Imran Khan Prim minister Pakistan 56

انتہا پسند مودی سرکار نے جو خطرناک راستہ چنا اس سے واپسی مشکل ہے،عمران خان

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خطرناک راستے

پر چلتا بھارت بڑی مشکل میں پھنس گیا ہے۔ ہندوتوا پالیسی اقلیتوں کے خلاف

نفرت پھیلا رہی ہے۔بھارتی جارحیت کا ایک سال مکمل ہونے پر اسلام آباد میں

ایک تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہم

نے اونچ نیچ دیکھی، قوم نے مشکل حالات دیکھے۔ قومیں مشکل وقت میں متحد ہو

جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم مشکل وقت سے نکل آئے ہیں۔ امریکا سپر

پاور ہونے کے باوجود افغان جنگ نہیں جیت سکا جبکہ پاکستان نے دہشت گردی

کے خلاف مشکل جنگ جیتی۔ دوسری جانب بھارت بہت خطرناک راستے پر چل

پڑا ہے جس کے باعث وہ بیت بڑی مشکل میں پھنس گیا ہے۔ انتہا پسند مودی

سرکار نے جو راستہ چنا ہے، اس سے واپسی بہت مشکل ہے۔وزیراعظم نے کہا

کہ ہمیں پتا تھا کہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کچھ کرے گا۔ ہماری جوابی

کارروائی ایک میچور ملک جیسی تھی جبکہ بھارتی پائلٹ کی واپسی ایک میچور

قوم کی نشانی تھی۔ اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر تھیں۔

وزیراعظم ہائوس میںمنعقد ہونے والی خصوصی تقریب میں وزیراعظم عمران خان

، تینوں مسلح افواج کے سربراہان ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر

وزراء سمیت اعلیٰ حکومتی و عسکری حکام نے شرکت کی ۔وزیر اعظم عمران

خان نے کہا کہ پلوامہ حملے کے بعد ہمیں بھارتی جارحیت کا خدشہ تھا کیونکہ

ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹ تھیں۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی جارحیت کے مقابلے

میں پاکستان نے جو کوئی اقدام کیے وہ انتہائی میچور تھے۔ وزیر اعظم عمران خان

نے کہا کہ ہماری فورس نے ہر محاذ پر انتہائی محدود اور ذمہ دارانہ ردعمل کا

اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے میڈیا نے انتہائی

ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی اور افراتفری میں جواب دینے کی بجائے تحمل کا مظاہرہ

کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے بعد متعدد مرتبہ منہ

توڑ جواب دے سکتے تھے لیکن ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا، بھارتی پائلٹ نئی دہلی

کے حوالے کیا، بھارتی آبدوز کو لاک ڈائون کرلیا لیکن کوئی جارحانہ اقدام نہیں

اٹھایا’۔بھارت میں، شہریت ترمیمی قانون کیخلاف فسادات کا نہ رکنے والا سلسلہ

شروع ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ اس کا منطقی انجام خونریزی ہے۔وزیراعظم عمران

خان نے کہ ‘انتہاپسندی اور قومیت پسندی کی بنیاد پر بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے

پی)بھارتی اقلیتوں پر ظلم اٹھا رہی ہے اور اگر بی جے پی نے پیچھے ہٹنے کی

کوشش کی تو یہ ہی انتہا پسندی اور قومیت پسندی انہیں پیچھے ہٹنے نہیں دے گی۔

ہندوتوا پالیسی اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلا رہی ہے۔ جو قوم اس آئیڈیالوجی پر

گئی وہاں خون خرابہ ہوا۔ راونڈا، جنوبی افریقا، میانمار اور بوسنیا میں بھی قتل عام

ہوا۔ بھارت بھی اسی طرف جا رہا ہے۔ بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو محصور

بنا رکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی متنازع قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی

ہے۔ آر ایس ایس کے گینگ ہٹلر سے متاثر ہیں۔ عالمی برادری بھارت میں انسانی

حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔تقریب سے خطاب میں وزیر خارجہ شاہ

محمود قریشی نے کہا کہ 26 فروری 2019 کو بھارت نے جارحانہ اقدام کیا، 27

فروری کو پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا مئوثر جواب دیا اور ہمارا پیغام تھا

کہ بھارت کسی بھی جارحیت کا نہ سوچے۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا

کہ پاکستان افغانستان میں امن کیلئے تعاون کرتا رہا ہے، 29اپریل کو دوحا میں

افغان امن معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔انہوں نے سوال کیا کہ کس نے باہمی

مذاکرات کا عمل معطل کیا ؟ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مسئلہ

کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تمام

پڑوسیوں کے ساتھ امن کا خواہاں ہے، مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کے 5 اگست

2019 کے اقدامات غیرقانونی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوج تعینات

کی گئی، لوگوں کو محصور کیا گیا، بھارت ناکام ہے اور ناکام ہوتا رہے گا۔شاہ

محمود قریشی نے کہا کہ بھارت نے بابری مسجد شہید کی اور پاکستان نے

کرتارپور راہداری بنائی، بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیریوں کو محصور کر

رکھا ہے، بھارت کشمیریوں کی حق خوداردیت کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارتی حکومت کی پالیسی کی وجہ سے 48 گھنٹوں سے

نئی دہلی فسادات کی زد میں ہے، بھارت کے یکطرفہ اقدامات خطے کے امن کے

لیے خطرہ ہیں.

Leave a Reply