اوآئی سی وفد کا دورہ چکوٹھی،مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں سر فہرست،یوسف الدوبے

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چکوٹھی(سٹاف رپورٹر) او آئی سی کااعلی سطحی چھ رکنی وفد یوسف الدوبے کی قیادت میں لائن آف

کنٹرول کی صورتحال اور بھارت کی جانب سے سرینگر مظفرآباد بس اور ٹرک یکطرفہ طور پر بند

کرنے سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے چکوٹھی پہنچ گیا،بھارتی فوج کی فائرنگ سے متاثر

ہونے والے لوگوں سے ملاقات اور خود لائن آف کنٹرول کے عوام اور انٹرا کشمیر ٹریڈ اور ٹریول

کی بندش سے ہونے والی مشکلات کا جائزہ لیا۔تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز او آئی سی کا اعلی

سطحی 6 رکنی وفد سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندہ برائے جموں و کشمیر ایمبیسڈر یوسف

الدوبے کی قیادت میں لائن آف کنٹرول چکوٹھی پہنچا جہاں پر میجر جنرل عامر احسن نواز نے وفد کو

بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کنٹرول لائن کی سول آبادی پر فائرنگ کر کے سول آبادی کا

جانی و مالی نقصان کرتی ہے گذشتہ ایک سال سے بھارت نے یکطرفہ طور پر سرینگر مظفرآباد بس

اور ٹرک سروس کو بند کر رکھا ہے جس کے باعث ریاست جموں و کشمیر کے منقسم عوام سفری

اور تجارتی سہولیات سے محروم ہو کر شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں،بعدازاںاسلامی تعاون تنظیم

کے جموں و کشمیر کے حوالے سے نمائندہ خصوصی یوسف الدوبے نے ایوان صدر مظفرآباد میں

آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان سے ملاقات کی اور اُن سے مقبوضہ جموں کشمیر

اور بھارت میں ہونے والے واقعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ملاقات میں جموں و کشمیر پر اسلامی

تعاون تنظیم کے نمائندہ خصوصی یوسف الدوبے کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم کے ایشیا امور کے

ڈائریکٹر احمد السریر ، مسٹر عائدہ تومی، اسلامی تعاون تنظیم سیکرٹریٹ کے سیاسی امور کے

انچارج فیصل آبرو کے علاوہ اسلامی ترقیاتی بینک کے پاکستان کے نمائندہ بھی موجود تھے ۔ ملاقات

کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے یوسف الدوبے نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ اسلامی تعاون

تنظیم کے ایجنڈے میں سر فہرست ہے اور تنظیم نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار

دادوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے اس اہم مسئلے کے پُر امن سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔

اُنہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں امن اور سلامتی کے لیے مسئلہ کشمیر کا پرُ امن حل ناگزیر ہے ۔

اُنہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گزشتہ سال پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کے حوالے

سے اپنے اقدامات کو واپس لے ،مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور محاصرہ ختم کرے اور کشمیریوں کے

بنیادی شہری حقوق فی الفور بحال کرے ۔ اُنہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کشمیر کے حوالے سے اقوام

متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی 2018 اور 2019 کی رپورٹ میں پیش کی گئی سفارشات پر

عملدرآمد کیا جائے تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق اور انسانی بحران کو حل کیا جا

سکے ۔۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اسلامی

تعاون تنظیم کی طرف سے کشمیری عوام اور پاکستان کے اُصولی موقف پر پوری جرات اور استقلال

کے ساتھ کھڑے رہنے پر کشمیری عوام کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول

کے دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کو اسلامی تعاون تنظیم سے بہت توقعات وابستہ ہیں اور وہ یہ

اُمید رکھتے ہیں کہ مسلم اُمہ کے اس پلیٹ فورم سے اُن پر ہونے والے ظلم و ستم اور اُن کی آزادی

اور حق خود ارادیت کی جدوجہد کے لیے موثر آواز بلند کی جائے گی ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply