امریکہ اور روس کا باہمی تعاون بڑھانے کیلئے غیر معمولی مشترکہ بیان

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن نیوز)25اپریل 1945ء کو دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی میں ایلبی کے دریا پر ایک تاریخی منظر دیکھنے میں آیا۔ اس کے پل پر سوویت یونین کی فوجیں مشرق کی طرف سے داخل ہوئیں اور سامنے مغرب کی طرف سے امریکی فوجوں نے پیش قدمی کی اور پل کے درمیان میں دو بڑی اتحادی طاقتوں کی فوجیں اکٹھی ہوئیں اور ان کے کمانڈروں نے پہلی مرتبہ اپنے مشترکہ دشمن ہٹلر کی فوجوں پر مل کر حملہ کرنے کی کامیاب منصوبہ بندی کی۔

کرونا وائرس وباء نے امریکی قوم کو متحد اور چین سے بد ظن کر دیا

سوویت یونین اور امریکہ باہمی تعاون کے اس سمبل کو ہر سال مناتے ہیں اور پھر یہ سلسلہ اس وقت بھی جاری رہا جب سوویت یونین صرف روس بن گیا۔ اس مرتبہ 25اپریل کو جاری ہونے والے بیان کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات پائے جاتے تھے تاہم تمام تحفظات کو رد کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مشترکہ بیان جاری کرنے کا جرأت مندانہ قدم اٹھا لیا، کیونکہ وہ سوویت یونین کے ساتھ مل کر نازی جرمنی کو شکست دینے کے اس سمبل کے ذریعے باقی دنیا کو باہمی تعاون کا ایک احسن پیغام دینا چاہتے تھے ۔

صدر ٹرمپ اور صدر پیوٹن کا مشترکہ بیان اس مرتبہ ایک ایسے موقع پر جاری ہوا ہے جب امریکہ اور روس کے درمیان متعدد معاملات پر کشیدگی موجود ہے۔ دونوں ملکوں کی طرف سے اس اچھے اظہار سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اختلافی امور پر مفاہمت کا راستہ اختیار کریں گے۔ امریکہ اور روس کے درمیان اس وقت جن امور پر اختلاف پایا جاتا ہے ان میں فوجی سامان کی تیاری پر کنٹرول، یو کرائن اور شام میں روسی مداخلت، امریکی انتخابات کی مہموں میں ٹرمپ کے حق میں نتائج کو تبدیل کرنے کے روس پر الزامات اورروس پر کرونا وائرس کے بارے میں ڈس انفارمیشن پھیلانے کے تازہ اعتراضات شامل ہیں ۔

امریکہ اور روس کے لیڈروں کے موجودہ منشتر بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ایلبی دریا پر دونوں ملکوں نے جس جذبے کا اظہار کیا تھا وہ ایک مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ہمارے ملک اپنے اختلافات کو بھلا کر ایک عظیم تر مقصد کو پورا کرنے کے لئے اعتماد اور تعاون کا ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔‘‘یاد رہے کہ کرونا وائرس کے سبب صدر ٹرمپ بیرون ملک سفر نہیں کرنا چاہتے ورنہ پہلے ان کا ارادہ ہے کہ اس یادگار دن پر وہ ماسکو سفر کر کے جاتے اور وہاں صدر پیوٹن کے ساتھ مل کر مشترکہ بیان جاری کرتے۔

اس دوران ’’وال سٹریٹ جرنل‘‘ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کے مشترکہ بیان کی مخالفت وائٹ ہائوس میں ان کے مشیروں کے علاوہ سرکاری ری پبلکن پارٹی کے قانون ساز ارکان کی طرف سے بھی کی گئی۔ تاہم اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا۔

امریکہ روس مشترکہ بیان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply