atta flourr

آٹا بحران ،لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، چکی مالکان ،کریانہ مرچنٹس نے ہڑتال کر دی

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے آٹا کے بحران اورگندم کی قیمتوں

میں اضافے کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو

نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیاجبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری

،سیکرٹری خوراک پنجاب اور ڈائریکٹرسٹیٹ بینک کو حکم دیاہے کہ وہ آئندہ تاریخ

سماعت پر خود پیش ہوکر معاملے کی وضاحت کریں۔چیف جسٹس لاہور ہائی

کورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کی طرف سے

دائر اس درخواست کی سماعت کل 24جنوری پر ملتوی کرتے ہوئے مذکورہ حکام

سے وضاحت طلب کی ہے کہ آٹا کابحران کیسے پیداہوااوراس کا ذمہ دار کون ہے

؟فاضل جج نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ آگاہ کیا جائے یہ بحران کس نے پیدا کیا

ہے ،درخواست گزار کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت نے چار لاکھ

میٹرک ٹن گندم برآمدکرنے کی اجازت دی اوراس پربھاری ریبیٹ دیا گیا،گندم

29روپے فی کلو کے حساب سے ایکسپورٹ کی گئی اورایک میٹرک ٹن گندم کی

ایکسپورٹ پر 55ڈالر ریبیٹ دیا گیا،اب گندم درآمد کرنے کی منصوبہ بندی کی

جارہی ہے ،گندم کا بحران خودساختہ ہے ،حکومت کی طرف سے مافیا کوکھلی

چھوٹ دی گئی ہے،عنقریب چینی کا بحران بھی پیدا ہونے والا ہے،درخواست میں

آٹا کے بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم جاری کرنے کی استدعا

کی گئی ہے ،درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ گندم کی قیمتوں میں

اضافہ کے خاتمہ کے لئے حکومت کو اقدامات کرنے کاحکم جاری کیا جائے،اس

کیس کی مزید سماعت24جنوری کو ہوگی۔شہر میں آٹے کا بحران برقراررہا، بیشتر

مارکیٹوں اور بازاروں میں آٹے کا بیس کلوکا تھیلا دستیاب نہیںہے، جبکہ کھلا آٹا

مارکیٹ میںساٹھ جبکہ چکی کا آٹا ارسٹھ سے ستر روپے فی کلومیں ہی فروخت ہوتا

رہا ۔ دوسری جانب آٹا چکی مالکان نے ضلعی انتظامیہ کے کریک ڈاؤن کے خلاف

غیرمعینہ مدت کے لیے ہڑتال کردی۔حکومت شہرمیں آٹا بحران پرقابو نہ پا سکی،

شہریوں کو مارکیٹ میں آٹے کا بیس کلو کا تھیلا دستیاب نہیں جبکہ کھلا آٹا ساٹھ

روپے فی کلومیں ہی فروخت ہوتا رہا،اورچکی کا آٹاستر روپے فی کلو فروخت ہوا

جس کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے کریک ڈائون شروع کر دیا اور مختلف علاقو ں

میں چھاپے مار کر چھ چکی انرز کو گرفتار کر لیاجس کے خلاف لاہورآٹا چکی

اونرز نے ہڑتال کر دی اور لاہور بھر کی چکیاں بند کر دیں ضلعی انتظامیہ نے

ہڑتال کے دوران ہی علان کر دیا ہے کہ چکی مالکان کوسرکاری کوٹہ سے گندم

فراہم کردی ہے جس کے بعدمالکان کو فی کلو آٹا پینتالیس روپے میں فروخت

کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔چکی مالکان ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ

ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر کریک ڈاؤن بھی شروع کر دیاہے، اس

وجہ سے آٹا چکی مالکان نے غیرمعینہ مدت کے لیے ہڑتال کر دی، شہریوں کا

کہنا ہے کہ حکومت مارکیٹوں اور بازاروں میں آٹے کی فراہمی یقینی بنائے۔

دوسری طرف آٹا چکی مالکان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ انہیں روزانہ آٹے کی

سوکلو کی پانچ بوریاں فراہم کرنے کے لیئے تیار ہے، لیکن انہیں اس بات کی یقین

دہانی نہیں کرائی گئی کہ سرکاری گندم کہاں سے فراہم کی جائے گی۔شہریوں کا

کہنا ہے کہ حکومت نے انہیں منافع خور اور ذخیرہ اندوز مافیا کے رحم و کرم پر

چھوڑ دیا ہے، عوام کوکوئی ریلف نہیں دیا جارہا۔چکی مالکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ

ہمارے چھ مالکان کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے خلاف ہم نے ہڑتال کی ہے ۔

آٹاچکی اونرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل عبدالرحمن نے بتایا کہ ہم غیر

معینہ مدت کے لیے چکیاں بند کر رہے ہیں، چکی مالکان کو آٹا 60 روپے فی کلو

فروخت کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے، انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات ہونے کے

باوجود چھاپیمارے گئے اور تعاون کے باجود ہمارے خلاف کریک ڈان کیا گیا۔

عبدالرحمان نے کہا کہ ہمارے ارکان پر مقدمات درج کرکے انہیں ہراساں کیا گیا،

پولیس ایف آئی آرز کی نقول فراہم نہیں کر رہی اور تھانے جانیوالے ہمارے ممبران

کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے۔کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے بھی چکی مالکان

کیساتھ ہڑتال میں شریک ہونے کا اعلان کردیا۔ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضال نے

کہا کہ آ ٹا چکی ایسوسی ایشن لاہور رائے ونڈ کے صدر و جنرل سیکرٹری نے

شہر میںچکی کاآٹا 45 روپے فی کلو میں فروخت کر نے کا باقاعدہ طور پر اعلان

کر دیا ہے اور شہریوں کو45روپے فی کلو میں چکی کا آٹا دستیاب ہو گا۔ادھر آٹا

بحران حل کرنے کے لئے پنجاب حکومت نے لاہور سمیت پنجاب کے چار بڑے

شہروں میں آٹا چکیوں کو سرکاری گندم فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے

مطابق فیصل آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالہ کی بڑی آٹا چکیوں کو بھی گندم دی

جارہی ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply