0

امریکی انخلاء تک جنگ بندی ناممکن،پورے افغانستان پر طاقت سے قبضہ نہیں چاہتے، طالبان

Spread the love

افغان طالبان کے رہنما شیر عباس ستانکزئی نے کہا ہے کہ طالبان پورے افغانستان پر طاقت سے قبضہ کرنا نہیں چاہتے اور سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ حکومت افغانستان میں امن لانا چاہتی ہے۔امریکہ کیساتھ امن مذاکرات میں طالبان ٹیم کے سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی نے ماسکو میں برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم پورے ملک پر طاقت سے قبضہ کرنا نہیں چاہتے، کیونکہ اس سے افغانستان میں امن نہیں آئے گا، ان کا کہنا تھا کہ طالبان جنگ بندی پر اس وقت تک رضامند نہیں ہوں گے جب تک غیرملکی افواج کا افغانستان سے انخلا نہ ہوجائے ۔ جب ہم 1990کی رہائی میں اقتدار میں تھے اور ہمیں مخالف افغان گروہوں کی جانب سے مسلح مخالفت کا سامنا ہوا تو اس وقت ہمیں یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ مسائل کے حل کا بہتر طریقہ بات چیت ہے۔عباس ستانکزئی نے کہا کہ جنگ سے زیادہ مشکل چیز امن ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان میں امن لانا چاہتی ہے، امید ہے کہ افغان تنازع ختم کیا جا سکتا ہے، تاہم طالبان جنگ بندی پر اس وقت تک رضامند نہیں ہوں گے جب تک کہ تمام بیرونی افواج افغانستان سے نہیں چلی جاتیں۔عباس ستانکزئی نے ماسکو میں ہی ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان اقتدار پر اپنی اجارہ داری نہیں چاہتے لیکن افغانستان کا آئین مغرب سے درآمدہ ہے اور وہی امن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔خواتین کے حقوق کے بارے میں عباس ستانکزئی نے کہا کہ طالبان کے بڑھتے اثرات سے خواتین کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ خواتین کو شریعت اور افغان ثقافت کے تحت سارے حقوق دینے کی کوشش کریں گے، وہ اسکول، یونیورسٹی جا سکتی ہیں اور ملازمت بھی کر سکتی ہیں۔افغان حکومت سے مذاکرات کے بارے میں عباس ستانکزئی نے کہا کہ جب امریکا اپنی افواج کے انخلا کا اعلان کرے گا تو وسیع تر افغان مذاکرات ہو سکتے ہیں، جس میں دوسرے لوگوں کے ساتھ موجودہ افغان حکومت کے نمائندے بھی مستقبل کی حکومت چننے کے لیے شامل ہوں گے۔عباس ستانکزئی نے مزید کہا کہ طالبان نے ماسکو میں افغانستان کے ان سیاسی رہنمائوں سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے جن کے پاس زمین پر افرادی قوت ہے۔

Leave a Reply