آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات پارلیمان میں پیش کی جائیں، پیپلز پارٹی

Spread the love

پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمان نے حکومت اور آئی ایم ایف معاہدے میں شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کے حکومت کے یو ٹرنز کی وجہ سے ملکی معیشت کو نقصان ہو رہا ہے کیوں کے حکومت سو بار یو ٹرن لینے کے بعد آئی ایم ایف کے کی پاس گئی ہے۔ حکومت سے پہلے اور بعد میں تحریک انصاف کے رہنماء آئی ایم ایف جانے کی تردید کرتے رہے ہیں ، عوام اور پارلیمان کو بتایا گیا آئی ایم ایف نہی جائے گے، یقین دہانی کے باوجود حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پاچکا ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آئے ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو خفیہ کیوں رکھا جا رہا ہے،حکومت آئی ایم ایف سے کتنا قرضہ لے رہی ہے اور کن شرائط پر لے رہی ہے یہ پارلیمان کو بتایا جائے ۔ یے سکیورٹی نہی معیشت کا معاملہ ہے، معاہدہ کی تفصیلات پارلیمان میں پیش کی جائے۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ملکی معیشت کو بحران میں ڈال کر آئی ایم ایف پیکج لیا جا رہا، آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکج لینا ہی تھا تو کشکول لئے کیوں پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ بجٹ سے پہلے آئی ایم کی شرائط ماننے کا مطلب حکومت ملکی معیشت تباہ کر چکی ہے، معاہدے کا مطلب اس بار ملک کا سالانہ بجٹ آئی ایم ایف ہیڈکواٹر سے آئے گا۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ کٹھ پتلی وزیراعظم غیر ملکی حکومتوں سے معاہدوں کو پارلیمان میں لائیں۔ایک بیان میں انہوںنے کہا کہ قوم عمران خان کو خود کشی والا وعدہ یاد دلاتی ہے۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ کٹھ پتلی وزیراعظم غیر ملکی حکومتوں سے معاہدوں کو پارلیمان میں لائیں۔ انہوںنے کہا کہ کٹھ پتلی وزیراعظم اپنی نااہلی کو تسلیم کریں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان مان لیں ان کے وزیر خزانہ میں ٹکے کی اہلیت نہیں۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہاکہ کٹھ پتلی وزیراعظم این آر او پاس رکھیں صرف عوام کو ریلیف دیں ۔نفیسہ شاہ نے کہا کہ کٹھ پتلی وزیراعظم نوجوانوں کو کروڑ ملازمتیں فراہم کریں۔ نفیسہ شاہ نے کہاکہ 50 لاکھ غریبوں کو مفت گھر فراہم کریں ۔نفیسہ شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی صرف 5 ماہ میں پٹ چکی ہے۔

Leave a Reply