Halat e Hazra,Current Affair

امریکی کمیشن کی رپورٹ نے کیا ” ہندو توا ” کا حقیقی چہرہ بے نقاب

Spread the love

سرینگر (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) امریکی رپورٹ ہندوتوا چہرہ

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے

کہ بین الاقوامی مذہبی آزادی کے بارے میں امریکی کمیشن نے بھارت میں” ہندوتوا “ کا اصل

چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق امریکی کمیشن نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا

ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی مزید تنزلی کا شکار ہے۔ کمیشن نے اقلیتوں سے بدترین سلوک اور

مذہبی آزادی کی خلاف ورزی پر بھارت کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی بھی سفارش کی ہے۔

=—–= ایسی ہی مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے امریکی کمیشن کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی

وزیراعظم نریندر مودی کی زیرقیادت فاشسٹ بھارتی حکومت مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر

رہی ہے۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں خصوصا مسلمان اور عیسائیوں کو مستقل خطرہ لاحق ہے۔ بھارت

اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے بہانے تمام اقلیتوں کے مذہبی

اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ مودی حکومت نے ہندوؤں سے متعلق مختلف مذہبی

تقاریب کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے بتایا کہ کورونا کی تیزی

سے بڑھتی ہوئی وباء کے دوران اتھرا کھنڈ میں ہندوﺅں کے کنبھ میلے کا انعقاد اور جموں وکشمیر

میں امرناتھ یاترا کے انعقاد کے منصوبے نے مودی حکومت کا دوہرا معیار مزید بے نقاب کر دیا ہے۔

=—–= ایسی ہی مزید معلومات پر مبنی خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

کشمیری سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا کہ مودی حکومت نے گزشتہ برس دہلی میں تبلیغی

جماعت کو ” کورونا بم” قرار دیا تھا جبکہ وہ کمبھ میلے کی شکل میں ” کورونا جوہری بم ” سے آنکھیں

چرا رہی ہے۔ اگر کمبھ میلے والوں کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہوتا تو ان کیخلاف مقدمات درج ہو گئے

ہوتے۔ مودی حکومت نے کورونا کے تیزی سے پھیلاﺅ کے باوجود اپریل کے پورے مہینے میں

جاری رہنے والے” کمبھ میلے کو ” بند کرنے سے انکار کیا جبکہ اس نے رمضان کے مقدس

مہینے میں مسلمانوں کو نماز تراویح سے روکنے کے لئے مقبوضہ جموں و کشمیر

میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

=–قارئین–=کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

مودی حکومت اپنے ہندوتوا ایجنڈے کے ایک حصے کے طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلم

کثر یت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے اور 5 اگست 2019ء کی اس کی کارروائی اسی

مذموم منصوبے کا حصہ تھی۔ بی جے پی حکومت نے ہزاروں غیر کشمیری ہندوؤں کو مقبوضہ

علاقے کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس دیے ہیں ۔ نریندر مودی کی فسطائی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں

اہم مقامات اور محکموں کے مسلم نام بدل کر انہیں ہندو ناموں سے منسوب کیا ہے اور وہ علاقے میں

پچاس ہزار مندر تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔ سیاسی ماہرین اورتجزیہ کاروں نے کہا کہ

مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے بھارت میں مذہبی آزادی نے سنگین شکل اختیار کر لی ہے

اورملک عدم برداشت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ عالمی برادری و انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو

بھارت میں مذہبی اقلیتوں کو ہندو فسطائیت سے بچانے کیلئے آگے آنا ہو گا۔

امریکی رپورٹ ہندوتوا چہرہ

Leave a Reply