افغان جنگ میں آڑھائی لاکھ اموات، امریکہ کے 22 کھرب 60 ارب ڈالرز خرچ

امن عمل تعطل کا شکار،افغانستان میں عسکری کارروائیاں جاری ہیں،امریکہ

Spread the love

امن عمل تعطل شکار

واشنگٹن ،کابل (جے ٹی این آن لائن نیوز) امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں

سرکاری افواج کو معاونت پیش کرنے کے سلسلے میں اس کی فضائی کارروائیاں جاری

ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق بیان میں مزید کہا کہ افغانستان سے امریکی سرزمین کے لیے کسی بھی

خطرے کی صورت میں واشنگٹن واپس آ کر اس خطرے کے ذرائع کو نشانہ بنانے پر مجبور ہو

جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ افغانستان کو ایک بار پھر دہشت گردوں کا گڑھ بننے

سے روکا جائے۔دوسری جانب امریکا کے وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ واشنگٹن اس بات

کا جائزہ لے رہا ہے کہ طالبان، افغانستان میں تنازع کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہیں یا نہیں جبکہ

طاقت کے زور پر ملک پر دوبارہ قبضے کی کوشش امن کوششوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔غیر ملکی

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق پیرس کے دورہ کرنے والے انٹونی بلنکن نے اعتراف کیا کہ امریکی

صدر جو بائیڈن، افغان صدر اشرف غنی اور ان کے سابق سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان

واشنگٹن میں طے شدہ ملاقات سے قبل افغان سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔امن

عمل اس وقت تعطل کا شکار ہے اور افغان سیکیورٹی فورسز، طالبان کا مقابلہ کر رہی ہیں جو کئی

صوبوں کے دارالحکومت کے لیے خطرہ ہیں۔فرانس کے وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس

کانفرنس کے دوران انٹونی بلنکن نے کہا کہ ہم افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال بہت غور سے

دیکھ رہے ہیں اور اس بات کو بھی بغور دیکھ رہے ہیں کہ کیا طالبان، تنازع کے پرامن حل کے لیے

سنجیدہ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے لیے افغانستان میں اسٹیٹس کو کوئی آپشن نہیں ہے، ہم ملک

کے کچھ حصوں میں افغان سیکیورٹی فورسز پر ایک سال قبل کی بنسبت حملوں میں اضافہ دیکھ رہے

ہیں۔امریکی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ اگر ہم افواج کے انخلا کا عمل شروع نہیں کرتے تو

اسٹیٹس کو کا خاتمہ نہیں ہوگا، جبکہ اسٹیٹس کو کوئی آپشن نہیں ہے۔ادھر امریکی حکام کی جانب

سے سفارتکاروں کی سیکیورٹی پر مامور 650 امریکی فوجیوں کے افغانستان میں رہنے کا امکان

ظاہر کرنے پر طالبان ترجمان سہیل شاہین نے اپنے ردعمل میں کہاہے کہ انخلا کی تاریخ کے بعد

بھی اگر امریکی افواج افغانستان میں رہیں تو طالبان ردعمل کا حق رکھتے ہیں۔ طالبان کا کہنا تھا کہ 11

ستمبر کی ڈیڈ لائن کے بعد اگر 650 امریکی فوجی افغانستان میں رہے تو یہ معاہدے کی واضح

خلاف ورزی ہوگی۔ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے کے تحت 11 ستمبر کے بعد امریکا

افغانستان سے تمام فوجیوں کے انخلا کا پابند ہے۔

امن عمل تعطل شکار

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply