tiktok and trump

امریکا نے لگائی پابندی، ٹک ٹاک کمپنی نے کردیا ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن،بیجنگ(جے ٹی این آن لائن ٹیکنالوجی نیوز) امریکی پابندی ٹک ٹاک

چینی کمپنی ٹِک ٹاک نے امریکا کی جانب سے پابندی عائد کرنے پر ٹرمپ انتظامیہ

پر واشنگٹن کی فیڈرل کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا، جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی

جانب سے عائد پابندی کو روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹِک

ٹاک اور اس کے زیرملکیت کمپنی نے ٹرمپ انتظامیہ کے اقدام کو عدالت میں

چیلنج کیا اور یہ چینی کمپنی کی جانب سے امریکی صدر کے ایکشن کو دوسری

مرتبہ عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جاسوسی کا خطرہ، امریکی فوجیوں پر ٹک ٹاک کا استعمال ممنوع
————————————————————————————–

ٹِک ٹک نے اپنی درخواست میں مقف اختیار کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے

اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور یہ اقدام کسی غیر معمولی خطرے کو روکنے

کیلئے نہیں بلکہ سیاسی وجوہات کی بنا پر اٹھایا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی

طرف سے پابندی انکی ہی آزادی اظہار کی پہلی ترمیم کی بھی خلاف ورزی

ہے جبکہ امریکی صدر کا یہ ایکشن اس آن لائن کمیونٹی کو بکھیر دے گا جہاں

لاکھوں امریکی اپنے جذبات کے اظہار کیلئے اکٹھا ہوئے ہیں۔ ٹِک ٹاک نے اپنی

درخواست میں دعوی کیا کہ امریکی حکومت نے امریکی صارفین کیلئے ٹِک ٹاک

کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کے عزم کے ثبوتوں کو نظر انداز کیا۔

امریکہ ٹک ٹاک کمپنی کے مقدمہ دائر کرنے کےاقدام پر مکمل خاموش

امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاﺅس نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کو عدالت

میں چیلنج کرنے کے ٹِک ٹاک کے اقدام پر فوری کوئی رد عمل نہیں دیا۔ امریکا

میں آج اتوار سے چینی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک اور مسیجنگ ایپ وی چیٹ ڈان

لوڈ کرنے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا چینی ایپلی

کیشنز ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں، چین کی کمیونسٹ پارٹی ان ایپس کے

ذریعے امریکا کی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور معیشت کو خطرے میں

ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آج سے امریکا بھر میں وی چیٹ پر موثرپابندی عائد

ہو گی تاہم ٹک ٹاک کے موجودہ صارفین 12 نومبر تک یہ ایپ استعمال کر سکیں

گے۔ 12 نومبر کے بعد ٹک ٹاک پر بھی امریکا میں مکمل پابندی عائد ہوگی۔ امریکی

اقدام سے وی چیٹ اور ٹک ٹاک کو گوگل اور ایپل کے آن لائن سٹور سے ڈان لوڈ

نہیں کیا جاسکے گا۔

امریکی محکمہ تجارت کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، ٹک ٹاک انتظامیہ

سماجی رابطوں کے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ اسے امریکی

محکمہ تجارت کے کمپنی کی مقبول ترین ایپلی کیشن کو اتوار سے ڈان لوڈ اور

اپ ڈیٹ کرنے سے روکنے کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔ لاس اینجلس میں

قائم اس ٹیک کمپنی کا کہنا ہے تفریح، اظہار خیال اور رابطوں کا ایک مرکز ہونے

کی وجہ سے10 کروڑ امریکی صارفین ٹک ٹاک کے گرویدہ ہیں اور ہم خاندانوں

کو خوشیاں دینے اور ہمارے پلیٹ فارم پر آنے والوں کیلئے بامقصد کیریئر پیش

کرنے کا کام جاری رکھتے ہوئے اپنے صارفین کی رازداری اور سلامتی کا

تحفظ کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔

چین کی وی چیٹ اور ٹک ٹاک پر پابندی کے امریکی اقدام کی بھرپور مخالفت

چین کی وزارت تجارت ( ایم او سی ) نے بھی ردعمل میں کہا ہے کہ اگر

امریکہ نے یہی رویہ برقرار رکھا تو چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور

مفادات کے مستقل تحفظ کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے گا، بغیر کسی ثبوت کے

امریکہ نے بار بار غیر اعلانیہ وجوہات کی بنا پر دونوں کاروباری اداروں کو

دبانے کیلئے ریاستی طاقت کا استعمال کیا، جس سے ان کی معمول کی کاروباری

سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں، امریکہ کے سرمایہ کاری ماحول میں بین الاقوامی

سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوا اور معمول کی عالمی معاشی و تجارتی

سرگرمیوں کو نقصان پہنچا۔ وزارت نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ فوری طور

پر دھونس دھاندلی کے اقدامات کو بند اور بین الاقوامی قواعد و ضوابط کا تحفظ

کرے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

امریکی پابندی ٹک ٹاک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply