امریکہ طالبان مذاکرات میں پیش رفت، کانگریس ارکان کے تحفظات برقرار

Spread the love

واشنگٹن( جے ٹی این آن لائن بیوروچیف)

سینیٹ فارن ریلیشنز کمیٹی کے چیئرمین جم رش نے یقین ظاہر کیا ہے کہ امریکی

مندوب کے طالبان کیسا تھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم اہم مسئلہ یہ ہے کہ

معاملات کتنے آگے بڑھے ہیں اورکب تک مکمل ہونگے انہوں نے یہ تبصرہ

افغانستان کیلئے امریکی مندوب افغان نژاد زلمے خلیل زاد کیساتھ بند کمرے میں

کمیٹی ارکان کی بریفنگ کے بعد کیا، بدھ کی شام کا فی عرصے کی کوشش کے

بعد جب بالآخر کیپٹل ہل میں امریکی مندوب زلمے خلیل زاد کانگریس کے سامنے

افغان طالبان سے مذاکرات کیلئے مقرر خصو صی امریکی مندوب زلمے خلیل زاد
——————————————————————

پیش ہوئے انہوں نے اس بریفنگ میں طالبان کیساتھ جاری امریکہ کے مذاکرات کی

تفصیلات بیان کیں اور تازہ ترین صورتحال پیش کی ،چیئرمین کمیٹی کے علاوہ

کسی اور رکن نے بریفنگ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ۔ بظاہر یہ نظر آرہا ہے

افغانستان میں جاری سترہ سالہ جنگ کو ختم کرنے کے سلسلے میں امریکہ جو

اقدامات کر رہاہے اس کے بارے میں زیادر ترکانگریس اراکین کے تحفظات

موجود ہیں ۔ دوحہ میں ہونیوالے مذاکرات کے ابتدائی ادوار کے بار ے میں امریکی

مندوب نے محض پر امیدہی کا اظہار کیا تھا تاہم عملی طور پر ملے جلے نتائج

سامنے آئے ہیں ۔افغانستان میں تشدد جاری ہے اور طالبان کے افغانستان کی سر

زمین پر قبضے کا دائرہ پھیل رہاہے۔چیئرمین سینیٹ کمیٹی نے میڈیا کے ایک

سوال میں بتایا صورتحال بہت مشکل ہے اور انہوں نے سوال کنندہ سے اتفاق کیا

کہ نتائج کے حصول میں یقیناًدیر ہورہی ہے، قبل ازیں خلیل زاد نے امید ظاہر کی

تھی کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے ایک ’’روڈ میپ‘‘ طے کرنے پر

ہونیوالی بات چیت کامیاب رہے گی اور یہ مذاکرات اس اصول کی بنیاد پر ہو رہے

ہیں کہ تمام اتفاق تک کچھ بھی اتفاق نہیں ہوگا۔ امریکی مندوب کے مطابق مذاکرات

کے ابتدائی ادوار میں اس امرپر توجہ دی گئی کہ امریکی افواج کے انخلاء کے

بدلے میں ضمانت ملنی چاہیے کہ افغانستان کی سر زمین امریکہ کیخلاف حملوں

کیلئے استعمال نہیں ہو گی اسوقت افغان انتظامیہ ان امن مذاکرات کا حصہ نہیں جو

کابل اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔

Leave a Reply