76

آزادی مارچ کی آج اسلام آباد انٹری، مولانا نے دھرنے کا عندیہ بھی دیدیا

Spread the love

اسلام آباد،گوجرانوالہ،لاہور(جتن آن لائن سٹاف رپورٹرز ) آزادی مارچ

کراچی سے شروع ہونیوالا جمعیت علما اسلام (ف) کا آزادی مارچ لاہور میں رات قیام کے بعد اسلام آباد کیلئے روانہ ہو کر گوجر خان پہنچ گیا جہاں اس نے رات کا قیام کیا اور آج اسلام آباد کی طرف روانہ ہوکر اپنی منزل مقصود پر پہنچے گا-

یہ بھی پڑھیں : کنٹینرز، رکاوٹیں ہٹالی گئیں، آزادی مارچ پنجاب میں داخل

ملتان سے گزشتہ روز لاہور پہنچنے پر مارچ کے شرکا نے آزادی چوک (مینار پاکستان) پر قیام کیا، بدھ کے روز آزادی مارچ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کیلئے روانہ ہوا، جہاں مارچ کے استقبال کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں نے ٹھوکر نیاز بیگ چوک، چوک یتم خانہ، موڑ سمن آباد، چوبرجی، داتا صاحب، آزادی فلائی اوور اور نیازی شہید چوک میں استقبالیہ کیمپ لگائے تھے۔

جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ،شرکا آزادی مارچ کا استقبال

اسلام آباد کے راستوں میں مختلف مقامات پر حلیف جماعتوں کے استقبالیہ کیمپوں پر سستاتے ہوئے ساری رات رواں دواں رہے اور گوجر خان میں آخری پڑاؤ کیا- آج زادی مارچ کے شرکا اسلام آباد پشاور موڑ جہاں جلسہ گاہ بنائی گئی ہیں وہاں پہنچ کر موجودہ حکومت کے سامنے اپنے مطالبات پیش کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائےگا-

روات میں (ن) لیگ، پی پی پی اور جے یوآئی (ف) کے استقبالیہ کیمپ

پاکستان مسلم لیگ(ن)، پاکستان پیپلزپارٹی اور جے یو آئی(ف) کے بڑے استقبالیہ کیمپ روات ٹی چوک پر قائم ہیں جہاں سے قافلہ اسلام آباد میں داخل ہوگا۔ آزادی مارچ کے شرکا کی روات آمد پر استقبال کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں- آزادی مارچ کے شرکا ٹی چوک میں شام تک قیام کریں گے اور پھر اسلام آباد میں داخل ہوکر پشاور موڑ پہنچیں گے-

آزادی مارچ قومی تحریک بن چکا، نواز، زرداری کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں

لاہور سے اسلام آباد روانگی سے قبل اور بعد ازاں راستے میں تمام اہم شہروں میں مارچ کے شرکا اور عوام سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ اور آزادی مارچ کے قائد مولانا فضل الرحمن نے کہا آزادی مارچ قومی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ہم اسی جذبہ سے آگے بڑھیں گے۔ ہم آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو جیل کی سلاخوں سے جلد باہر لا کر عوام میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

2018 کے الیکشن رزلٹ تسلیم کئے نہ کرتے ہیں، موجودہ حکومت ناجائز

مولانا فضل الرحمن نے ملک بھر کے تاجروں کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا آزادی مارچ ملک کے ہر مظلوم طبقہ کی آواز ہے۔ ہمارا بنیادی مطالبہ یہی ہے 2018ء کے الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی جس کے نتائج ہم تسلیم نہیں کرتے، اول دن سے ہمارا موقف یہی رہا ہے ووٹ قوم کی امانت ہے اور ہم قوم کی امانت قوم کو واپس لوٹانا چاہتے ہیں، موجودہ حکومت ناجائزاور ایک سالہ کارکردگی کی بنیاد پر نااہل ہو چکی ہے۔ آج پاکستان کے عوام پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں-

عمران نیازی قوم سے کیا ایک بھی وعدہ ایفا نہیں کرسکے

موجودہ حکومت نےڈیڑھ سال میں قوم سے کیا ایک وعدہ بھی ایفا نہیں کیا بلکہ مزید مشکلات سے دوچار کیا- مغربی معیشت کے وفادار پاکستان کی معیشت کو مغرب کے ہاتھوں میں گروی رکھے ہوئے ہیں۔ عمران خان پاکستان چھوڑ دو۔ عمران خان کے ہوتے ہوئے حالات بگڑ سکتے ہیں سدھر نہیں سکتے- ملک اور جمہوریت سمیت عوام کو بچانا ہے تو عمران خان کو گھر جانا ہوگا، ورنہ پاکستان کے عوام انہیں گھر بھیج کر دم لیں گے۔ اس دوران مولانا فضل الرحمن اور صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا، جس میں مولانا نے نواز شریف کی صحت سے متعلق دریافت کیا، دونوں رہنماوں میں موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

حکومت کے خاتمے تک آزادی مارچ کو دھرنے میں تبدیل کردیں گے

مریدکے میں اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا ہم قوم کی امانت ووٹ کو عزت دلا کر واپس لوٹیں گے، اسلام کے نام پر حاصل کئے جانیوالے ملک میں اسلام کا بول بالا کرائیں گے۔ وزیر اعظم نیازی کی حکومت کے خاتمہ تک ‘آزادی مارچ’ کو آزادی دھرنا میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ ہم اپنے آئینی حق اور وطن عزیز کی حفاظت جنگ لڑ رہے ہیں۔ کامیاب آزادی مارچ پر پوری قوم کو سلام پیش کرتا ہوں آج قوم دو حق مانگ رہی ہے جو آئین پاکستان نے دیا آج آزادی مارچ میں تمام سیاسی جماعتیں شامل ہیں سب کا اتفاق ہے یہ حکومت جعلی ہے اور اسکو تسلیم نہیں کرتے-

آزادی مارچ کا نیا نعرہ -،- ایک ٹکے کے دو رخ -،- جنرل نیازی، عمران نیازی

اس موقع پرسٹیج سیکریٹری نے ایک نمایاں نعرہ لگایا ایک ٹکے کے دو رخ جنرل نیازی اور عمران نیازی، قبل ازیں نجی ٹی وی سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے کہا میں یقین سے نہیں کہہ سکتا وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں گے، اسلام آباد پہنچنے پر عوامی رائے کا احترام نہ کیا تو آزادی مارچ مزید سخت ہو گا،اسلام آباد میں ہم اپنے مطالبات رکھیں گے، ایسا نہیں اسلام آباد پہنچنے پرنتائج نہ ملنے پر تحریک رکے گی بلکہ تحریک کی کامیابی کی جدوجہد جاری رہے گی-

دھرنے کا نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، مولانا کا صحافی کے سوال پر جواب

گوجر خان پہنچنے پر شرکا آزادی مارچ نے پڑائو ڈالا اس موقع پر ایک مقامی صحافی نے سوال کیا اسلام آباد میں دھرنا ہوگا یا دوستی؟ مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا دھرنے کا نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کون کہتا ہے فضل الرحمان اسلام آباد نہیں پہنچے گا۔
آزادی مارچ

Leave a Reply