آمروں کا مقابلہ کیاعمران خان کیا چیز ، ہماری زبان بندی نہیں کی جاسکتی،بلاول

Spread the love

نوابشاہ،(سٹاف رپورٹر)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ

ایوب،ضیاء اور مشرف کی آمریت کا مقابلہ کیا یہ عمران خان کیا چیزہے،ہماری

زبان بندی نہیں کی جاسکتی،نیب پرویزمشرف کی باقیات ہے،کرپٹ لوگوں

کوپکڑیں،کرپشن ختم کریں مگرہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،کرپشن

ختم کرنی ہے توایسا ادارہ بنانا پڑے گا جہاں تمام پاکستانیوں کیلئے ایک ہی قانون

ہو۔انہوںنے واضح کیا ہے کہ پیپلزپارٹی کوئی تحریک نہیں چلا رہی ہے،یہ لانگ

مارچ نہیں صرف ٹرین مارچ ہے اور ایک سفر ہے مگر تحریک انصاف کی

حکومت اس سے بھی خوفزدہ ہوگئی ہے اور وزیراعظم ہائوس سے چیخیں آنا

شروع ہوگئی ہیں،انہوں نے کہا ہے کہ کوئی نیازی صاحب کو سمجھائے کہ

معیشت چندے سے نہیں چلتی، نواز شریف اور شہباز شریف کو مبارکباد دیتا

ہوں،یہ کیا سمجھتے ہیں کہ نیب گردی کے ذریعے ہماری زبان بند کرسکتے ہیں؟

پاکستان پیپلزپارٹی کو احتساب سے کوئی اعتراض نہیں ہے،کرپٹ لوگوں کو پکڑیں

اور احتساب کریں۔انہوں نے کہاعمران خان اور نواز شریف کی معاشی پالیسیاں

ایک ہی ہیں۔دونوں جماعتیں امیر کو امیر تر بنانے کی پالیسی اپناتی ہیں،پاکستان

پیپلزپارٹی لیفٹ سینٹر کی جماعت ہے اورغریب کی بات کرتی ہے جب کہ دیگر

سیاسی جماعتیں دائیں بازو کے مائنڈ سیٹ کی حامل ہیں، پیپلزپارٹی کو کمزور کر

کے سندھ تک محدود کرایا گیا۔نواب شاہ میںمیڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہاکہ

ہم تو سمجھتے ہیں کہ ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور اتنا خوف دکھانے کی

ضرورت نہیں ہے لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی مانتا ہوں کہ جب حکومت صرف چھ

ووٹوں پر بنی ہوئی ہو تو عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔خان صاحب کہتے رہے کہ

بھیک نہیں مانگیں گے،خان صاحب کہتے تھے خودکشی کریں گے مگرآئی ایم ایف

سے قرضہ نہیں لیں گے،خان صاحب جس ملک میں جاتے ہیں چندہ اوربھیک

مانگتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مینگل صاحب نظریاتی اور سینئر سیاستدان ہیں۔ انہوں

نے یاد دلایا کہ ان کے چھ پوائنٹس ہیں۔ حکومت سے اس کے اتحادی ناراض ہیں

اور اگر اتحادیوں کے مطالبات پورے نہیں ہوں گے تو حکومت نہیں چل سکے گی۔

ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نیب سے شروع ہوتی ہے

اور نیب پرختم ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ حکومت کو نیب ہی چلاتی ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ سیاستدانوں کے ساتھ سب کا احتساب ہونا چاہیے

لیکن پرویز مشرف کا نیب قانون ختم کرنا ضروری ہے۔بلاول بھٹو نے زور دیا کہ

احتساب کے لیے نیا ادارہ بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاک فوجی عدالتیں

کامیاب نہیں ہوئیں۔عدالتی سسٹم کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا

کہ سیاست میں آنے کے دس سال بعد تک مجھ پر کوئی الزام نہیں لگا لیکلن اب

میری کردار کشی کی جا رہی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ زبردستی مذہب تبدیل

کرانے کی مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سندھ اسمبلی نے بل منظور کیا

تھا لیکن سابق گورنر کی وجہ سے وہ قانون نہ بن سکا۔

Leave a Reply