Kud Kalami by Journalist Imran Rasheed Khan

انصاف کی طلبگار شیباگُل بھی ظلم کا شکار ہو گئی

Spread the love

انصاف کی طلبگار شیباگُل

اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے والی، بار بار ارباب اختیار کو سرِ عام خدشات سے

آگاہ کرنیوالی خیبرپختونخوا کے ضلع ملاکنڈ کے علاقہ بٹ خیلہ کی رہائشی ایک

اور حوا کی بیٹی سماجی کارکن شیبا گل اپنے والد کریم بخش سمیت انصاف کی

خواہش دل میں لئے مقامی اور صوبائی انتظامیہ کی روایتی غفلت و لا پرواہی کی

بھینٹ چڑھ گئی، کیونکہ موقع کی تلاش میں بیٹھے بااثر قبضہ مافیا اور تخریب

کار گروہ نے حوا کی بہادر بیٹی کو ان کے غیور والد سمیت ہمیشہ کیلئے خاموش

کر دیا، اور بظاہر اپنے مزموم عزائم کی تکمیل میں تو کامیاب ہو گئے، لیکن اس

اندوہناک واقعہ نے وطن عزیز اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے ہوس زن، زر

اور زمین میں لبریز معاشرے ہی نہیں انصاف کی فراہمی کی دعویدار حکومت

کی کارکردگی اور عوام دوستی کی بھی قلعی کھول کر رکھ دی ہے-

= پڑھیں= پشاورمیں دن دیہاڑے معروف حکیم سردار سنتام سنگھ کا قتل

دو ہفتے قبل گیارہ ستمبر کو ہی مقتولہ شیباگل دختر کریم بخش نے پشاور پریس

کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقامی انتظامیہ کی ملی بھگت

سے قبضہ مافیا ہماری جدی پشتی گنگالان نامی جائیداد پرقابض ہے، عدالت میں

ہمارے حق میں کئی فیصلے ہونے کے باوجود متعلقہ ادارے ہماری داد رسی نہیں

کر رہے۔ شیبا گل نے یہ بھی کہا تھا کہ وقار اختر، اعجاز اختر پسران امیر زمان

ساکنان خار بٹ خیلہ اور دیگر افراد نے ہماری اراضی سے تقریبا 70 سے 80

لاکھ کی زبردستی کٹائی کی اور چند روز قبل ہماری جائیداد سے تقریبا 50 لاکھ

روپے کی مٹی بھی فروخت کی، یہ افراد ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے

رہے ہیں، ان دھماکیوں کے بارے میں ہم نے متعلقہ حکام کو تحریری درخواستیں

دی ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔

=–= ایسی ہی مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

مقتولہ سماجی کارکن شیبا گل نے پشاور پریس کلب میں جن خدشات کا اظہار کیا

تھا، متعلقہ اداروں کی روایتی غفلت اور مبینہ ملی بھگت سے ان کے مخالفین نے

ان خدشات کو عملی جامہ پہنا دیا اور جمعہ کے روز شیبا گل اور ان کے والد

کریم بخش کو فائرنگ کر کے ابدی نیند سلا دیا۔ دو بیگناہ قیمتی انسانی جانوں کے

خون کے بعد مقامی پولیس نے انعام اللہ ولد سلیم اصغر کیخلاف خانہ پُری کرتے

ہوئے مقدمہ تو درج کر لیا ہے تاہم ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی سکی،

جب کہ شیبا گل کی اپیل کی باوجود انہیں تحفظ فراہم نہ کرنا متعلقہ اداروں کی

نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے بھی دو ہفتے قبل مقتولہ کی پریس

کانفرنس کا تو نوٹس نہ لیا لیکن بہیمانہ قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس

کو خاتون اور ان کے والد کے قتل میں ملوث عناصر کی فوری گرفتارکر کے

جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کا حکم دیدیا ہے، انکا مزید کہنا تھا یہ واقعہ

انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک ہے، ملوث افراد قانون کی گرفت سے بچ نہیں

سکتے، متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ محمود

خان نے متاثرہ خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا بھی اظہار کرتے ہوئے

مقتولین کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔

=،= شیباگل کی دہائی کے باوجود اربابِ اختیار کی بے حسی سوالیہ نشان

ایک سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب جوانسال مقتولہ شیبا گُل نے دو ہفتے قبل

چیف جسٹسز سپریم اور پشاور ہائی کورٹس، وزیراعلیٰ کے پی کے اور آئی جی

پولیس سے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کی اپیل کی تھی تو مذکورہ ارباب اختیار

نے بروقت نوٹس کیوں نہ لیا اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کیساتھ ساتھ انصاف

فراہم کرنے کیلئے احکامات کیوں نہ جاری کئے، دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ کیا

اب لئے گئے نوٹس پر کرار واقعی کارروائی ہو گی یا رات گئی بات گئی والا

معاملہ ہو گا، کیوں کہ وطن عزیز میں تو عرصہ سے یہ روایت چلی آ رہی ہے

غریب کا کوئی نہیں، تیسرا بڑا سوال یہ ہے کیا مقتولین کے لواحقین کو ان کا حق

دلانے سمیت تحفظ فراہم کیا جائے گا یا طفل تسلیاں دے کر حالات کے رحم و

کرم چھوڑ دیا جائے گا، خدانخواستہ اب اگر ایسا ہوا تو انصاف کے نام پر بنی

حکومت کا یہاں تو محاسبہ ہو گا ہی، روز محشر بھی شیبا گل اور ان کے والد کا

ہاتھ ارباب اختیار کے گربیانوں میں ہو گا-

=-،-= انصاف کے نام پر بنی حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس

پاکستان تحریک انصاف کی گذشتہ آٹھ سال سے قائم حکومت کیلئے یوں تو اس

عرصہ میں کئی ایسے رونما ہونے والے واقعات ٹیسٹ کیس تھے، لیکن ان میں

اور شیباگل اور ان کے والد کے قتل کیس میں واضح فرق یہ ہے کہ مقتولہ نے نہ

صرف مقامی انتظامیہ کی بے حسی، ملزم پارٹی سے ملی بھگت، مخالفین کے

ہاتھ قتل کئے جانے کا خدشے سے تمام ارباب اختیارات کو چند روز قبل ہی آگاہ

کر دیا تھا، اگر اس کیس میں بھی محمود خان وزیراعلیٰ خیبر پختو نخوا نے

سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا اور زبانی جمع خرچ سے وقت گزاری کی روش اپنائی

تو انہیں اور ان کی پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا، پہلے ہی مملکت

خداداد کے عوام مہنگائی کے باعث اُن کے پارٹی قائد عمران خان سے نہ صرف

نالاں ہیں بلکہ ببانگ دھل کہہ رہے ہیں غضب کیا جو تیرے وعدے پے اعتبار

کیا- تاہم ہمیں قومی اُمید ہے کہ وزیراعلیٰ محمود خان مقتولہ شیباگل کے کیس کو

اپنے لئے ٹیسٹ کیس کے طور پر لیں گے، متعلقہ اداروں اور ارباب اختیارات

کی کسی بھی قسم کی کوہتاہی برداشت نہیں کریں گے اور مظلوم خاندان کو جلد

از جلد انصاف فراہم کر کے ان کے دکھوں کا مداوا کریں گے-

انصاف کی طلبگار شیباگُل ، انصاف کی طلبگار شیباگُل

انصاف کی طلبگار شیباگُل ، انصاف کی طلبگار شیباگُل

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply