corona Special jtnonline

امریکہ کرونا وائرس کیلئے تیار تھا نہ اگلی وبا کیلئے ہے، شوچاٹ کا انکشاف

Spread the love

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن کرونا سپیشل) امریکہ کرونا وائرس

امریکہ کے بیماری پر قابو پانے اور روک تھام کے مرکز سی ڈی سی کے ایک

سینئر عہدیدار نے میڈیا ادارے کو بتایا ہے کہ امریکہ نوول کرونا وائرس کی

عالمی وبا کیلئے تیار نہیں تھا اور اسے اگلی وبا کیلئے تیار ہونے بارے مزید

اقدامات کرنے چاہئیں۔ سی ڈی سی کے پرنسپل ڈپٹی ڈائریکٹر آنے شوچاٹ نے

جارجیا عوامی نشریات ( جی پی بی ) کو دیئے گئے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ہم

اس کیلئے تیار نہیں تھے۔ جی پی بی نے شوچاٹ کے حوالے سے کہا کہ کئی

معاشروں میں بہت عظیم کام کیا گیا لیکن میرا خیال ہے کہ بطور قوم یہ اچھی

کارکردگی نہیں تھی، وہ ایجنسی میں 33 سال کے بعد ریٹائر ہو رہے ہیں۔

=–= کرونا وائرس سے متعلق خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

مستقبل میں ملک ایک اورعالمی وبا کیلئے تیار ہو سکے گا یا نہیں؟ کے حوالے

سے سوال کا جواب دیتے ہوئے شوچاٹ نے کہا کہ یہ واقعی پیچیدہ اور پورے نظام

پر حملہ تھا لیکن آپ جانتے ہیں کہ کل ایک اور خطرہ ہے، ہم اس جگہ نہیں ہیں

جہاں ہمیں ہونا چاہئے تھا، ہم ابھی تک اس سے نمٹ رہے ہیں اور ہمارے پاس

اگلی وبا کی بہتر تیاری کرنے کیلئے بہت زیادہ کام کرنا ہے۔ سینئرعہدیدارنے کہا

کہ ہمارے پاس افرادی قوت، اعداد و شمار، لیبارٹری، معاشرے کی رسائی کے

لحاظ سے کرنے کیلئے بہت کام ہیں۔

=-.-= کرونا وائرس کی پیدائش لیبارٹری کی نسبت فطری کا امکان زیادہ، امریکی میڈیا

نوول کرونا وائرس سارس- سی او وی-2 ایک لیبارٹری کے مقابلے میں فطرت کی

پیداوار ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ واشنگٹن پوسٹ میں دو امریکی متعدی امراض

کے محققین کے شا ئع ہو نیوالے مضمون کے مطابق کچھ مشہور ارتقائی متعدی

امرا ض کے ما ہرین نے مارچ 2020ء میں معلوم کر لیا تھا کہ بہت زیادہ امکان

ہے کہ وائرس میں کسی بھی لیبارٹری میں کبھی کوئی ہیرا پھیری نہیں کی گئی،

اور یہ کہ اس وائرس نے قدرتی ذخائر سے پھیل کرانسانوں کو اپنا میزبان بنایا۔

گزشتہ ہفتے شائع ہونیوالے مضمون میں کہا گیا تھا اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا

ہے کہ وائرس کے کلیدی عنصر انجنیئرڈ دکھائی نہیں دیتے اور وائرس کی فیورین

شگاف والی جگہ میں ایسی عجیب خصوصیات ہیں جو کوئی بھی انسان ڈیزائن نہیں

کر سکتا۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

مضمون میں کہا گیا ہے کہ نوول کرونا وائرس عالمی وباء میں اضافے کیساتھ

سارس- سی او وی-2 کے ارتقائی مراحل سے اس دعویٰ کی نفی ہوتی ہے کہ یہ

وائرس واضح طور پر مصنوعی ہے اور انسانی منتقلی کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے،

جبکہ مزید کہا گیا ہے کہ اس سال کے اوائل میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے

نوول کرونا وائرس کی ابتدا سے متعلق شائع ہونیوالی رپورٹ سے وائرس کے

قدرتی ماخذ کے بارے میں اصل قیاس آرائی کو مزید تقویت ملتی ہے۔ مضمون میں

کہا گیا ہے کہ یہ وائرس کسی لیبارٹری کی پیداوار کے مقابلے میں فطرت کی

پیداوار ہے۔ اس پرسیاست کرنے سے ہم دیگر نتائج کی طرف جاتے ہیں جس سے

کسی کو بھی محفوظ رکھنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

امریکہ کرونا وائرس

Leave a Reply