امریکی فتنہ "داعش" بڑا خطرہ، افغان طالبان کو بروقت نکیل ڈالنا ہو گی

امریکی فتنہ “داعش” بڑا خطرہ، افغان طالبان کو بروقت نکیل ڈالنا ہو گی

Spread the love

(خصوصی ایڈیشن:— عمران رشید خان) امریکہ داعش افغان طالبان

Journalist Imran Rasheed

نائن الیون کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش ہمیشہ ایک ہی

دعویٰ کرتے دکھائی دیتے تھے کہ طالبان امریکہ کی طاقت کے سامنے ٹھہر

نہیں سکتے اور ہم ان طالبان پر زمین تنگ کردیں گے، جس کے جواب میں

طالبان کی جانب سے یہ کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میری زمین بہت

وسیع ہے دیکھتے ہیں کہ کس کا وعدہ پورا ہو گا، تاہم افغان سرزمین پر جدید

ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کیساتھ مسلسل 20 سال طالبان کیخلاف امریکہ اور اس

کے اتحادیوں کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور شکست خوردہ فوجوں کو بالآخر

افغانستان سے دُم دبا کر بھاگنا پڑا، امریکہ نے افغانستان سے اپنی اور اتحادیوں

کی فوجیں تو واپس بلا لیں، لیکن جاتے جاتے افغان طالبان کی حکومت کیلئے

انخلاء کے بعد ایک بڑا چیلنج چھوڑ گیا جو کہ اسوقت افغان طالبان حکومت کو

غیر مستحکم اور ملک کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کیلئے بڑا خطرہ گردانہ

جا رہا ہے، دیکھتے ہیں طالبان اس چیلنج سے کس طرح نبرد آزما ہوتے ہیں اور

اس خطرناک چیلنج کو شکست فاش سے دو چار کرتے ہیں-

=-،-= امریکی انخلاء کے بعد قندوز میں خود کش حملہ پہلا بڑا سانحہ
قندوز، اجتماعِ نماز جمعہ پر داعش کا خودکش حملہ، سیکڑوں شہید و زخمی
قندوز، اجتماعِ نماز جمعہ پر داعش کا خودکش حملہ، سیکڑوں شہید و زخمی

8 اکتوبر کو افغان صوببہ قندوز کے دارالحکومت میں اہل تشیع کے نماز جمعہ

کے اجتماع میں داعش کا خودکش دھماکہ ہوا جس میں 100 سے زائد شہادتوں

اور درجنوں نمازیوں کے زخمی ہوئے، تاہم اس موقع پر طالبان نے مقامی آبادی

کیساتھ مل کر ریسکیو سرگرمیوں میں تو بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن ابھی تک

ہولناک دہشتگردی کی کارروائی میں ملوث عناصر کو پکڑنے اور سزائیں دینے

سے متعلق کوئی پیش رفت دیکھنے سُننے میں نہیں آئی-

=-،-= طالبان کو فتنہ سازوں کے منصوبے ناکام بنانا ہو نگے، ایرانی صدر

Iran President Ibrahim Raaisi

افغانستان کے پڑوسی ملک ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے سانحہ قندوز

کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اب طالبان پر اس مجرمانہ فعل کا ارتکاب کرنے

والوں کی انسان اور اسلام مخالفت پوشیدہ نہیں رہی، اس تکفیری دہشت گرد گروہ

کو امریکی سازش اور حمایت کے ذریعے قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد مسلمانوں

کے درمیان اختلاف پیدا کرنا ہے، صدر جمہوریہ ایران نے افغانستان میں مذہبی و

نسلی اختلافات اور فتنوں کو ہوا دینے کے امریکی منصوبوں و سازشوں پر گہری

تشویش ظاہر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ افغان دھڑے اپنی ہوشیاری اور ایک

وسیع البنیاد حکومت کے قیام سے امریکی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔

=-،-= امارت اسلامی افغانستان اور نام نہاد دولت اسلامیہ آمنے سامنے

Taliban Vs Daedh in Afghanistan

چند ماہ قبل افغانستان کی حکومت کو جیسے افغان طالبان کا سامنا تھا، بظاہر اسی

طرح اب افغان طالبان کی حکومت کو نام نہاد دولت اسلامیہ ( داعش) کا سامنا کرنا

پڑ رہا ہے، جس کے دہشت گردانہ حملوں کے آگے امارت اسلامی افغانستان کی

حکومت بے بس نظر آ رہی ہے، جس کا ایک ثبوت دہشت گرد تنظیم داعش کے

حملوں سے حکومت کی جانب سے شہریوں کے تحفظ کی فراہمی میں ناکامی ہے

تو دوسری طرف ماضی میں طالبان کا اس دعوے کی بھی نفی ہے کہ افغانستان

میں آئی ایس آئی ایس یعنی ” داعش ” کا کوئی وجود نہیں، تاہم اب حکومت کے

ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی ٹویٹس میں اکثر دہشت گرد تنظیم داعش کی کاروائیوں

کا ذکر سُننے کو ملتا ہے۔

=-،-= افغانستان میں صوفی و سلفی نظریات، انتقام کی جنگ کا ایندھن عوام

Afghan Taliban Forces.,

یوں تو افغان طالبان اور دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس ( داعش) دونوں ہی خدا

کی زمین پر خدا کا نظام رائج کرنے کے دعویدار ہیں، افغان طالبان تو مذہبی انتہا

پسندی کے حامی نہیں لیکن سلفی عقائد ان سے مختلف ہیں اور دونوں میں نظریاتی

اختلاف ہونے کے باعث کئی مرتبہ مسلح تصادم بھی ہو چکے ہیں، جبکہ خود

طالبان میں بھی سلفی نظریہ کے حامی عناصر موجود ہیں، اس لئے امارت اسلامی

افغانستان کی حکومت کو ان عناصر پر بھی کڑی نظر رکھنا ہو گی کیونکہ بغل میں

چھری منہ پر رام رام والی صورت بھی ممکن ہے- اس ضمن میں طالبان کو سانحہ

قندوز میں ملوث عناصر کو حراست میں لے کر تمام صورتحال کی اصل حقیقت

تک پہنچنا ہو گا-

=-،-= افغان طالبان اور داعش میں دشمنی کی وجوہات

عالمی ذرائع ابلاغ کے اداروں کے مطابق تو اس وقت داعش اور افغان طالبان کے

درمیان دشمنی کی اصل وجوہات میں ایک وجہ افغان طالبان کی جانب سے کابل پر

قبضہ کے وقت جیلوں کو توڑ کر ان میں موجود قیدیوں کو رہا کیا جانا بتائی جا

رہی ہے تو دوسری وجہ دارالحکومت کابل پر قبضے کے دوران امریکی فوجیوں

اور افغان حکومت کی طرف سے گرفتار داعش یا سلفی مسلک سے تعلق رکھنے

والے قیدیوں کو فرار ہونے کی کوشش میں افغان طالبان کی جانب سے موقع پر ہی

ہلاک کرنا بتائی جا رہی ہے- ایک محتاط اندازے کے مطابق ان ہلاک ہونیوالوں کی

تعداد 2 سے 3 سو کے درمیان بتائی جاتی ہے، دشمنی کی تیسری بڑی وجہ یہ

بتائی جا رہی ہے کہ داعش جو سلفی نظریے کی داعی ہے کا ماننا ہے کہ طالبان

مغربی طاقتوں سے خفیہ معاہدوں کی بدولت تخت کابل پر براجمان ہوئے ہیں، اور

جہاد کو ترک کر کے آرام و آسائش کے طلبگار بن چکے ہیں، ایسا کرنا مذہبی

اصولوں سے بغاوت ہے-

=-،-= امارت اسلامی افغانستان پر داعش کا بڑھتا دباؤ معنی خیز…؟

سلفی مسلک کے پیروکار جنگجو افغان طالبان کو واجب قتل قرار دے چکے ہیں،

اور اسی نظریئے کے مطابق وہ خود پر ان کی بالا دستی قبول نہیں کرتے، ایسی

صورتحال میں افغانستان امارت اسلامی کی حکومت کو گرانے کیلئے اب داعش

نے بڑی تعداد میں معصوم لوگوں کے قتل عام کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس کا

مطلب افغانستان میں اپنی پاور شو کرنا اور افغان طالبان حکومت پر دباؤ میں

اضافہ کر کے دنیا پر یہ ثابت کرنا ہے کہ داعش اپنی پوری قوت استعمال کر کے

افغانستان طالبان کی قائم کردہ عبوری حکومت کو گرا سکتے ہیں، جبکہ دوسری

جانب داعش کیخلاف افغان طالبان فورسز کی کاروائیوں میں تیزی نظر آ رہی ہے-

=-،-= خطے کے امن کیلئے افغانستان میں قیام امن ناگزیر

افغان طالبان کی حکومت اور بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم داعش کی اس جنگ کا

ایندھن عام معصوم انسان بن رہے ہیں، عالمی جنگی امور کے ماہر تجزیہ کاروں

نے دنیا کو مطلع کیا ہے کہ موجودہ جاری جنگ پورے خطے کی تباہی کا سبب بن

سکتی ہے اور اس آگ میں جلتی پر تیل ڈالنے کی مثال قائم رکھنے کیلئے شرپسند

عناصر موقع کی تلاش میں ہیں، اس لئے جلد از جلد ہمسایہ اور خطے کے دیگر

ممالک کو افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنے حصے کا چراغ جلانا ہو گا، کیونکہ

افغانستان کا امن پورے خطے میں امن کا ضمانت ہے۔

=-،-= داعش کی بڑھتی دہشتگردی، افغان طالبان کی کمزرویاں لمحہ فکریہ
Journalist Asif Shazad
پشاور کے سینئر صحافی آصف شہزاد اعوان

افغان دارالخلافہ کابل سمیت ملک کے دیگر جنگ زدہ علاقوں میں صحافتی ذمہ

داریوں کی انجام دہی کیلئے موجود پاکستانی سینئر صحافی آصف شہزاد اعوان نے

جے ٹی این آن لائن (جتن ) سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا قندوز میں نماز

جمعہ کے دوران کیا جانیوالا خود کش دھماکہ 200 سے زائد خاندان اجاڑ گیا، جو

انتہائی دکھ کا مقام ہے، طالبان کی حکومت آنے کے بعد مکمل امن کا اعلان کیا

گیا، لیکن اس کے با وجود امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکا، کابل شہر میں ذبیح اللہ

مجاہد کی والدہ کی دعا کیلئے آنیوالے افراد کو عید گاہ کے قریب دھماکہ میں نشانہ

بنانا، اس کے بعد کچھ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور بعدازاں قندوز میں اہل تشیع

کی مسجد میں خود کش دھماکہ ہونا واضح مثالیں ہیں، جو حالات کی مزید خرابی

کی جانب اشارہ ہیں-

=-،-= نادیدہ قوتوں سے افغان عوام خائف، طالبان کا چوکنا رہنا ضروری

اگرچہ طالبان کے ان دھماکوں کے بعد بھرپور کارروائیاں کئے جانے کے بیانات

سامنے آئے ہیں اور ان کارروائیوں میں کامیابیاں بھی ملیں ہیں، لیکن افغانستان کا

امن تباہ کرنیوالی وہ قوتیں جو طالبان کیلئے روڑے اٹکا رہی ہیں، ان میں افغانستان

میں ایک طرف داعش ہے تو دوسری جانب کچھ نا دیدہ قوتیں بھی اس کے پیچھے

کار فرما ہیں، جن کا اپنا ہی ایجنڈا ہے، اس طرح کی دہشت گرد کارروائیوں سے

افغان عوام کے دلوں میں ایک بار بھی یہ خوف بیٹھنے جا رہا ہے کہ اگر ایسے

واقعات کا راستہ نہ روکا گیا تو پہلے سے برے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،

طالبان کی جانب سے امن کے قیام کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس کا دیرپا حل

سامنے نہیں آ رہا، امارت اسلامی افغانستان کا کہنا ہے کہ ملک میں امن کا قیام ان

کی اولین ترجیح ہے، اور اس کیلئے ہر سطح تک جائیں گے، تاکہ عوام کے ساتھ

کئے گئے وعدوں میں ایسا ایک بڑا وعدہ پورا کر سکیں۔

امریکہ داعش افغان طالبان ، امریکہ داعش افغان طالبان ، امریکہ داعش افغان طالبان

امریکہ داعش افغان طالبان ، امریکہ داعش افغان طالبان ، امریکہ داعش افغان طالبان

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز فیچرز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

Leave a Reply