prime-minister imran khan 116

امن کے بغیر معاشی استحکام نا ممکن،افغانستان میں امن کیلئے امریکہ کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں، عمران خان

Spread the love

ڈیووس (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ امن و استحکام

کے بغیر معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی ، نائن الیون کے بعد پاکستان کو خطرناک

ملک قرار دیا گیا ،جب میں حکومت میں آیا تو یہ طے کیا کہ ہم کسی جنگ کا نہیں

بلکہ مسائل کے حل کا حصہ ہوں گے افغانستان کے امن عمل میں پاکستان امریکا

کو طالبان سے مذاکرات کے لیے تعاون کررہا ہے۔ بدھ کوعالمی اقتصادی فورم

کے خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ

پاکستان کسی جنگ کا حصہ نہیں ہوگا کیونکہ امن و استحکام کے بغیر معیشت کو

مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘جب میں وزیراعظم بنا

تو پاکستان میں 10 بلین درخت لگانے کا اعلان کیا جس کے لیے خیبر پختونخوا

کے ہمارے تجربے کو استعمال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘درخت لگانا ہمارے لیے دو

معنوں میں ضروری ہے، ایک تو پاکستان میں ماحول کے لیے ضروری ہے اور

دوسری آلودگی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کیونکہ لاہور میں آلودگی بڑھ

گئی ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘آپ اپنی معیشت کو امن و استحکام کے بغیر

مستحکم نہیں کرسکتے، پاکستان نے افغان جنگ میں حصہ لیا اور جب روس

افغانستان سے چلاگیا تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ

‘معیشت کے لیے امن کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب آپ کے معاشرے میں مسلح

گروپ ہوں تو یہ ممکن نہیں ہوتا،ن کا کہنا تھا کہ ‘افغانستان کے امن عمل میں

پاکستان امریکا کو طالبان سے مذاکرات کے لیے تعاون کررہا ہے وزیراعظم

عمران خان نے کہا کہ افغان جنگ کے باعث معاشرے میں کلاشنکوف اور

منشیات کا کلچر آیا، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی،

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ نقصان اٹھایا، ۔وزیراعظم نے پاکستان

سٹرٹیجی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستانی سر زمین کئی قدیم تہذیبوں

کا مسکن ہے، سیاحت کے فروغ سے ملکی معیشت کو ترقی دی جاسکتی ہے،

پاکستان میں کئی سیاحتی مقام دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں، پاکستان کی زیادہ تر

آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، نوجوانوں کے روزگار کیلئے غیر ملکی سرمایہ

کاری لائیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا 60 کی دہائی میں پاکستانی معیشت خطے

میں سب سے زیادہ ترقی کر رہی تھی، حکومت میں آنے کے بعد سب سے زیادہ

توجہ معیشت پر دی۔ انہوں نے کہا ایران، سعودی عرب تصادم روکنے کیلئے

پاکستان نے کردار ادا کیا، امریکا کے ساتھ مل کر افغانستان میں قیام امن کیلئے کام

کر رہے ہیں۔ ڈیووس میں بین الاقوامی میڈیا کونسل سے خطاب میں عمران خان نے

کہا کہ فوری طور پر بھارت کے ساتھ جنگ کا کوئی خطرہ نہیں، ہم پرامن طریقے

کیساتھ تنازعات کا حل چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سابق حکومتوں نے

امریکا سے وعدے کرکے غلطی کی تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید

بہتر ہو رہے ہیں۔ ہم امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی صورتحال سے متاثر ہوتا

ہے۔ افغانستان میں امن ہوگا تو وسط ایشیا تک تجارت ممکن ہوگی۔ دہشتگردی

کیخلاف جنگ میں پاکستان کے سرحدی علاقے متاثر ہوئے۔ ہماری حکومت ان

علاقوں میں بحالی کے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا کو افغانستان

میں ناکامی ہوئی تو اس نے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ امریکا سمجھتا تھا کہ افغان

مسئلے کا حل طاقت کا استعمال ہے لیکن میں نے ہمیشہ طاقت کے استعمال کی

مخالفت کی۔ میرے موقف کی وجہ سے مجھے طالبان کا حامی کہا گیا۔ امریکا کو

آخر کار افغان مسئلے پر مذاکرات کا راستہ نکالنا پڑا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ

مجھے پتا تھا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کیسے بہتر کیے جا سکتے ہیں کیونکہ

میرے سب سے زیادہ دوست وہاں ہیں، اس لیے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے

پہلے انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے میری پیشکش کا

مثبت جواب نہیں دیا۔وزیراعظم نے بتایا کہ پلوامہ حملے کے بعد میں نے کہا ثبوت

دیں تو کارروائی کریں گے لیکن بھارت نے ثبوت دینے کے بجائے بمباری کر دی،

اس کے بعد بھارت کے ساتھ معاملات زیادہ خراب اور کشیدگی بڑھ گئی۔ مودی کی

غلط پالیسیوں سے حالات خراب ہوتے گئے۔ اب پلوامہ جیسے واقعات دوبارہ رونما

ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید

تشویش ہے۔ مودی سرکار نے 80 لاکھ کشمیریوں کو لاک ڈاؤن میں رکھا ہوا ہے۔

مودی حکومت آر ایس ایس کے نظریے پر عمل پیرا ہے۔ اس نے انتخابی مہم

پاکستان سے نفرت کی بنیاد پر چلائی۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں شدید احتجاج ہو

رہا ہے، حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ بھارت دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے

کارروائی کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ ایل او سی پر اپنے مبصرین کو کیوں نہیں

بھیجتا؟وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکا اور بھارت کے تعلقات

سے کوئی سروکار نہیں، امریکی صدر سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات

ہوئی۔ فوری طور پر پاک بھارت جنگ کا خطرہ نہیں، تاہم خدشہ ہے کہ بھارت

پلوامہ جیسا حملہ کرکے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک

ارب 30 کروڑ لوگوں کا ملک انتہا پسندوں کے ہاتھ میں ہے۔ بھارت میں شہریت

قانون سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ ایل او سی پر کشیدگی کسی بھی وقت بڑے

حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ امریکا اور اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل میں

کردار ادا کرنا چاہیے۔ عمران خان نے بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے

ہوئے کہاہے کہ یہ جس ڈگر پر چل رہا ہے وہ تباہ کن ہے،لائن آف کنٹرول پر

کشیدگی کسی بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتی ہے،پاکستان 60 کی دہائی میں

ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشت تھی،پاکستان وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں

کرپشن کی وجہ سے پیچھے رہا۔

Leave a Reply