اولمپک میڈلز میں سرفہرست ایتھلیٹ، پہلی میڈل ہولڈر خواجہ سراء فٹبالر

اولمپک میڈلز میں سرفہرست ایتھلیٹ، پہلی میڈل ہولڈر خواجہ سراء فٹبالر

Spread the love

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن سپورٹس نیوز) اولمپک میڈلز میں سرفہرست

امریکہ کی ایلی سن فیلکس ٹوکیو اولمپکس میں 400 میٹر ریس میں کانسی (برانز)

کا تمغہ جیت کر ٹریک اینڈ فیلڈ مقابلوں میں سب سے زیادہ 11 اولمپک میڈل جیتنے

والی خاتون ایتھلیٹ بن گئیں۔ ایلی سن فیلکس نے ٹوکیو اولمپکس کی 400 میٹر

ریس کا فاصلہ 3 منٹ اور 16 اعشاریہ 85 سیکنڈز میں طے کیا۔ 400 میٹر کی

ریس میں گولڈ میڈل جیت کر ایلی سن فیلکس ٹریک اینڈ فیلڈ مقابلوں میں سب سے

زیادہ 11 اولمپک میڈل جیتنے والی خاتون ایتھلیٹ بن گئی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں

نے امریکہ کی جانب سے اولمپک کے ٹریک اینڈ فیلڈ مقابلوں میں بھی سب سے

زیادہ میڈلز جیتنے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے، اس سے قبل یہ اعزاز معروف

امریکی ایتھلیٹ کارل لوئس کو حاصل تھا جن کے میڈلز کی تعداد 10 ہے۔

=–= کھیل اور کھلاڑی سے متعلق ایسی ہی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

دوسری جانب ٹوکیو اولمپکس کے پندرہویں روز امریکہ نے مزید 9 گولڈ میڈلز

جیت کر چین سے طلائی تمغوں کی تعداد بڑھانے سمیت پہلی پوزیشن بھی چھین

لی، چین 38 گولڈ میڈلز کے ساتھ دوسری پوزیشن پر رہا جبکہ امریکہ 39 سونے

کے تمغوں کیساتھ پہلے نمبر پر آ گیا- میزبان جاپان 27 طلائی تمغوں کے ساتھ

تیسرے نمبر پررہا۔ رشین اولمپک کمیٹی 20 گولڈ میڈلز کیساتھ چوتھی پوزیشن پر

جبکہ ٹاپ فائیو ممالک میں برطانیہ نے پھر سے جگہ بنا لی، برطانوی ایتھلیٹس 20

سونے اور مجموعی طور پر 63 تمغے حاصل کر کے پانچویں پوزیشن پر پہنچ

گئے۔

=-،-= پڑھیں، ٹوکیو اولمپکس، چینی، ازبک اور ترکی خواتین کھلاڑی، دلچسپ واقعات

ٹوکیو اولمپکس 2020ء میں ویمن فٹبال کے فائنل میں کینیڈا نے سوئیڈن کو سنسنی

خیز مقابلے کے بعد شکست دی اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا، اس فتح کے ساتھ ہی

کینیڈین ویمن فٹبال ٹیم میں شامل مڈ فیلڈر ” کوئن ” بھی اولمپک گولڈ حاصل کرنے

والی پہلی خواجہ سرا کھلاڑی بن گئی ہیں۔ 25 سالہ کوئن نے 2014ء میں کینیڈین

ویمن فٹبال ٹیم میں ڈیبیو کیا اور ریو اولمپکس میں برانز میڈل بھی حاصل کیا، تاہم

انہوں نے گذشتہ برس اس بات کا باضابطہ اعلان کیا کہ وہ خواجہ سرا ہیں۔

=-،-= معاشرے کا مخنث کیساتھ برتاؤ انتہائی تکلیف دہ، کینیڈین کوئین

اس سے قبل انہیں خاتون ہی تصور کیا جاتا تھا تاہم کوئن کا کہنا ہے کہ وہ کافی

عرصے سے اپنی جنس کو لے کر پریشان تھیں، لوگ انہیں جو سمجھتے تھے وہ

ویسی نہیں تھیں۔ کوئن نے کہاکہ اپنے بارے میں یہ اعلان کرنا کہ میں خواجہ سرا

ہوں بہت بڑا فیصلہ تھا کیونکہ ہمارے معاشرے میں مخنث کے ساتھ جو برتاؤ کیا

جاتا ہے وہ کافی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی لڑائی ختم نہیں ہوئی، بہت

سے خواجہ سراؤں کو اب بھی کھیل سے دور رکھا جاتا ہے، انہیں اولمپک کھیلنے

کا خواب پورا نہیں کرنے دیا جاتا، جب تک وہ سب اس میدان میں نہ آ جائیں لڑائی

جاری رہے گی۔

اولمپک میڈلز میں سرفہرست ، اولمپک میڈلز میں سرفہرست ، اولمپک میڈلز میں سرفہرست

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply