islamabad 349

انصار الاسلام پر پابندی کا نوٹیفکیشن ہی غیر مؤثر ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ

نے کہا ہے کہ انصارالاسلام سیاسی پارٹی کے رکن ہیں تو ہے میری رائے میں

انصار الاسلام پر پابندی کا نوٹیفکیشن ہی غیر مؤثر ہے ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے

انصارالاسلام پر پابندی کے معاملے پر وزارت داخلہ کے افسر کو (آج) منگل کو

طلب کر کرلیا ۔ پیر کو چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کیس کی سماعت کی ۔ دور ان

سماعت عدالت نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام کو سنے بغیر وزارت داخلہ نے

پابندی لگائی، وزارت داخلہ عدالت کو مطمئن کرے کہ کسی کو سنے بغیر کیسے

پابندی لگا دی۔ وکیل کامران مرتضیٰ نے کہاکہ پرائیویٹ ملیشیا تو نہیں تنظیم ہماری

جمیعت علماء اسلام کا حصہ ہے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ پرائیویٹ

ملیشیا تو نہیں ڈنڈے تو ہیں۔ وکیل کامران مرتضیٰ نے کہاکہ ڈنڈے تو جھنڈوں کے

ساتھ ہوتے ہیں۔ وکیل نے کہاکہ جمعیت علمائے اسلام سیاسی جماعت کے طور پر

الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر تو یہ ممبر ہیں

سیاسی جماعت کے تو پھر تو یہ نوٹیفکیشن ہی غیر موثر ہے۔ چیف جسٹس اطہرمن

اللہ نے کہاکہ کیا وفاقی حکومت نے آپ کو سنا بھی نہیں۔ وکیل کامران مرتضیٰ نے

کہاکہ ہمیں وزارت داخلہ نے سنے بغیر پابندی لگا دی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ

میری رائے کے مطابق تو یہ نوٹیفکیشن ہی غیر موثر ہے،جب تنظیم کا باقاعدہ

وجود ہی نہیں تو اس پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے؟چیف جسٹس نے کہاکہ خاکی

وردی کی بجائے سفید پہن لیں تو اس پھر کیا ہو گا۔ کامران مرتضیٰ نے کہاکہ یہ

قائداعظم کے دور سے یہ تنظیم کام کر رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کم از کم

آپ کو حکومت پوچھ تو لیتی کہ یہ تنظیم کیا ہے،24 اکتوبر کے وزارتِ داخلہ نے

انصارالاسلام پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ایک

چیز موجود ہی نہیں اور اس پر پابندی لگا دی گئی۔عدالت نے وزارت داخلہ کے

افسر کو کل طلب کرتے ہوئے کہا کہ جمیعت علمائے اسلام کو سنے بغیر وزارت

داخلہ نے پابندی لگائی، وزارت داخلہ عدالت کو مطمئن کرے کہ کسی کو سنے

بغیر کیسے پابندی لگا دی، کیس کی مزید سماعت کل صبح ساڑھے 10 بجے تک

ملتوی کر دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں