امریکہ برطانیہ آسٹریلیا معاہدہ

امریکہ اور برطانیہ کو آسٹریلیا سے معاہدہ مہنگا پڑگیا

Spread the love

امریکہ برطانیہ آسٹریلیا معاہدہ

پیر س /واشنگٹن /لندن (جے ٹی این آن لائن نیوز) آسٹریلیا کو آبدوزوں کی فروخت کا معاہدہ ختم ہونے

کے بعد جنم لینے والے تنازعے کے دوران فرانس کی ناراضی کو ختم کرنے کے لیے امریکہ اور

برطانیہ نے کوششیں شروع کی ہیں۔خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی

جانب سے فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں سے جلد بات کرنے کی درخواست کی گئی ہے جبکہ

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے نئے دفاعی معاہدے کے بارے میں کہا ہے کہ اس

کا مطلب کسی کو اتحاد سے نکالنا نہیں، اور ایسا کچھ نہیں ہوا جس پر کسی کو پریشان ہونا چاہیے

خاص طور پر ہمارے فرانسیسی دوستوں کو۔فرانسیسی حکومت کے ترجمان گبریل اٹل نے بتایا ہے کہ

امریکی صدر نے صدر میکخواں سے بات کرنے کی درخواست کی ہے جو ‘آنے والے دنوں میں’

ممکن ہوگی۔فرانس کی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ‘ہم وضاحت چاہتے ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ

امریکہ کو اس بات کا جواب دینا ہوگا جو دیے گئے ‘ایک بڑے دھوکے کی طرح نظر آ رہا ہے۔خیال

رہے کہ گذشتہ روز آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن نے کہا تھا کہ فرانس کی حکومت کو معلوم

ہوگا کہ معاہدہ ختم کرنے سے بہت پہلے کینبرا نے فرانسیسی آبدوزوں پر ‘گہرے تحفظات’ ظاہر کیے

تھے۔سڈنی میں پریس کانفرنس میں سکاٹ موریسن نے بتایا کہ ‘میرا خیال ہے کہ اْن کو وہ تمام

وجوہات معلوم ہوں گی، ہم نے فراہم کی جانے والی اٹیک کلاس آبدوزوں کی صلاحیت پر گہرے

تحفظات ظاہر کیے تھے کہ یہ ہماری سٹریٹجک مفادات کے مطابق نہیں، اور ہم نے یہ بالکل واضح

کہا تھا کہ ہم اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ آسٹریلیا کے وزیر دفاع نے کہا کہ ان کا

ملک فرانسیسی آبدوزوں کے حوالے سے ‘دو ٹوک، واضح اور دیانت دار’ رہا اور فرانس سے اپنے

خدشات کا اظہار کیا۔خیال رہے کہ آسٹریلیا نے سنہ 2016 میں فرانس سے آبدوزیں خریدنے کا معاہدے

کیا تھا جس کی مالیت 50 ارب آسٹریلوی ڈالر تھی۔ گذشتہ ہفتے اس معاہدے کو ختم کیے جانے کے بعد

فرانس نے آسٹریلیا اور امریکہ سے اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے۔ گزشتہ روز فرانس نے امریکہ اور

آسٹریلیا پر نئے سکیورٹی معاہدے کے حوالے سے پیدا ہوانے والے بحران میں جھوٹ بولنے کا الزام

لگایا تھا۔برطانیہ، امریکہ اور اور آسٹریلیا کے درمیان طے پانے والے نئے سکیورٹی معاہدے کے

تحت امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کو جوہری ایندھن سے لیس آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی

صلاحیت کی ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔دوسری جانب فرانسیسی وزیر خارجہ یان ویس لی ڈرین سے

پوچھا گیا کہ فرانس نے برطانیہ سے اپنا سفیر کیوں واپس نہیں بلایا جب کہ برطانیہ بھی مذکورہ

معاہدے کا حصہ ہے تو انہوں نے انتہائی سخت جواب دیا کہ ‘ہم نے واشنگٹن اور کینبرا سے سفیر

حالات کا جائزہ لینے کے لیے واپس بلائے ہیں۔۔ برطانیہ سے واپس بلانے کی ضرورت نہیں کیونکہ

ہم ان کے ‘مستقل مفاد پرستی’ کو جانتے ہیں۔ اس پورے ایشو میں برطانیہ کی حیثیت ایک طرح سے

تیسرے پہیے کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا نیٹو کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

امریکہ برطانیہ آسٹریلیا معاہدہ

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply