امریکی محکمہ خارجہ اور 8عالمی تنظیموں نے دنیا میں بھارت کا منہ کالا کردیا

واشنگٹن ،جنیوا(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی محکمہ خارجہ نے کہاہے کہ بھارتی حکام نے گزشتہ سال 5

اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعدمقبوضہ علاقے میں سیاسی

رہنماؤں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار، موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل اور کشمیریوںکی نقل

و حرکت پر پابندی عائد کر دی ۔ بھارت میں مذہب اور سماجی حیثیت کی بنیاد پر اقلیتوں کوفرقہ ورانہ

تشدد اور امتیاز کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یہ سالانہ رپورٹ

کانگریس کی تائید سے جار ی کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور کتابوں کی اشاعت یا تقسیم پر مکمل پابندی عائد کررکھی ہے۔ گزشتہ

سال کے دوران آزادی صحافت بری طرح متاثر ہو ئی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے سرکاری

عہدیدار، تنقید کرنے والے میڈیا کے اداروں کو خاموش یا خوفزدہ کرنے ، مالکان پر دبائو بڑھانے ،

موبائل فون، کیبل ٹی وی اور انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی سروسز معطل کرنے اور آزادانہ نقل و حرکت

پر پابندی عائد کرنے میں ملوث تھے۔ غیر ملکی ماہرین اور دانشوروں پر مقبوضہ کشمیر جانے اور

وہاں سرگرمیاں کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔رپورٹ میں انسانی حقوق سنگین کی

پامالیوںکی نشاندہی کی گئی ہے جن میں پولیس کی طرف سے ماورائے عدالت قتل ، قید خانوںمیں ظلم

و تشدد ، جبری گرفتاریاں اور نظربندی شامل ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ نے بعض بھارتی ریاستوں

میں سیاسی نظربندیوں ، صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریوں، ان پر تشدد یا انکے خلاف مقدمات ، سنسر

شپ،سوشل میڈیا اورویب سائٹ بلاک کرنے سمیت آزادی اظہار رائے کی آزادی اور آزادی صحافت

پر قدغن پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بھارت میںعہدیداروں کی بدچلنی اور بد

انتظامی پر جوابدہی کا فقدان حکومت کی تمام سطحوں پر پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق

کی 8 معروف بین الاقوامی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشین فورم برائے انسانی حقوق اور ترقی ،

ہیومن رائٹس واچ ، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس لیگز ، انٹرنیشنل سروس فار ہیومن رائٹس

،سیویکس ، انٹرنیشنل کمیشن فار جیورسٹس اور انسداد تشدد کی عالمی تنظیم نے جنیوا سے جاری

ایک مشترکہ بیان میںکہا ہے کہ بھارتی حکام نے گزشتہ سال 5 اگست کو مقبوضہ علاقے کی

خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد سخت کرفیو اورپابندیاں عائد کردی تھیں ۔اس دوران

مقبوضہ علاقے میں کافی وقت تک انٹرنیٹ سروس معطل رکھی گئی جو کہ دنیا میں انٹر نیٹ کی

طویل معطلی ہے اور اس معطلی کو بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اظہاررائے کی آزادی کے حق کی

خلاف ورزی قراردیا۔ سینکڑوں افراد کوجبری طورپر گرفتار کیا گیا اور دوران حراست ان پر بدترین

ظلم و تشدد اور امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے سنگین الزامات بھی سامنے آئے۔حریت رہنمائوں

اور کارکنوں کے علاوہ تین سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ ، دیگر سرکردہ سیاست دان کالے قانون پبلک

سیفٹی ایکٹ اور دیگر ظالمانہ قوانین کے تحت نظربند ہیں۔ نظربندوں میں سے بیشتر پر کوئی الزام

نہیں ہے اور انہیں وادی کشمیر سے باہر نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے ۔ یہ ضابطہ فوجداری کے

منصفانہ ٹرائل کی خلاف ورزی ہے اور اس سے احتساب ، شفافیت اور انسانی حقوق کا احترام متاثر

ہوتاہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پابندیوں اور فوجی محاصرے پر تنقید کرنے پر صحافیوں اور انسانی

حقوق کے علمبرداروںکو دھمکیاں دی جارہی ہیں جبکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ علاقے میں

اس طرح کی خلا ف ورزیوںکو مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔انسانی حقو ق کی تنظیموں نے بھارتی

حکومت پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے علمبرداروں اور غیر ملکی صحافیوں سمیت تمام آزاد

مبصرین کو آزادانہ طورپر اپنے فرائض انجام دینے کیلئے جموںوکشمیر تک رسائی دے ، بلا جواز

طورپر گرفتار تمام نظربندوںکو فوری طورپر رہا اور اظہار رائے کی آزادی اور آزادانہ نقل و حرکت

کے حقوق پر عائد پابندی فوری ہٹائے ۔ بیان میں بھارت اور پاکستان کی حکومتوں پرزوردیا گیا کہ وہ

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر اور انسانی حقوق کے دیگر تنظیموں کو

کشمیر تک غیر مشروط رسائی فراہم کریں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق

کونسل پر بھی زور دیا کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی غیر جانبدارنہ تحقیقات کیلئے

بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن قائم کرے جس کی سفارش اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے

سربراہ نے بھی کر رکھی ہے ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: