Imf Pakistan

آئی ایم ایف کا قرض پروگرام جاری رکھنے کیلئے تمام سبسڈیز ختم کرنے کا بڑا مطالبہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد ( جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) آئی ایم ایف مطالبہ

آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض پروگرام جاری رکھنے اور تیسری قسط کے

اجراء کیلئے کڑی شرط عائد کر دی کہ بجلی اور گیس سمیت یوٹیلیٹی سٹورز

کی سبسڈی ختم کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں : آئی ایم ایف کے بجلی مہنگی، ٹیکس ٹارگٹ بڑھانے کے مطالبات تسلیم
———————————————————————————

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معطل شدہ پروگرام کی

بحالی کیلئے بذریعہ ویڈیولنک اقتصادی جائزہ کے حوالے سے جاری مذاکرات کا

پہلا دور بے نتیجہ رہا جبکہ وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی

ایم ایف کے درمیان جائزہ مذاکرات ابھی جاری ہیں، فریقین ورچوئل مذاکرات میں

حصہ لے رہے ہیں، دوسرے جائزہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے کوششیں

جاری ہیں، مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں آئی ایم ایف کیساتھ قرضے کا

پروگرام بحال، رکی قسط جاری ہو جائیگی۔

===: بجلی اور گیس سمیت یوٹیلیٹی سٹورز پر سبسڈیز ختم کرنے پر کام جاری

ذرائع کا کہنا ہے کہ سبسڈیز کے خاتمے کی آئی ایم ایف کی شرط کوئی نئی بات

نہیں، حکومت پہلے سے غیر ضروری سبسڈیز کے خاتمے پر کام کر رہی ہے

اور صرف مستحق لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈیز دینے پر یقین

رکھتی ہے جس کیلئے بہت سا کام کیا گیا ہے۔ بجلی اور گیس سمیت یوٹیلیٹی

سٹورز سمیت دیگر مد میں دی جانیوالی غیر ضروری سبسڈیز ختم کرنے سے

متعلق آئی ایم ایف کے مطالبات پر غور کیلئے وزارت خزانہ میں خصوصی سیل

قائم کر دیا گیا ہے۔

===: مزید اقدامات کیلئے خصوصی سیل قائم کر دیا، وزارت خزانہ حکام

سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کی سر براہی میں خصوصی سیل غیر

ضروری سبسڈیز کے خاتمے کیلئے اپنی سفارشات مرتب کرے گا اور معاشی

اصلاحات پر عملدرآمد کیلئے بھی تجاویز دے گا، جن کی روشنی میں اقدامات

اٹھائے جائیں گے۔ دوسری جانب پاکستان کیلئے منظور آئی ایم ایف کے 6 ارب

ڈالر کے قرض پروگرام میں سے حکومت کو اب تک صرف 1 ارب 44 کروڑ

ڈالر ہی مل سکے ہیں۔

==قارئین==: ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

یاد رہے پی ٹی آئی حکو مت نے رواں سال مختلف شعبوں کیلئے 209 ارب

روپے کی سبسڈی مختص کی ہے۔ جس کے مطابق توانائی کے شعبے کیلئے

150 ارب رو پے، یوٹیلیٹی سٹورز کیلئے 3 ارب، سستی گندم کیلئے 13 ارب

جبکہ میٹرو بس سروس کیلئے 2 ارب روپے کی سبسڈیز رکھی گئی ہیں۔ نیا

پاکستان ہاؤسنگ پرا جیکٹ کیلئے بھی 30 ارب روپے سبسڈی کی مد میں مختص

کیے گئے ہیں۔

آئی ایم ایف مطالبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply