halat e hazra jtnonline

انسداد کرونا ویکسین، عطیات کی آمد شروع ، حکومت کیا کررہی ہے؟

Spread the love

انسداد کرونا ویکسین

چین سے کرونا ویکسین کی پانچ لاکھ خوراکیں لیکر پاک فضائیہ کا خصوصی

طیارہ آج اسلام آباد پہنچ رہا ہے، سائنو فارما ویکسین چین کی حکومت کا پاکستان

کیلئے عطیہ ہے، اس کے علاوہ ایسٹرازینیکا کی ایک کروڑ ستر لاکھ خوراکیں

پاکستان، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ( ڈبلیو ایچ او ) کی وساطت سے بھی حاصل کرے

گا، امکان ہے کہ یہ ویکسین بھی رواں ماہ ملنا شروع ہو جائے گی اور جون تک

تمام خوراکوں کی کھیپ مکمل ہو گی، یہ ویکسین بھی بطور عطیہ حاصل ہو گی،

کوئی دو ہفتے قبل وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا تھا

کہ ابھی تک پاکستان نے ویکسین خریدنے کے لئے کسی بھی کمپنی کو آرڈر نہیں

دیا، اِس کے بعد کوئی آرڈر دیا گیا یا نہیں، اِس بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔ تاہم یہ

ضروری ہے کہ عطیات وصول کرنے کیساتھ ساتھ ویکسین کی خریداری کے

انتظامات بھی کئے جائیں، کیونکہ ضرورت کے مطابق تمام تر ویکسین عطیات کی

شکل میں تو نہیں ملے گی-

چین سے آنیوالی ویکسین لگانے کے انتظامات کر لئے گئے ہیں اور ابتدا میں یہ

ویکسین فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو لگائی جائے گی، جن میں ڈاکٹر، نرسیں،

لیبارٹریز میں کام کرنیوالا طبی عملہ اور دوسرا پیرا میڈیکل سٹاف شامل ہے، چین

سے آنیوالی خوراکیں چاروں صوبوں میں تقسیم کی جائیں گی۔ سندھ میں بدھ سے

ویکسی نیشن کا آغاز کیا جا رہا ہے اِس مقصد کیلئے عملے کو ضروری تربیت دی

جا رہی ہے اور مختلف شہروں میں ویکسی نیشن سنٹر قائم کئے جا رہے ہیں۔ ہیلتھ

ورکرز کے بعد اگلے مرحلے میں65 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین

لگائی جائے گی اور پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ آبادی کے دوسرے طبقات اِس

سے مستفید ہوںگے۔

ویکسین کی تیاری میں دُنیا نے توقع سے زیادہ کم مدت میں کامیابی حاصل کی ہے،

اِسوقت مغربی ممالک کی کئی دیگر کمپنیاں بھی ویکسین کی تیاری میں مصروف

ہیں تاہم اولیت کا شرف دو تین کمپنیوں ہی کو حاصل ہوا ہے اور انہی کی ویکسین

سے اِسوقت دُنیا مستفید ہو رہی ہے، اِن تمام ویکسینوں کی اثر پذیری کا دائرہ الگ

الگ ہے کسی کی اثر پذیری نوے بانوے فیصد تو کسی کی اِس سے بھی زیادہ ہے،

تاہم امید کی جا سکتی ہے کہ اب جبکہ دُنیا بھر میں ویکسی نیشن کا کام ہنگامی

بنیادوں پر شروع کر دیا گیا ہے تو وائرس سے پیدا ہونیوالی بیماری کووڈ 19 کے

متاثرین کی تعداد بھی تیزی سے کم ہو گی-

پاکستان میں اِسوقت کرونا کی جو دوسری لہر آئی ہے کچھ عرصے تک تو اِس میں

تیزی رہی، لیکن اب کسی ویکسی نیشن کے بغیر ہی نئے مریضوں کی تعداد بتدریج

کم ہو رہی ہے، پورے ملک میں دو ہزار سے بھی کم مریض روزانہ اوسطاً سامنے

آ رہے ہیں۔ پانچ لاکھ خوراکیں جب لگ جائیں گی تو ابتدائی طور پر فرنٹ لائن

ہیلتھ ورکرز تو محفوظ ہو جائیں گے، دوسرے مرحلے میں معمر افراد کی باری

آئے گی، لیکن اِس میں شاید کم از کم ایک مہینہ لگ جائے، کیونکہ دوسرا عطیہ

فروری کے اختتام سے پہلے ملنے کی امید نہیں۔

سندھ کی حکومت نے اپنے طور پر بھی ویکسین کی درآمد کا اعلان کیا تھا، وفاقی

حکومت نے اس پر کہا سندھ حکومت جتنی چاہے ویکسین درآمد کر سکتی ہے،

وفاق کو اس پر کوئی اعتراض نہیں، اِسلئے صوبائی حکومت کو اجازت کا فوری

فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس کے پاس جتنے وسائل ہیں اُن کی روشنی میں درآمد کے

انتظامات جلد کرنا چاہئیں، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے بھی اعلان کر

رکھا ہے کہ وہ اپنے خرچے پر ویکسین درآمد کرکے سندھ حکومت کو عطیہ

کریں گے۔ اُن کا یہ جذبہ قابل ِ تعریف ہے اور ملک بھر کے اہل ِ خیر کو اِس نیک

کام کی تقلید کرتے ہوئے اپنے وسائل کا ایک حصہ ویکسین کی درآمد کیلئے

مختص کرنا چاہئے، حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ اندرونِ ملک ایسے لوگوں سے

رابطہ کرے جو وسائل رکھتے ہیں اور اِن وسائل کو غریب غرباء کی فلاح کے

لئے خرچ کرنا بھی چاہتے ہیں-

دُنیا بھر میں بل گیٹس جیسے لوگ ویکسین کی تیاری میں مالی تعاون میں پیش پیش

رہے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے کم عرصے میں ویکسین کی تیاری

ممکن ہوئی ہے۔ عالمی دوا ساز کمپنیوں کے پاس بھی اگرچہ وسائل کی کمی نہیں

ہوتی تاہم بنیادی طور پر یہ ادارے کاروباری مقاصد ہی کے تحت وجود میں آتے

ہیں اور نئی ریسرچ کے پراجیکٹس کو ہمیشہ دُنیا کی بڑی بڑی فلاحی تنظیموں کی

امداد اور تعاون حاصل رہتا ہے۔ پاکستان میں اگر زیادہ نہیں تو دو چار درجن ایسے

افراد تلاش کئے ہی جا سکتے ہیں، جن کی دولت کا کوئی شمار و قطار نہیں اور وہ

اپنی ذات کی نمود و نمائش کی خاطر دولت خرچ کرنے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے

ہیں ان کی شادی کی تقریبات میں کروڑوں اڑا دیئے جاتے ہیں۔ یہ دولتمند لوگ اگر

ویکسین کی خریداری کے لئے حکومت سے تعاون کریں یا خود ویکسین درآمد کر

کے ہسپتالوں کے سپرد کر دیں یا پھر اپنی نگرانی میں لوگوں کو ویکسین لگوائیں

تو حکومت کے لئے آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ تمام وسائل اگر دانشمندی سے

”پول“ کر لئے جائیں تو تھوڑے ہی عرصے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ

حفاظتی ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔

پنجاب کی حکومت نے کرونا کی وباء کے آغاز میں عطیات کی شکل میں ایک

ارب 18 کروڑ روپیہ جمع کیا تھا، جو اب تک سرکار کے خزانے میں پڑا ہے یہ

خرچ اِس لئے نہیں ہو سکا کہ قانون نہیں بن سکا، ایسی رقوم بھی ویکسی نیشن کے

لئے استعمال میں لائی جا سکتی ہیں، البتہ یہ دیکھنا ہو گا کہ غرض اور لالچ کے

بندے ویکسین کی درآمد کو بھی جلب ِ زر کا ذریعہ نہ بنا لیں۔

=—–= قارئین =-: ہماری کاوش پسند آئی ہو گی،اپ ڈیٹ رہنے کیلئے ہمیں فالو کریں
=—–=ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )

انسداد کرونا ویکسین ، انسداد کرونا ویکسین

Leave a Reply