آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ،نیب نے خورشید شاہ کو گرفتار کر لیا

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی احتساب بیورو(نیب) نے پاکستان پیپلزپارٹی کے

رہنما سید خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا۔نیب کی جانب سے جاری کئے گئے ایک

بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ سید خورشید شاہ کو آمدن سے اثاثہ جات کیس میں

گرفتارکیا گیاہے ، انہیں ریمانڈ کیلئے آج متعلقہ احتساب عدالت میں پیش کیا

جائیگا۔ذرائع کے مطابق سید خورشید شاہ کو نیب راولپنڈی کی ٹیم نے اسلام آباد

کے علاقے بنی گالہ سے حراست میں لیا۔ خورشید شاہ کیخلاف 7 اگست سے

تحقیقات کا آغاز ہوا تھا، ان پر کوآپریٹو سوسائٹی میں بنگلے کیلئے پلاٹ غیر

قانونی طور پر اپنے نام کرانے کا الزام ہے۔نیب ذرائع کے مطابق خورشید شاہ نے

ہوٹل، پیٹرول پمپس اور بنگلے فرنٹ مین اور بے نامی داروں کے ناموں پر بنائے،

خورشید شاہ کو راہداری ریمانڈ لیکر سکھر منتقل کیا جائے گا۔خورشید شاہ کے

ملازم نے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ تقریبا بیس کے قریب لوگ

گھر آئے اور خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا ، انہوں نے بتایا کہ نیب اور پولیس حکام

نے مجھے خورشید شاہ سے بات تک کرنے نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ بیس لوگوں

نے ہمیں موبائل تک نہیں نکالنے دیا اور یہی بیس لوگ خورشید شاہ کو اپنے ساتھ

لے گئے۔پاکستان پیپلزپارٹی نے کے رہنمائوںنے سید خورشید شاہ کی گرفتاری کو

اپوزیشن کیخلاف حکومت کی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید

مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت نے سید خورشید شاہ کو گرفتار کر کے بہت

ہی غلط قدم اٹھایا ہے، اگر کوئی تحقیقات بھی تھیں تو خورشیدشاہ ملک سے بھاگے

تو نہیں جا رہے تھے۔۔پی پی رہنما ء شیری رحمان نے کہا کہ سپیکر کو اطلاع

دیئے بغیر خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے، اس ملک میںکس کا قانون چل رہا

ہے؟۔وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ خورشید شاہ کی

گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں، بہت سارے وفاقی وزراء پر انکوائریز چل

رہی ہیں لیکن ان کو گرفتار نہیں کیا جاتا، جو بھی حکومت پر تنقید کرتا ہے اس کو

گرفتار کرلیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس شخصیت کا بھی تعلق اپوزیشن سے

ہوتا ہے اس کو گرفتار کرلیا جاتا ہے، پیپلز پارٹی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا

رہا ہے لیکن اس طرح کے احتساب سے پیپلز پارٹی کو نہیں ڈرایا جاسکتا۔مئیر

کراچی وسیم اختر کے مشیر کو بھی کرپشن کے الزامات پر گرفتار کرلیا گیا۔ نیب

کی کمبائن انویسٹی گیشن ٹیم نے لیاقت علی خان کو گرفتار کیا۔لیاقت علی خان کے

ایم سی کے سابق ڈائریکٹر جنرل پارکس اور اس وقت مئیر کراچی کے مشیر ہیں۔

لیاقت علی سابق گورنر عشرت العباد کے بھی قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے لیاقت علی سے 2 ارب کی کرپشن سے متعلق پوچھ

گچھ کا آغاز کر دیا ہے۔گرفتار ملزم کے دس ارب کے اثاثوں کے بارے میں بھی

سوالات کیے جا رہے ہیں۔ ملزم کو راہداری ریمانڈ پر اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔

دریں اثناگرفتاری سے کچھ دیر پہلے اپنی رہائشگاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے

ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں حکومت مزید نہیں چل سکتی۔

لاک ڈاون سے متعلق پیپلز پارٹی عوامی امنگوں کے مطابق فیصلہ کرے گی۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ابھی دلی دور ہے، پیپلز پارٹی بہتر فیصلہ کرے گی۔

حکومت خود حالات ایسے پیدا کر رہی ہے، جو اتفاق نہیں، وہ بھی ہو جائے گا۔

ہماری کوشش ہے پارلیمنٹ 5 سال پورے کرے لیکن کیسے پورا کرے گی، یہ بیٹھ

کر سب کو سوچنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 149 کا کچرے پر

استعمال نہیں ہو سکتا۔ وفاق صوبائی حکومت کی مدد کرے۔ بہانے سے آرٹیکل کے

نفاذ سے وفاق کمزور ہوگا۔ دشمن سر پر بیٹھا ہے ایک ہی جھٹکے میں ملک تباہ

کر دے گا۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا رواج عمران خان نے خود ڈالا جو کنٹینر

پر چڑھ کر سیاسی اقدار بھول گئے اور ابھی تک وہاں سے نہیں اترے۔ پیپلز پارٹی

رہنما کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت جنگی حالات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ بارڈر

پر جنگ کی صورتحال ہے۔دوسری طرفقومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین

جسٹس (ر)جاوید اقبال نے خورشید شاہ کی گرفتاری کے بعد ایک اہم بیان دیا ہے

جس میں انہوں نے کہا ہے کہ کرپشن مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ترجیح

ہے۔چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ

نیب کا ہر کیس کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ بدعنوان عناصر کیخلاف قانون کے

مطابق بلا امتیاز کارروائیاں کر رہے ہیں۔چئیرمین نیب نے کہا کہ بیان بدعنوانی

دیمک سے بڑھ کر ناسور ہے، اس کا علاج صرف سرجری ہے، کرپشن مقدمات

کو منطقی انجام تک پہنچانا ترجیح ہے۔

Leave a Reply