امریکی خلا نورد کی واپسی

امریکی خلا نورد کی خلائی سٹیشن کے چھ ماہ تاریخی وزٹ کے بعد واپسی

Spread the love

امریکی خلا نورد کی واپسی

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن نیوز) امریکی خلائی ادارے ناسا کے چار خلاء نورد خلاء میں قائم بین

الاقوامی خلائی سٹیشن کی چھ ماہ کے عرصے تک محیط ’’تاریخی وزٹ‘‘ کے بعد واپس پہنچ گئے

ہیں۔ ڈریگون کہلانے والا کیپسول فلوریڈا کے قریب خلیج میسکیو کے سمندر میں سوموار کی رات

ساڑھے دس بجے اترا۔ ناسا نے زمین کے مدارمیں آنے سے لے کر سمندر میں اترنے تک کو ویب

کاسٹ کے ذریعے لائیو دکھایا۔ خلائی سٹیشن میؒ خلاء نوردوں کے چھ ماہ تک قیام اور انتہائی اہم

تحقیق کرنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہوگیا ہے۔ ناسا کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ان چار خلا

نوردوں کے مشن سے خلائی تسخیر کے میدان میں انتہا دجے کی کامیابی ہوئی ہے۔ طویل مدت تک

قیام کے دوران انہوں نے جو تحقیق کی ہے اور ڈیٹا جمع کیاہے اس کے نتیجے میں اب ’’مستقل

خلائی سٹیشن‘‘ کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گا۔ ان تجربات کے بعد زمین پر قائم ہوائی جہازوں

کے اڈوں کی طرح خلاء میں بھی ایک مستقل سٹیشن قائم ہو جائیگا۔ یہ سٹیشن بین الاقوامی سہولت

فراہم کرے گا۔ جہاں امریکہ سمیت دیگر ممالک یا اداروں کی خلائی گاڑیاں یا جہاز ہوائی جہازوں کی

طرح آجاسکیں گے۔ قبل ازیں ناسا نے اپنے خلا نوردوں کے خلائی سٹیشن کے مشن پر 168 دن

گزارنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔ موجودہ مشن نے اسے توڑ کر 199دن کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔

ناسا کے چار خلا نوردوں میں مشن کمانڈر 54سالہ شین کمبرو، 50 سالہ میگن میکارتھر، 52سالہ

اکیکو ہوشائڈ اور 43سالہ تھامس پیسکوئٹ شامل تھے۔

امریکی خلا نورد کی واپسی

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply