاون اسی صورت مل سکتا

ہے جب دونوں کے درمیان اگر اچھے نہیں تو معمول کے تعلقات ہی قائم ہوں،لیکن

یہاں تو کہا جا رہا ہے مودی سے بات ہو سکتی ہے، کرپٹ لوگوں سے نہیں،

حالانکہ یہ فیصلہ ابھی ہونا ہے کرپٹ کون ہے اور کون نہیں،ایسے میں حزبِ

اختلاف سے تعاون کے لئے رابطوں کا تو بظاہر کوئی سوال ہی نہیں، اِس لئے اگر

کسی وقت اٹھارہویں ترمیم کی بہتری کے لئے کوئی ترمیمی بل اسمبلی میں لایا گیا

تو دوتہائی اکثریت سے اس کی منظوری کا تو خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا ،

سینیٹ میں تو حکومت کی پوزیشن اقلیتی جماعت کی سی ہے۔ مسلم لیگ(ن) اور

پیپلزپارٹی دونوں سینیٹ کی بڑی جماعتیں ہیں اُن کے تعاون کے بغیر تو معمول

کی قانون سازی نہیں ہو سکتی، آئینی ترمیم کیسے ہو سکتی ہے، اِس لئے اس باب

کو تو فی الحال بند ہی سمجھا جا نا چاہئے اور حکومت کے ذہن میں بہتری کا اگر

کوئی منصوبہ ہے بھی تو اسے پارلیمینٹ سے منظور کرانا ممکن نہیں۔

جہاں تک صدارتی نظام کا تعلق ہے اگرچہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ اسلامی

نظام حکومت کے زیادہ قریب ہے، معلوم نہیں انہوں نے یہ نتیجہ کہاں سے نکال

لیا،کیونکہ اسلام کے ابتدائی دور میں تو خلافت ِ راشدہ کا نظام تھا، چاروں خلفائے

راشدین کی نامزدگیاں کِس طریقے سے ہوئیں اور بیعت کے لئے کیا طریق ِ کار

اختیار کیا گیا،اس کی ساری تفصیلات تاریخ میں محفوظ ہیں، بعد میں یہ خلافت،

بادشاہی میں تبدیل ہوتی گئی اور برصغیر میں غلامی کے دور کے آغاز سے پہلے

بھی یہاں مسلمان بادشاہ ہی صریر آرائے سلطنت تھے، آج بھی پوری دُنیائے سلام

میں بادشاہتیں ہیں یا امارتیں، صحیح معنوں میں جدید جمہوری نظام بہت کم ممالک

میں موجود ہے اور جہاں ہے وہاں کے عوام بھی اسے پورا جمہوری نظام ماننے

کے لئے آمادہ نہیں ہیں، ایسے میں صدارتی نظام کی اسلام سے ’’قربت‘‘ کی نئی

بحث چھیڑنے کی چنداں ضرورت ہی نہیں تھی،لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے جن

مسائل نے پاکستانی قوم کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے اُن سے نجات کا تو

حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں، ایسے مَیں ’’اٹھارہویں ترمیم کو بہتر

بنانے‘‘ اور ’’صدارتی نظام کی اسلام سے قربت‘‘ کی باتیں کر کے عوام کی

توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صدارتی نظام کی برکتیں تو مُلک نے بہت

دیکھیں، بلکہ بھگتی ہیں، اِس لئے بہتر ہے جو نظام چل رہا ہے اسی کو بہتر بنانے

کی کوشش کی جائے اور قوم کو الجھانے سے گریز کیا جائے، لیکن اس کے لئے

شرط اول جمہوری رویہ ہے، آمرانہ سوچ سے مسائل حل نہیں ہوتے مزید الجھ

جاتے ہیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply