امریکی افغانستان سے بھاگ رہا ہے

Spread the love

تحریر:..چودھری عاصم ٹیپو ایڈووکیٹ
TIPU.ASIM@YAHOO.COM
نائن الیون کے بعد امریکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت اور القاعدہ کےخلاف کارروائی کیلئے جس طرح جلد بازی میں افغانستان پرحملہ آورہواتھا 17سالہ جنگ میں کھربوں روپے ضائع کرنے کے بعد اب افغانستان سے نکلنے کیلئے بھی اتنی ہی جلد بازی کامظاہرہ کررہاہے ۔امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون اور محکمہ خارجہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو اب یہ یقین ہوگیاہے اگر افغان عمل امن کا ونٹ کسی کروٹ نہ بیٹھا تو صدر ٹرمپ اپنے سٹیٹ یونین خطاب میں یکطرفہ طور پر ہی افغانستان سے فوجیں واپس بلانے کا اعلان کردیں گے۔یہی وجہ ہے اب امریکہ اور افغانستان دونوں ہی مذاکرات میں سنجیدہ ہیں جبکہ ملک کے 60فیصد حصے پر قابض طالبان کو کوئی جلدی نہیں کیونکہ انکی پوزیشن بہتر ہورہی ہے ۔ادھر چین نے بھی طالبان کی حمایت کردی ہے ،پاکستان میں چینی سفیر یاو¿جنگ نے اپنے بیان میں کہاہے چین طالبان کو افغانستان میں ایک سیاسی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ بیجنگ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن قائم کرنے کیلئے پاکستان کی حالیہ کوششوں کو سراہتا ہے۔ طالبان کو مستقبل میں بھی سیاسی استحکام کیلے کردار ادا کرنے کی اجازت ملنی چاہیے، ہم سب افغانستان کے مسئلے کے پر امن حل کیلئے پرامید ہیں لیکن یہ ایک نازک مسئلہ ہے جسے حل ہونے تک ہمیں تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔بیجنگ کی خارجہ پالیسی کبھی بھی کسی پر اثر انداز ہونے یا کسی کو کنٹرول کرنے کی بنیاد پر نہیں رہی، اب چین نے نئی خارجہ پالیسی ترتیب دی ہے جس کی بنیاد بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ(بی آر آئی)ہے۔دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکہ طالبان رابطوں کی تصدیق اور اس میں پاکستانی کردار کا اعتراف ظاہر کر رہا ہے بالآخر مسئلہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مو¿قف کی فتح ہوئی اور افغانستان میں امن مذاکرات میں پاکستان کو بنیادی حیثیت اور اہمیت مل گئی ہے ۔
افغانستان میں کھیل اب آخری مرحلے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ وہاں امریکہ کی طویل المدت فوجی مہم کے خاتمے کی توقعات نے چند ایسے منظرناموں کو جنم دیا ہے جو ملکی مستقبل کا تعین کرسکتے ہیں۔موجودہ سفارتکاری سے یا تو ایک ایسے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوسکتی ہے جس سے افغانستان اور خطے کے اندر ظاہری حیثیت میں امن قائم ہوسکتا ہے یا پھر یکطرفہ یا امریکہ اور نیٹو کے نظم و ضبط سے عاری انخلا ءکی راہ ہموار ہوسکتی ہے جو افغانستان کی 40 سالہ خانہ جنگی کے باب کو ایک بار پھر دہرانے کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم دیگر منظرناموں کا بھی امکان ہے، کیونکہ کئی قوتیں کھیل کے آخری مرحلے میں ٹکراتی ہیں یا پھر اتحاد کرتی ہیں۔سب سے نمایاں قوت ہے افغان طالبان کی شورش کا زور۔ یہ اب ملک کے 60 فیصد حصے پر غالب ہے اور یہ حوصلہ پست افغان سکیورٹی اہلکاروں پر بھی زبردست دباو¿ کا باعث بنا ہوا ہے۔ خوداعتمادی سے سرشار طالبان نے مشکل میں گھری اشرف غنی حکومت کےساتھ امن مذاکرات کرنے سے صاف انکار کردیا ہے اور غیرملکی افواج کے انخلا کے ٹائم ٹیبل، طالبان قیدیوں کی رہائی اور طالبان رہنماو¿ں پر عائد سفری اور دیگر پابندیاں ہٹائے جانے کے حوالے سے وہ صرف امریکہ سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ بلاشبہ طالبان توقع کر رہے ہیں کہ نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا ءکے بعد وہ دیگر افغان جماعتوں پر سیاسی حل آسانی سے تھوپ سکیں گے۔طالبان کی قوت میں ابھار اور عزم کا عکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مایوسی اور بے صبری میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان نے ہل چل مچادی ہے کہ نصف یعنی (14 ہزار) امریکی فوجی اہلکاروں کا افغانستان سے انخلا جلد ہی کیا جائے گا۔ اس بیان نے نہ صرف کابل حکومت کو کنارے سے لگا دیا بلکہ امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی طالبان کےساتھ مذاکرات میں گرفت کو بھی ختم کردیا۔ نتیجتاً خطے کی طاقتوں کا کردار اور اثر نمایاں طور پر وسیع ہوگیا ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سب طاقتوں میں سے پاکستان کا اثر و رسوخ سب سے زیادہ ہے جس کی وجہ ہے ابھرتی قوت بنے ہوئے افغان طالبان کے ساتھ بظاہر تعلقات ہیں جوکہ اسلام آباد نے حالیہ ابوظہبی مذاکرات میں اہم طالبان نمائندگان کی شرکت کو ممکن بنا کر اپنے اثر و رسوخ کو ثابت بھی کردیاہے ۔تاہم ایران کا اثر و رسوخ حالیہ وقتوں میں کافی حد تک بڑھا ہے۔ ایران نے بڑی احتیاط کے ساتھ سابق شمالی اتحاد کے عناصر کے ساتھ اپنے روایتی روابط کو برقرار رکھتے ہوئے طالبان کےساتھ تعلقات کو فروغ دیا اور معاونت بھی کی۔ تہران افغانستان سے امریکی انخلا کو آسان نہیں ہونے دے گاجبکہ روس نے طالبان کے ساتھ تعاون کی راہیں کھولنے اور افغان داخلی مذاکرات کی ابتدا کی کوشش کرتے ہوئے خود کو اس کھیل میں شامل کرلیا ہے۔دوسری طرف بھارت کو ڈر ہے کہ کہیں افغان سیاسی حل سے طالبان حکومت بحال نہ ہوجائے۔ لہٰذا اب بھارت افغانستان میں موجود اپنے ”اثاثوں‘ ‘کو ایران اور روس کی اچھے تعلقات کے ذریعے محفوظ بنانے کی جدوجہد کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے تیسرے مرحلے کی میزبانی کے ذریعے اس امن عمل کا حصہ بنے تاہم ان کے اثر و رسوخ کا اندازہ طالبان کی جانب سے ریاض میں مذاکرات کے اگلے مرحلے میں شرکت سے انکار سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔ انکار کی وجہ یہ تھی کہ سعودی عرب کا اصرار تھا کہ وہ کابل انتظامیہ سے بات چیت کریں۔ طالبان کی جانب سے افغان داخلی مذاکرات کی مزاحمت سے قطر ”جسے سعودیوں نے کنارے سے لگا دیا ہے“ کافی مطمئن نظر آتا ہے۔چین کے ہاتھ میں اس کھیل کے اہم ”نہ کھیلے گئے“ پتے ہیں۔ یہ اپنے مالی اور سفارتی اثر و رسوخ کے ذریعے خطے کے تمام کھلاڑیوں، پاکستان، ایران، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کو اپنے ساتھ کھڑا کرسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ چین ان پتوں کو امریکہ اور چین کے درمیان تناو¿ سے بھرپور بدلتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں کھیلے گا۔
مذاکرات کے اگلے مرحلے میں امریکہ طالبان کی زیادہ تر شرائط پوری کرسکتا ہے، جن میں انخلا ءکا ٹائم ٹیبل، طالبان قیدیوں کی رہائی اور طالبان رہنماو¿ں پر عائد سفری و دیگر پابندیوں کا خاتمہ شامل ہیں۔ تاہم دوایسے معاملات ہیں جو امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری اس عمل کو متاثر کرسکتے ہیں۔ پہلا مرحلہ فریقین کی جانب سے اتفاق کے بعد امریکی انسداددہشت گردی اہلکاروں کی موجودگی اور دوسرا افغان داخلی مذاکرات۔امریکہ افغانستان میں اپنے پیچھے ایک چھوٹی انسداددہشت گردی فورس چھوڑ جانا چاہتا ہے۔ طالبان نے ابتدائی مذاکرات کے دوران تواس کی مخالفت نہیں کی تھی اب اگر ایران اور روس اس قسم کی مسلسل امریکی موجودگی کی مخالفت کرتے ہیں تو طالبان کا مو¿قف تبدیل بھی ہوسکتا ہے۔
طالبان کی جانب سے کابل حکومت کےساتھ مذاکرات پر غیر آمادگی سب سے اہم رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ طالبان کہتے ہیں کہ ان کی 2001ءمیں انکی جائز حکومت کوطاقت کے زور پر ختم کیا گیا۔ انہیں یہ بھی ڈر ہوسکتا ہے کہ داخلی افغان مذاکرات اور جنگ بندی سے
شورش کا زور متاثر ہوسکتا ہے اور ان کی جھگڑالو مہم تقسیم کا شکار ہوسکتی ہے۔تاہم ممکن ہے کہ طالبان اپنی طاقت کے بھرم کا شکار ہوں۔ ٹرمپ کو ایک طرف رکھیے، امریکی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ افغانستان میں اپنی ذلت قبول نہیں کرے گی۔ امریکی جارحانہ رویہ شاید کابل میں زلمے خلیل زاد کی مذاکرات یا لڑائی کے جذباتی بیان تک ہی محدود نہ ہو۔ نظم و ضبط کے ساتھ انخلا کیلئے اگر کوئی فیس سوینگ یا اپنا وقار برقرار رکھنے کا کوئی فارمولہ نہ ہو تو امریکہ مزید جارحانہ آپشنز کی طرف جاسکتا ہے، جس میں ”جنگ کی نجکاری“ بھی شامل ہے ،ایسی تجویز سابق بلیک واٹر کے ایرک پرنس نے دی تھی کہ کابل میں حنیف اتمر جیسا کوئی سخت شخص بٹھادیا جائے جو لڑائی جاری رکھے اور طالبان کے خلاف خراسان گروپ میں جنگجو دولت اسلامیہ کے عناصر کی معاونت کرے اور طالبان رہنماو¿ں پر قاتلانہ حملوں کی مہم شروع کرے۔ (لیکن روس اور ایران کے مطابق تو یہ سب کچھ پہلے سے ہی ہو رہا ہے)۔دوسری طرف طالبان کو خطے کی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ حتی کہ طالبان کی جانب سے کابل انتظامیہ سے مذاکرات کے انکار پر ایران انکی حوصلہ افزائی تو کرتا ہے لیکن ان کے وزیرخارجہ نے نئی دہلی میں یہ اعلان کیا تھا کہ تہران مستقبل کی حکومت میں طالبان کی غالب طاقت نہیں چاہتا۔ روس بھی ایک متوازن نتیجہ چاہتا ہے جبکہ چین پاکستان کی طرح طالبان حکومت کی سربراہی میں بننے والی حکومت کو قبول کرسکتا ہے، مگر یہ ایک تھوپے گئے حل کے بجائے ایک مذاکراتی حل کو فوقیت دے گا۔طالبان نے اب تک اچھا کھیل کھیلا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کھیل میں اب تک جو جیتا ہے صرف اسکے ساتھ ہی خوش رہیں۔ طالبان کی جنگی فتح کو امریکہ اور خطے کی طاقتوں دونوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان کے سٹریٹجک مقاصد کیلئے دیرپا سیاسی حل ہی بہترین ثابت ہوگا۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں مذکورہ دونوں مسائل کے سفارتی حل نکالنے کیلئے اسلام آباد بہتر پوزیشن میں ہے۔ایک بین الاقوامی یا اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی فورس اقوام متحدہ یا تنظیم تعاون اسلامی (او آئی سی) کے ذریعے بنائی جاسکتی ہے۔کابل میں عبوری یا غیرجانبدار حکومت کے قیام، انتخابات کو التوا میں ڈالنے اور اس کے ساتھ ایک مقررہ وقت کیلئے جنگ بندی سے طاقت کی تقسیم کے فارمولے پر افغان داخلی مذاکرات اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان سے امریکہ اور نیٹو افواج کے نظم و ضبط کے ساتھ انخلا کا موقع فراہم ہوسکتا ہے۔ افغان پارٹیوں کو حل قبول ہو، اس کیلئے ان کے ساتھ امریکہ ،یورپ، چین اور گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی) کی جانب سے مستقبل میں مالی معاونت کے وعدوں سمیت انہیں مناسب مراعات کی پیش کش بھی کی جاسکتی ہے۔پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے مربوط اور خطے کے دیگر کھلاڑیوں کے مفادات میں بہتر سفارتی کردار کو ذاتی مفادات کیلئے بھی استعمال کرنا ہوگا۔مثلاًپاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو نارمل سطح پر لانا، افغانستان کی زمین سے ہونے والی بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردی کا خاتمہ، افغان مہاجرین کی واپسی اور سی پیک کا پھیلاو¿ اور اس پر بلا تعطل عمل امریکا کی جانب سے اعتراض کا خاتمہ اورجی سی سی کی شراکت داری وغیرہ شامل ہیں ۔بلاشبہ افغان جنگ نے عالمی سیاست کا نقشہ تبدیل کر دیا ہے اور دنیا کی امن و سلامتی کا دارومدار اب افغان مسئلہ کے حل سے مشروط ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کون اپنے ”پتے “صحیح طریقے سے کھیلتاہوا فائدے میں رہتا ہے تاہم اس میں پاکستان کا کردار ہمیشہ کی طرح کلیدی ہوگا اور پاکستان کو اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سوچ سمجھ کر چلنے کی ضرورت ہے ۔

Leave a Reply