corona Special jtnonline2

امریکی ماہر طب کا بھارت میں یومیہ 9 لاکھ کرونا کیسز رپورٹ ہونے کا انتباہ

Spread the love

واشنگٹن، نئی دہلی( جے ٹی این آن لائن کرونا سپیشل) امریکی ماہر طب بھارت

امریکا میں یونیورسٹی آف مشی گن کی ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹربھرامار مکھرجی

نے خبردار کیا ہے کہ اگر درست اور کافی اقدامات نہ کئے گئے تو کرونا وائرس

کی صورتحال بہت زیادہ بگڑ سکتی ہے اور مئی کے دوسرے ہفتے میں یومیہ آٹھ

سے نو لاکھ نئے مریض سامنے آ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مکھرجی کے بنائے گئے ماڈل

کے تحت اس ہفتے میں انڈیا میں یومیہ اموات کی تعداد ساڑھے چار ہزار تک پہنچ

سکتی ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں کرونا وباء کی دوسری لہر ہنگامی صورت

حال اختیار کر چکی ہے اور دو کروڑ سے زیادہ متاثرین کیساتھ یہ دنیا میں کرونا

وائرس کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بنتا جا رہا ہے۔

=–= کرونا وائرس سے متعلق خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

گزشتہ روز بھی بھارت میں مزید 3920 اموات ہوئیں اور مسلسل دوسرے روز 4

لاکھ سے زائد کیسز سامنے آئے، گزشتہ روز414433 نئے کیسز کی تصدیق کی

گئی۔ اس حوالے سے بھارت کی سپریم کورٹ نے گزشتہ روز کہا حکومت کو ملک

میں کرونا کی تیسری لہر کی تیاری ابھی سے کرنی چاہیے۔ سائنسدانوں کے مطابق

تیسری لہر میں بچے بھی متاثر ہوں گے اور جب بچے ہسپتال جاتے ہیں تو ان کے

والدین کو بھی ساتھ جانا پڑے گا، اس لیے ہمیں اس گروپ کو بھی ویکسین لگانی

پڑے گی۔

=-= قارئین ہماری کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ادھر کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ملک کو ایک مرتبہ پھر مکمل لاک

ڈاؤن کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ کرونا وبا کی موجودہ صورتحال میں مالی طور

پر کمزور طبقے کو مالی امداد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ بھارتی ریاست

کیرالہ میں 8 سے 16 مئی تک کیلئے لاک ڈاﺅن نافذ کر دیا گیا ہے۔ چیف منسٹر

پینارائے ویجایان کے دفتر سے جاری اعلان میں بتایا گیا لاک ڈاؤن آٹھ مئی کی

صبح 6 بجے نافذ کیا جائیگا۔ کیرالہ کے علاوہ انڈیا کی دیگر بہت سی ریاستیں بھی

لاک ڈاؤن کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ ہماچل پردیش کی جانب سے بھی اعلان کیا گیا

ہے کہ وہاں7 سے 16 مئی تک کرفیو نافذ رہے گا اور 13 مئی تک تمام تعلیمی

ادارے بند رہیں گے۔ راجستھان میں 10 سے 24 مئی تک لاک ڈاﺅن کا اعلان کیا

گیا ہے۔ دلی اور مہاراشٹرا میں پہلے ہی لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ اسی طرح یوپی اور

اڑیسہ سمیت کچھ اور ریاستوں میں رات کے وقت کرفیو بھی نافذ ہے۔

=–= کرونا کی موجودہ تبدیل شدہ قسم کا تعلق دوسری لہر سے ممکن

بھارت کے محکمہ صحت نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی جنیاتی طور پر دوہری

تبدیل شدہ قسم جو رواں برس مارچ میں سامنے آئی، ممکن ہے اسکا تعلق وائرس

کی دوسری تباہ کن لہر سے ہو۔ جبکہ کرونا وائرس نے شہروں سے دیہات کا رخ

بھی کر لیا ہے، 70 فیصد آبادی کے حامل دیہی علاقوں میں علاج کی سہولتوں کے

فقدان نے عالمی وبا سے لاحق خدشات میں اضافہ کر دیا، صوبہ مدھیہ پردیش کے

ضلع اگر مالوا میں درختوں کے نیچے کمبل بچھا کر کرونا مریضوں کا علاج کیا

جا رہا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں صورتحال کی سنگینی اور ایمبولینسزکی کمی

کے باعث دہلی میں حکام نے این جی او ز کی مدد سے کووڈ 19 کے مریضوں کو

لے جانے کیلئے رکشے بطور عارضی ایمبولنس استعمال کرنا شروع کر دئیے۔

=-= سری لنکا نے بھارتیوں کے ملک داخلے پر پابندی لگا دی

ادھر کرونا کیسز میں ریکارڈ اضافے کے پیش نظر سری لنکا نے بھارتیوں کے

ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی۔ علاوہ ازیں روسی حکام نے سنگل ڈوز کرونا

ویکسین سپوتنک لائٹ کی منظوری دے دی، کمپنی کے ٹویٹ کے مطابق سپوتنک

لائٹ عالمی وباء کی بڑھتی لہر سے فوری قابو پانے کیلئے موثر ہے ، ٹرائل کے

دوران اس سے 80 فیصد نتائج حاصل کئے گئے۔

امریکی ماہر طب بھارت

Leave a Reply