Corona Special jtnonline1

امریکہ، چائلڈ کیئر جانیوالے بچے بنے کرونا منتقلی کا سبب اور ڈبلیو ایچ او کی ہدایات

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن، نیو یارک (جے ٹی این آن لائن کرونا سپیشل نیوز) امریکہ چائلڈ کیئر بچے

امریکا میں کرونا وائرس چائلڈ کیئر ادارے جانے والے بچوں سے والدین میں

منتقل ہونے کی رپورٹ منظرعام پرآ گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی

ریاست یوٹاہ کے 3 چائلڈ کیئر اداروں کے 12 بچے والدین اور دیگر بہن بھائیوں

میں کرونا وائرس منتقلی کا سبب بنے۔

کرونا کا سنگین آفٹر شارک، مسلمانوں، یہودیوں سے نفرت میں اضافہ
——————————————————————————–

امریکی ادارے سی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق 8 ماہ کے بچے کی جانب

سے والدین میں کروناوائرس منتقلی کا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق

کرونا وائرس علامات ظاہر ہوئے بغیر بھی منتقل ہوسکتا ہے۔ واضح رہے پرانی

تحقیق میں کہا گیا تھا کہ 10 یا اس سے زیادہ عمر کے بچے ہی کرونا وائرس

منتقلی کا سبب بن سکتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی بچوں میں ماسک کے استعمال سے متعلق درجہ بندی

ادھر عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) نے بچوں میں کرونا وائرس کی وباء

سے متعلق احتیاطی ہدایات جاری کر دیں، جن کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے

بچوں میں ماسک کے استعمال سے متعلق درجہ بندی کر دی- یہ درجہ بندی 5

سال سے کم، 6 سے 12 سال اور 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کیلئے کی

گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو ماسک

پہننے کی ضرورت نہیں، ضروری ہو تو والدین 5 سال سے کم عمر کے بچوں

کو ماسک پہننے میں مدد کریں۔ سکول یا گھر سے باہر جاتے وقت 6 سے 12

سال کی عمر کے بچے ماسک پہنیں، کرونا وائرس سے متعلق 12 سال سے زائد

کے بچے بڑوں کی طرح احتیاط اختیار کریں۔

کھیل کی سرگرمیوں ، سکول میں دوران درس و تدریس احتیاط

بچوں کو کھیل کے میدان میں کھیلتے ہوئے ماسک نہیں پہننا چاہیئے، بچوں کیلئے کھیل کی سرگرمیوں میں کرونا گائیڈ لائنز کا خیال رکھا جائے۔ سکول میں بچوں کے لیے کھیل کے دوران ایک میٹر کا فاصلہ رکھا جائے، سکولوں میں ساتھ کھیلنے والے بچوں کی تعداد میں کمی کی جائے۔ سکولوں میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے بچوں کو ہاتھ صاف رکھنے کی سہولت اور ماسک کے استعمال کی ترغیب دی جائے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

امریکہ چائلڈ کیئر بچے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply