امریکی چینی صدورمیں آج ورچوئل ملاقات، توقعات، امکانات اورخدشات

امریکی چینی صدورمیں آج ورچوئل ملاقات، توقعات، امکانات اورخدشات

Spread the love

نیویارک(تجزیہ ارشد چودھری) امریکی چینی صدورمیں

Journalist Arshed Chodhary from USA

امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ کے مابین آج سوموار کی

شام ہونے والی ورچوئل ملاقات میں تائیوان کے قریب چین کی فوجی سرگرمیوں

پر تناؤ، انسانی حقوق، ماحولیاتی تبدیلی پر تعاون سمیت متعدد موضوعات کا احاط

کئے جانے کا امکان ہے، جو گزشتہ ہفتے سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں اقوام

متحدہ کی سربراہی اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی ضرورت سے

متعلق مشترکہ بیان پر امریکہ اور چین کے معاہدے پر پہنچنے کے بعد سامنے آیا

ہے، وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جین ساکی نے دونوں صدور کے مابین آج

ورچوئل ملاقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا دونوں رہنما امریکہ و چین میں مقابلہ

کو ذمہ داری سے سنبھالنے کے طریقوں کیساتھ مل کر کام کرنے کے طریقوں

پر تبادلہ خیال کریں گے کیونکہ ہمارے مفادات ملتے ہیں، صدر بائیڈن امریکی

ارادوں اور ترجیحات کو واضح کریں گے، جبکہ چین سے خدشات کے بارے

میں ہمارے فیصلے اٹل ہوں گے، اکتوبر میں بائیڈ ن اور شی جن پنگ میں اس

سال کے اختتام سے قبل عملی طور پر ملاقات کے لئے اصولی طور پر معاہدے

پانے کے بعد کئی ہفتوں سے خصوصی میٹنگ کا شیڈول بنانے کے لئے کام

کرتے رہے ہیں۔

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

قبل ازیں جمعہ کو پریس بریفنگ کے دوران پریس سیکرٹری نے کہا یہ ملاقات

گہری سفارتکاری کا تسلسل ہے، جو بائیڈن انتظامیہ نے پچھلے دس مہینوں میں

چین کے حوالے سے کی ہے، انہوں نے کہا ہمیں اس سے مخصوص ڈلیور اپیلز

کی توقع تو نہیں ہے، یہ گلاسکو میں چین کیساتھ ممکنہ سمجھوتے کے شعبوں پر

کام کرنے اور امریکی صدر بائبڈن کے نقطہ نظر کو چینی قیادت تک پہنچانے

کی کوشش ہے، جیسا کہ کرونا وائرس وبائی بیماری، موسمیاتی تبدیلی، انسانی

حقوق، تجارتی طریقوں اور ایشیاء میں فوجی سرگرمیوں پر چین کے رویے پر

اعتراضات اٹھاتے ہوئے خاص کر بحرالکاہل کے علاقہ میں برقرار کشیدگی میں

کمی کرنے کے لئے جو بائیڈن نے گلاسکو میں پریس کانفرنس سے خطاب میں

کہا تھا، ہم چین کیساتھ تصادم نہیں بلکہ مقابلہ کے خواہاں ہیں، میں اس بات کو

یقینی بنانا چاہتا ہوں کی کوئی غلط فہمی میں نہ رہے بلکہ امریکہ اور چین کے

مابین مقابلہ ہے تنازع نہیں۔

=-= دنیا بھر سے مزید اہم خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

یہ امر قابل ذکر ہے ٹرمپ انتظامیہ کے دوران امریکہ اور چین کشیدگی عروج پر

رہی اورکئی محاذوں پر اختلاف رائے کی وجہ سے وہ کشیدگی بائیڈن دور میں

بھی برقرار ہے، اسی طرح سیکر ٹری خارجہ اینتونی بالنکن، قومی سلامتی کے

مشیر جیک سیلون کی چینی ہم منصبوں کے درمیان اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے

موقع پر بھی باہمی تعلقات آگے بڑھنے کے راستے سے متعلق سوالا ت اٹھائے

گئے۔ یہ بھی قابل ذکرہے کہ امریکی اور چینی صدور دو بار فونک رابطہ کر

چکے ہیں، ستمبر میں ہونے والی ٹیلی فونک بات چیت میں دوسرے موضوعات

کا احاطہ کیا گیا، سب سے اہم مسئلہ جس نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی وہ

موسمیاتی تبدیلی ہے، لیکن یہاں جوبائیڈن کو شدید تنقید کرنے کے باوجود چین

کی طرف سے گلوبل وارمنگ کو روکنے کی کوشش میں بھرپور تعاون کرنے

کے عزم کا اعادہ ملا، چین کی جانب سے اس عہد نے موسمیاتی تبدیلی کیخلاف

جنگ میں کچھ اُمیدیں پیدا کی ہیں۔

=-،-= ورچوئل ملاقات سے بریک تھرو کی توقع انتہائی کم

آج ہونے والی ورچوئل ملاقات میں امریکہ چین کے درمیان ساؤتھ چائنا سمندری

تائیوان میں امریکی دخل اندازی سے پیدا ہوئی کشیدگی میں کچھ کمی تو آ سکتی

ہے، لیکن محاذآرائی برابر قائم رہے گی، کیونکہ علاقائی طاقتیں روس اور چین

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایشیاء کے سمندروں میں ہرگز تسلط قائم کرنے

کی اجازت نہیں دیں گے، ورچوئل اجلاس میں امریکی انتظامیہ کی چین کے ساتھ

تجارتی طور پر پیشرفت ہو سکتی ہے، لیکن طاقت کے توازن میں پیشرفت ہونے

کے امکانات بہت کم ہیں، جس کی وجہ سے سرد جنگ کا سماں برقرار رہیگا۔

امریکی چینی صدورمیں ، امریکی چینی صدورمیں ، امریکی چینی صدورمیں

امریکی چینی صدورمیں ، امریکی چینی صدورمیں ، امریکی چینی صدورمیں

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply