امن میں امریکہ کے

امن میں امریکہ کے شراکت دار ہیں،جنگ میں نہیں، کسی تنازعے کا حصہ نہیں بنیں گے ، عمران خان

Spread the love

امن میں امریکہ کے

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وزیراعظم عمران خان نے امریکا کو واضح اور دوٹوک پیغام

دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امن میں تو امریکا کے شراکت دار بن سکتے ہیں لیکن اب کسی بھی تنازع

اور جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے یہ بیان قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنے

پرجوش خطاب میں دیا وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی جنگ میں ہمارا ڈیڑھ سو ارب ڈالرز کا نقصان

ہوا، 70 ہزار افراد شہید ہوئے، امریکی جوکہتے رہے مشرف حکومت کرتی رہی، مشرف نے کتاب

میں لکھا پیسے لے کرلوگوں کوامریکہ کے حوالے کیا۔ڈرون حملوں سے متعلق وزیراعظم کا کہنا

تھاکہ 30 سال سے ایک دہشت گرد برطانیہ میں بیٹھا ہوا ہے توکیا برطانیہ ڈرون حملہ کرنے کی

اجازت دے گا؟ امریکا ہمارا دوست ہے اورہمارے ہی ملک میں ڈرون حملے کرتا رہا، جب یہ سب

کچھ ہورہا تھا تو میں نے اس کی مخالف کی جس پر مجھے ’طالبان خان‘ کہا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ

مائیک مولن نے کھلی سماعت میں کہا امریکا ڈرون حملے حکومت پاکستان کی اجازت سے کررہا

ہے، کھلی سماعت میں کہاگیا کہ حکومت پاکستان اپنے عوام سے کیوں جھوٹ بولتی ہے؟ اسامہ بن

لادن پر ایبٹ آباد میں امریکا نے حملہ کیا تو ہمارے بیرون ملک پاکستانی چھپ گئے۔عمران خان نے

مزید کہا کہ اس وقت ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون ہے، دونوں

طرف پاکستانی مارے جارہے تھے، کیا کوئی دوست ملک اپنے اتحادی ملک میں بمباری کرتا ہے؟

ہمارے ملک میں اجازت دی گئی اور پھر کہتے تھے ہم ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہیں، اس وقت

کی حکومت کا حوصلہ نہیں تھا کہ وہ امریکا کو انکار کرتے، عوام سے جھوٹ بولا جاتا تھا۔ان کا

مزید کہنا تھاکہ امریکا افغانستان کی جنگ نہیں جیت رہا تھا ہمیں برا بھلا کہا گیا، ہم پر افغان معاملے

میں دوہری پالیسی کا الزام عائد کیا گیا، ہم افغانوں کو جانتے ہیں، ہمارے بھائی ہیں، انہوں نے کبھی

بیرونی مداخلت برداشت نہیں کی، امریکا نے افغانستان سے جانے کی تاریخ دے دی، ہمیں کہا جارہا

ہے کہ طالبان کوٹیبل پرلے آئیں۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ مجھے سے پوچھا گیا کہ کیا

پاکستان امریکا کواڈے دے گا؟ ہمارا افغانستان میں کوئی فیورٹ نہیں جو افغان عوام چاہتے ہیں، ہم

افغانستان میں صرف امن چاہتے ہیں یہی ہمارے مفاد میں ہے، ہم ان کے ساتھ ہیں، پاکستان اب کسی

صورت اپنی خودمختاری پرسمجھوتا نہیں کرے گا، امریکا کے ساتھ امن کے شراکت دارہیں جنگ

کے ہرگزنہیں۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ 70 ہزار لوگ جنگ میں ہمارے مارے گئے، کیا امریکا

نے اس قربانی کی کبھی تعریف کی، اس نے تو الٹا ہم پر دوغلے پن کا الزام لگا دیا اور ہمیں برا بھلا

کہا۔ ہم اب کبھی خوف اور دباؤ سے قومی سلامتی پر کمپرومائز نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ

افغانستان سے افواج کے انخلا کا مشکل وقت آ رہا ہے، شکر ہے امریکا کو سمجھ آ گئی ہے کہ

افغانستان کا مسئلہ جنگ سے نہیں بلکہ بات چیت سے حل ہوگا۔ ہم افغانوں کو جانتے ہیں، وہ ہمارے

بھائی ہیں، ہمیں ان کی تاریخ کا پتا ہے، افغانستان نے کبھی دوسروں کی مداخلت کو قبول نہیں کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی دعوت دیتے

ہوئے کہا ہے کہ آئندہ دھاندلی کے الزامات کو روکنے کیلئے ہمیں آج یہ اقدام اٹھانا ہوگا۔وزیراعظم کا

کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ اب سیاسی جماعتیں الیکشن لڑیں تو کسی کو فکر نہ ہو کہ ہمیں دھاندلی

سے ہرا دیا جائے گا۔ اگر اب الیکشن ریفارمز نہیں کرینگے تو یہ سلسلہ مستقبل میں بھی چلتا رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اپوزیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ الیکشن پاکستان کا مسئلہ ہے، انتخابی

اصلاحات جمہوری نظام کے مستقبل کیساتھ جڑی ہیں، اپوزیشن کے پاس انتخابی اصلاحات ہیں تو ہم

سننے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے اندر کرکٹ میں بھی کوئی ہارتا تھا تو اپنی شکست

تسلیم نہیں کرتا تھا، کرکٹ میں نیوٹرل ایمپائر لانے پر مجھے فخر ہے۔ملک کی معاشی صورتحال پر

بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقتدار سنبھالا تو ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ تھا، ہمارے سامنے

سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا جبکہ قرضوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نئے تھے، ہمارا اتنا تجربہ بھی نہیں تھا لیکن ہم نے معیشت بہتر کرنے کیلئے

مشکل فیصلے کئے کیونکہ ملک مقروض ہو جائے تو مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ہماری معاشی

ٹیم نے ان مشکلات کا بڑی جانفشانی سے مقابلہ کیا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ دوست ممالک نے

مشکلات میں ہمارا بھرپور ساتھ دیا اور ہمیں ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا۔ چین، متحدہ عرب امارات اور

سعودی عرب نے ہماری مدد کی۔انہوں نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو کوشش کی کہ آئی ایم ایف کے پاس

نہ جائیں، ہم کوشش کرتے رہے کسی اور ذرائع سے پیسہ مل جائے لیکن مجبوراً آئی ایم ایف سے

معاہدہ کرنا پڑا، اس کی وجہ سے عوام کو تکلیف اٹھانا پڑی۔ اوپر سے کورونا آگیا جس سے مزید

مشکلات آئیں، روپے کی قدر کم ہونے سے مہنگائی بڑھی۔وزیراعظم نے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے

ہوئے کہا کہ اس نے پاکستان کو کورونا سے بچا لیا۔ بھارت، ایران، افغانستان، انڈونیشیا اور بنگلا دیش

کے مقابلے میں ہمارے حالات بہتر ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ مکمل لاک ڈاؤن نہیں کرنا کیونکہ ایسا

کرنے سے غریب طبقے نے پس جانا تھا، امریکا جیسے ملکوں میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے غربت

بڑھی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران ٹڈی دل کا حملہ بھی ہو گیا لیکن اﷲ نے ہمیں اس کے

حملوں سے بھی بچایا۔کورونا کے دوران اٹھائے گئے حکومتی اقدامات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا

تھا کہ ہم نے کنسٹریکشن اور ایگری کلچر سیکٹر کو پہلے کھولا، سٹیٹ بینک نے انڈسٹری کی پوری

مدد کی، ہم نے احساس کیش پروگرام میں ڈیڑھ کروڑ خاندانوں کو امداد دی، ورلڈ بینک نے بھی

احساس پروگرام کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں شفاف انتخابات کیلئے بہت

ضروری ہیں، انتخابی اصلاحات کیلئے اپوزیشن کی مثبت تجاویز پر بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ انہوں

نے کہا کہ اسلامی فلاحی ریاست کا نظریہ ریاست مدینہ سے لیا گیا ہے، انصاف اور قانون کی

بالادستی ریاست مدینہ کے سنہری اصول تھے، مسلمان جب تک ان سنہری اصولوں پر عمل پیرا رہے

حکمرانی کرتے رہے، ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کیلئے قائد کے نظریہ پر عمل پیرا ہونا ہو

گا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، انسانیت اور خودداری پر تحریک انصاف کی 25 سال قبل بنیاد رکھی۔

امن میں امریکہ کے

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply