انصاف پسند عالمی برادری کیلئے مسئلہ کشمیرحل کرنے کا سنہری موقع

Spread the love

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو

عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے،سلامتی کونسل کی کمیٹی میں

چین نے اپنا تکنیکی اعتراض ختم کر دیا، تاہم کمیٹی نے مسعود اظہر کو پلوامہ

حملے سے منسلک کرنے کی تجویز مسترد کر دی،سلامتی کونسل کی کمیٹی میں

پابندی کی قرارداد27 فروری کو فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے پیش کی تھی،

لیکن چین نے قرارداد پر تکنیکی اعتراض اٹھایا تھا، جو اب چین نے ختم کر دیا،

تو پابندی کمیٹی نے مسعود اظہر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل

کر دیا،جس کے بعد مسعود اظہر کے اثاثے منجمد ہو جائیں گے، سفر اور ہتھیار

رکھنے پر پابندی لگائی جائے گی، پاکستان اور چین کو مسعود اظہر کو مقبوضہ

کشمیر کی صورتِ حال کے ساتھ جوڑنے پر اعتراض تھا جسے تسلیم کر لیا گیا ،

اب مسعود اظہر پر عالمی پابندیاں جیش محمد سے تعلق کی وجہ سے لگائی گئی

ہیں پاکستان اِس سے قبل چین کے تعاون سے چار مرتبہ بھارتی کوشش ناکام بنا

چکا ہے۔اب بھی بھارت اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا، تاہم بھارت میں چونکہ

انتخابات کا سلسلہ جاری ہے اور جن حلقوں میں انتخابات ہونے والے ہیں وہاں

انتخابی جلسے بھی ہو رہے ہیں،اِس لئے مودی نے فوری طور پر اس ’’کامیابی‘‘

کو اپنے کھاتے میں درج کرانے کی کوشش کی۔اگرچہ مسعود اظہر کو کشمیر کے

معاملے سے نتھی نہیں کیا گیا،اس کے باوجود صرف عالمی دہشت گردوں کی

فہرست میں نام شامل کئے جانے کو ہی مودی سادہ لوح عوام کے سامنے اسے اپنی

بہت بڑی کامیابی بنا کر پیش کر رہے ہیں اور آئندہ جلسوں میں بھی ایسا کرتے

رہیں گے۔ اگر یہ پابندی انتخاب گزرنے کے بعد لگتی تو پھر مودی یہ ’’فائدہ‘‘ بھی

نہ اٹھا پاتے۔

مسعود اظہر بھارت میں گرفتار تھے اور اُن کے حامیوں نے ایک بھارتی طیارہ

اغوا کر کے انہیں جیل سے رہا کرانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی، رہائی کے

بعد بھارت مسلسل کوشش کرتا رہا کہ مسعود اظہر کا نام عالمی دہشت گردوں کی

فہرست میں شامل کرایا جائے،لیکن جب بھی کسی کمیٹی میں یہ مسئلہ زیر بحث

آیا، چین نے ہمیشہ اِس پر اعتراض کیا، بھارت چاہتا تھا پلوامہ حملے کو مسعود

اظہر سے جوڑ دیا جائے،لیکن اُسے اِس ضمن میں کامیابی نہیں ہوئی،چونکہ

انتخابی محاذ ابھی گرم ہے اِس لئے محض مسعود اظہر کے نام کی دہشت گردوں

کی فہرست میں شمولیت کو ہی انہوں نے اپنے جلسے کے شرکا کے سامنے بڑی

کامیابی بنا کر پیش کر دیا ہے۔

اُن کی تقریر سننے والوں میں سے کسی کو شاید ہی علم ہو کہ افغانستان کے سابق

وزیراعظم اور مجاہد رہنما گلبدین حکمت یار کا نام بھی کئی برس تک دہشت

گردوں کی اس فہرست میں شامل رہا ہے۔ افغان حکومت کی درخواست پر ان کا نام

فہرست سے نکالا گیا، نام نکالے جانے کے بعد جب وہ کابل گئے تو صدر اشرف

غنی اور سابق صدر حامد کرزئی نے بنفس ِ نفیس اُن کا استقبال کیا اس حوالے کا

مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ جو لوگ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہوتے

ہیں،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے جرم کی اہمیت بھی کم ہو جاتی ہے اور

جب ایسے دہشت گردوں کے ساتھ کسی کو مذاکرات کی ضرورت پیش آتی ہے تو

پھر اُن کا نام بھی فہرست سے نکل جاتا ہے،اثاثے بھی بحال ہو جاتے ہیں، سفری

پابندیاں بھی ختم ہو جاتی ہیں اور صدر کے مقام و مرتبے کے لوگ اُن کا استقبال

کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں۔

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا، امریکہ طالبان کو دہشت گرد تصور کرتا تھا اور ان

کے ساتھ بات چیت کے کسی بھی آپشن کو ہمیشہ مسترد کرتا رہا،لیکن جب پُلوں

کے نیچے سے بہت سا پانی گزر گیا تو یہ دہشت گرد اِس قابل ہو گئے کہ اُن کے

ساتھ مذاکرات کی میز بچھا دی گئی،اس وقت دوحہ میں مذاکرات کے بہت سے دور

ہو چکے ہیں اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے نہ جانے کتنے مزید دور

ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِن ’’دہشت گردوں‘‘ سے مذاکرات کرنے کے لئے

امریکہ کو بہت سے پاپڑ بیلنے پڑے۔پاکستان کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔اب یہ

’’دہشت گرد‘‘ اپنی شرائط پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ امریکہ کی آدھی بات تو مان

چکے،یعنی مذاکرات کر رہے ہیں،لیکن آدھی بات پر اَڑے ہوئے ہیں کہ جنگ بندی

سے پہلے امریکی اور غیر ملکی افواج افغانستان سے چلی جائیں۔امریکہ اس شرط

کو مسترد کرتا رہا ہے، لیکن مذاکرات بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور کیا پتہ

حتمی فیصلہ کیا ہو جائے۔

مسعود اظہر نے کہاں کہاں دہشت گردی کی اور اُن کے نامہ اعمال میں کتنی

وارداتیں درج ہیں اس کا حساب کتاب تو پابندیاں لگانے والے جانیں اور وہ بھارت

جانے جو محض فہرست میں نام شامل ہونے کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش

کر رہا ہے،لیکن آنے والے دِنوں میں مسعود اظہر کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے اور

عالمی پابندیوں کی وجہ سے انہیں کن کن مشکلات اور مراحل سے گزرنا پڑتا ہے

یہ تو وقت کے ساتھ ہی معلوم ہو گا،البتہ اتنا ضرور ہوا ہے سلامتی کونسل نے یہ

فیصلہ کرکے پاکستان کے کاندھوں سے ایک بڑا بوجھ اُتار دیا،جو پاکستان طویل

عرصے سے اُٹھائے اٹھائے پھرنے پر مجبور تھا اور مسعو د اظہر کے کردہ اور

ناکردہ گناہوں کا ذکر جہاں کہیں بھی ہوتا تھا پاکستان کو ملوث کرنے والے پہلے

سے تیار بیٹھے ہوتے تھے اب پاکستان کے سر سے یہ بوجھ اُتر گیا ہے تو ایک

عشرے سے زائد تک اِس ’’مشن‘‘ کی تکمیل میں مصروف بھارت کو بھی شاید

قرار آ جائے۔

جہاں تک مقبوضہ کشمیر کی جنگ ِ آزادی کا تعلق ہے وہ کسی بیرونی مداخلت یا

مدد کی محتاج نہیں رہی۔ یہ ذمہ داری کشمیر کے پڑھے لکھے نوجوانوں نے خود

اُٹھا لی ہے اور آزادی کے یہ متوالے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر اور اپنی صلیبیں

خود اپنے کندھوں پر اُٹھا کر میدانِ کار زار میں نکلے ہوئے ہیں۔ ان لوگوں سے

بھارتی سینا خوفزدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک اکیلا نوجوان جو بھارتی سیکیورٹی

فورسز کی تحویل میں رہ چکا تھا گولے بارود کا ٹرک لے کر نکلا تو چھائونی کے

چپّے چپّے میں پھیلے ہوئے سورمائوں کو اِس کی خبر تک نہ ہوئی اور بالآخر اُس

نے بارود سے بھری گاڑی سیکیورٹی فورسز کی گاڑی سے ٹکرا دی۔ کشمیر کی

وہ قیادت بھی اس پر حیرت زد رہ گئی،جو بھارتی حکومت کے ساتھ بہتر تعلقات

کی خواہاں ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ مودی کی تشدد کی پالیسیوں کا اثر یہ ہوا

ہے کہ وادی کے ہر گھر سے مجاہد نکل رہے ہیں اور آزادی کے چراغ اپنے لہو

سے جلا رہے ہیں،ایسے لوگوں کو کسی مسعود اظہر کی کیا ضرورت ہے؟

البتہ اس ساری صورتحال میں عالمی برادری کا مسئلہ کشمیر کے دیرینہ حل کو

نظر انداز کردینا سنگین ناانصافی ہے کیونکہ بھارت کی ایما پر جن عالمی طاقتوں

نے جنت نظیر وادی جسے ہندوستان نے وہاں کے باسیوں کیلئے جہنم اور پورے

خطے کیلئے ایٹمی جنگ کا فلیش پوائنٹ بنا رکھا ہے کی صورتحال سے سربراہ

جیش محمد کو نتھی کرنے کی بات نہ صرف مان لی بلکہ پوری شد ومد کے ساتھ

اس نکتہ پر ڈٹے رہے کہ کشمیر کی صورتحال کا ذمہ دار مسعود اظہر ہی ہے یہ

تو بھلا ہو چین کا جسے سلامتی کونسل جیسے عالمی ادارے میں ویٹو کا حق

حاصل ہے اس کی بابت مسعود اظہر کو کشمیر کی ابتر صورتحال سے نتھی

کرنے کا بھارت اور اس کی نا انصافی اور ظلم وحشت کی ہمنوا عالمی طاقتوں

اپنے مزموم عزائم کی تکمیل میں نامرادی کا سامنا کرنا پڑا ورنہ پاکستان تو کسی

طور بھی انکو کرہ ارض پر دکھتا نہیں بھاتا ، جس کی تاریخ گواہ ہے ، مگر انہیں

یہ معلوم نہیں جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ،مگر یہ بات دیگر عالمی برادری

پر واضح ہو گئی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی جانب سے ثالثی کیلئے ان

طاقتوں کو کی گئی پیشکش کو تو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ دونوں

ممالک باہمی مذاکرات سے حل کریں مگر مسعود اظہر کے معاملے میں مذکورہ

طاقتوں نے اپنا یہ اصول و قانون یکسر نظر انداز کیا جو نہ صرف مسعود اظہر

معاملہ اچھالنے والی طاقتوں کی ناانصافی کو عیاں کر گیا بلکہ مسلم امہ کیلئے بھی

لمحہ فکریہ چھوڑ گیا ہے کہ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے تو ان کےگرد

طاغوت کا گھیرا روز بروز تنگ ہوتا چلا جائےگا، مسئلہ فلسطین کی بھی یہی

صورت حال ہے جس کے حل کر نے کا جھنڈا اٹھائے امریکہ بہادر نے صدی کی

ڈیل کی حقیقت عیاں کر دی ہے مگر مسلم حکمران خواب خرگوش کے مزے لے

رہے ہیں اور ایک مغلیہ بادشاہ کے پیرو کار بنے ہوئے ہیں کہ ہنوز دلی دور است

. اسی طرح عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ بھارت سمیت اس کے ہمنوا ممالک

پر مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر دبائو

ڈالیں تاکہ یہ دیرینہ مسلہ حل ہو سکے ، اس مسئلے کا حل اتنا پیچیدہ نہیں جتنا بنایا

جاتا اآ رہا ہے ، حالانکہ عالمی برادری کی اپنی منظور کردہ قراردادوں میں اسکا

حل پیش کیا جا چکا ہے صرف بھارت کو اس پر عملدرآمد کیلئے مجبور کرنا ہے

جو اس قدر مشکل نہیں جس قدر دنیا کو باورکرایا جاتا آ رہا ہے. مظلوم کشمیری

عالمی برادری سے امید کرتے ہیں کہ وہ انہیں بھارت سے استصواب رائے کا جلد

از جلد حق دلوانے میں مدد کر کے صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں دنیا کو ایٹمی جنگ

کے خطرے سے نجات دلانے سمیت کرہ ارض کو امن کا گہوارہ بنانے کی حقیقی

معنوں میں سعی کریں گے کیونکہ مسعود اظہر کے قضیہ نے انصاف پسند عالمی

برادری کو سنہری موقع فراہم کر دیا ہے.

(تجزیہ:…. ابو رجا حیدر)

Leave a Reply