امسال کپاس کی 55 لاکھ 71 ہزار گانٹھیں 1982 کے بعد کم ترین پیداوار

امسال کپاس کی 55 لاکھ 71 ہزار گانٹھیں 1982 کے بعد کم ترین پیداوار

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن بزنس نیوز) امسال کپاس کی پیداوار

رواں مالی سال کپاس کی پیدوار کا ہدف ایک کروڑ 8 لاکھ 90 ہزار گانٹھ مقرر کیا

گیا تھا تاہم بعد میں پیدوار 85 لاکھ 97 ہزار گانٹھ تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی،

حکومتی توقعات کے برعکس ملک میں کپاس کی پیداوار55 لاکھ 71 ہزار گانٹھوں

تک محدود رہی جو 1982 کے بعد کم ترین پیدوار ہے، موجودہ اور گزشتہ

حکومت کی طرف سے کپاس کی فصل کو نظر انداز کئے جانے، زراعت دشمن

پالیسیوں کی وجہ سے اہم ترین فصل کپاس تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے،

گزشتہ مالی سال بھی حکومت کی طرف سے کپاس کی پیدوار کا ہدف ایک کروڑ

42 لاکھ گانٹھ مقرر کیا گیا تھا تاہم پیدوار صرف 98 لاکھ گانٹھ تک محدود رہی،

گزشتہ تین سالوں میں کپاس کی پیدوار میں ریکارڈ 90 لاکھ گانٹھ کی کمی واقع

ہوئی ہے، اس سال کپاس کی کاشت کا ہدف بھی حاصل نہ ہو سکا اور کاشت صرف

22 لاکھ ایکڑ تک محدود رہی، رواں مالی سال کپاس کی پیداوار میں دونوں بڑے

صوبوں پنجاب اور سندھ میں نمایاں کمی ہوئی ، پنجاب میں اس سال کپاس کی

پیدوار کا ہدف 60 لاکھ گانٹھ مقرر کیا گیا تھا جس کے مقابلے میں رواں سال پیدوار

صرف 34 ہزار 36 لاکھ گانٹھ تک محدود رہی جبکہ گزشتہ سال پنجاب میں کپاس

کی پیدوار 50 لاکھ 14 ہزار گانٹھ تھی، سندھ میں رواں مالی سال کپاس کا پیداواری

ہدف 46 لاکھ گانٹھ مقرر کیا گیا تھا جس کے مقابلے میں پیداوار21 لاکھ 34 ہزار

گانٹھ ریکارڈ کی گئی، گزشتہ سال سندھ میں پیدوار 34 لاکھ 72 ہزار گانٹھ رہی

تھی۔

=یہ بھی پڑھیں= کپاس کی پیداوار 34.35 فیصد کم، نوبت درآمد تک پہنچ گئی

ذرائع کے مطابق ناقص زرعی ادویات، معیاری بیج کی عدم دستیابی اور کپاس کی

بجائے گنے کو پروموٹ کئے جانے کی وجہ سے کپاس کی پیدوار میں کمی ہو

رہی ہے، اس کے علاوہ آب و ہوا میں تبدیلی، گرمی کی لہر، روئی کی پتیوں پر

کرل وائرس، پنک بال وارم اور سفید مکھیوں کا حملہ بھی کم پیداوار کی بنیادی

وجوہات ہیں۔ حکومت کی طرف سے دو سال قبل 2019 میں نئی کاٹن پالیسی کا

اعلان کرنے اور فصل والے علاقوں کی زوننگ کرنے کے اعلانات کئے گئے

تھے تاہم تاحال اس حوالے سے عمل درآمد نہیں ہو سکا، کپاس کی پیداوار میں کمی

کی وجہ سے رواں سال ٹیکسٹائل کا شعبہ بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے،

ٹیکسٹائل ملوں کو رواں سال اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے ایک سے ڈیڑھ

کروڑ گانٹھ تک 20 فیصد مہنگی کپاس درآمد کرنا پڑے گی۔

=—–= قارئین =-: ہماری کاوش پسند آئی ہو گی،اپ ڈیٹ رہنے کیلئے ہمیں فالو کریں

امسال کپاس کی پیداوار

Leave a Reply