0

آئی جی صاحب بتائیں کیا پولیس کوسیدھی گولیاں چلانے کا اختیارحاصل ہے؟چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

Spread the love

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سردارمحمدشمیم خان نے سانحہ ساہیوال کیس میںجے آئی ٹی کے سربراہ کو تفصیلی رپو ر ٹ سمیت طلب کرلیا،عدالت نے آئی جی پولیس کو حکم دیا کہ وہ آئندہ تاریخ سماعت پر 4فروری کوجے آئی ٹی کے سربراہ اور متعلقہ ریکارڈ سمیت عد ا لت میں پیش ہوں۔فاضل جج نے آئی جی پنجاب پولیس کو خبردار کیا کہ مستقبل میں پورے پنجاب میں اس طرح کا واقعہ نہیں ہونا چاہیے،عدالت نے حکم دیا مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں،تمام ڈی پی اوز اورآرپی اوزکو آگاہ کر دیں اوراس سلسلے میں جو احکام جاری کئے جائیں اس کی نقل عدالت میں پیش کی جائے ۔عدالت نے مزید حکم دیا سانحہ ساہیوال کے تمام شواہد اکٹھے کرکے مقررہ مدت کے اندر چالان عدالت میں پیش کرنے کا عمل یقینی بنایا جائے،چیف جسٹس نے اس کیس کی مزیدسماعت کیلئے اپنی سربراہی میں ڈویژن بنچ بھی تشکیل دیدیا،مسٹر جسٹس صداقت علی خان بنچ کے دوسرے رکن ہوں گے ۔چیف جسٹس نے وقوعہ کے تمام گواہوں کے بیانات قلمبنداورانہیں تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ۔آئی جی پنجاب کی طرف سے عدالت کو آئندہ جعلی پولیس مقابلے نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی گئی ،جس پر فاضل جج نے حکم دیا آئی جی پنجاب کے بیان کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔شاہین پیرزادہ اور آصف ایڈووکیٹس کی طرف سے دائر ان درخواستوں کی سما عت کے موقع پر آئی جی پنجاب امجدجاوید سلیمی فاضل جج کے حکم پر عدالت میں پیش ہوئے ۔چیف جسٹس نے آئی جی پولیس سے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب یہ بڑے ظلم کی بات ہے ،مجھے بتائیں پولیس کو کیسے اختیار حاصل ہے کہ اس کے اہلکاراندھادھند سیدھی گولیاں چلا کر 4افراد کو قتل اور دو کو زخمی کردیں، ابھی تک کیا انوسٹی گیشن ہوئی ہے ۔آئی جی نے بتایا انکوائری کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دیدی گئی ہے جس کی ابتدائی تفتیش کی روشنی میں گو لیا ں چلانے والے ملزموں کو گرفتار اورسی ٹی ڈی کے متعلقہ افسروں کو معطل کر دیاگیاہے،جے آئی ٹی کی تفتیش مکمل ہوتے ہی ملزموں کا قانون کے تحت مقررمدت کے اندرچالان عدالت میں بھجوا دیا جائے گا،جس پر درخواست گزار وکلاء نے کہا 16کی بجائے 6 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے ، پو لیس گواہوں کے بیانات قلمبند نہیں کر رہی،چیف جسٹس نے آئی جی کو مخاطب کرکے کہا جو کچھ ہوا ظلم ہے،معصوم لوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں، آئی جی صاحب بتائیں انکوائری کتنے دن میں مکمل ہو گی، ٹائم بتائیں ،جس پر آئی جی نے کہا تفتیش مکمل کرنے کیلئے کم از کم 30 دن درکار ہیں،جس پر چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ میرٹ پر تفتیش کرکے ملزموں کا چالان قانونی مدت کے اندرٹرائل عدالت میں بھیجا جائے ۔دوران سماعت کمرہ عدا لت میں آئی جی پنجاب پولیس اور درخواست گزار وکلاء کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، جس پر چیف جسٹس نے مداخلت کرتے ہوئے سب کو اونچی آواز میں بات کرنے سے روک دیا۔کیس کی مزید سماعت4فروری کو ڈویژن بنچ کے روبروہوگی۔درخواست گزاروں نے سانحہ ساہیوال کے معا ملہ پر جوڈیشل ٹربیونل تشکیل دینے کی استدعا کررکھی ہے ۔

Leave a Reply