tipu nuqta e nazer jtnonline

کیا واقعی اب امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے؟

Spread the love

امریکہ افغانستان سے نکلنا

’’امریکہ کمبل چھوڑنا چاہتا ہے لیکن اب کمبل اسے نہیں چھوڑ رہا‘‘، کہانی

2001ء سے شروع ہوتی ہے ،11ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے بعد

تاریخ کا دھارا بدل گیا،امریکہ نے افغانستان اور عراق پر حملے ،لیبیا ،مصر

،تیونس اور شام میں حکومتوں کی تبدیلی اور پاکستان ،ایران اور سعودی عرب کو

کمزور کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد 7اکتوبر 2001ء کو امریکہ نے افغانستان

پر حملہ کیا،طالبان کی حکومت ختم ہوئی اور امریکہ آدھے افغانستان پر قابض

ہوگیا،آ ج ساڑھے سترہ سال بعد افغانستان میں تو امن قائم ہونہ سکا البتہ یہ وقت

گزرنے کیساتھ ساتھ یہ عالمی ناسور بنتاجارہاہے ۔آج بھی طالبان 60فیصد سے زائد

افغانستان پر قابض ہیں ۔

امریکی صدارتی انتخابات جوںجوں قریب آ رہے ہیں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف

سے افغانستان سے جان چھڑانے کی کوششوں میں اسی قدر تیزی آتی جا رہی ہے

پاکستان کی طرف سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے بعد امریکہ اور

طالبان کے درمیان دوحہ میں شروع ہونیوالا مذاکرات کا طویل ترین دور منگل کے

روز اختتام پذیر ہو گیا۔ مذاکرات کا یہ دور16روز تک جاری رہا ،امریکی

خصوصی نمائندے زلمے خلیل زادکے مطابق ان16 روزہ مذاکرات میں کئی ایسے

مشکل مراحل بھی آئے کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ ٹوٹتے ٹوٹتے رہ گیا ۔16روزہ

مذاکرات کے اس دور میں طالبان اور امریکہ کے نمائندے افغانستان سے دہشت

گردی کے خاتمے اور غیر ملکی افواج کی واپسی کے حوالے سے معاہدوں کے

ڈرافٹ تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ تاہم ان معاہدوں پر دستخط ہونا ابھی باقی

ہیں۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں امن کیلئے جوبات چیت ہو رہی

ہے وہ چار معاہدوں کے گرد گھوم رہی ہے جن میں سے انسداد دہشت گردی اور

افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کے حوالے سے امریکہ اور طالبان

کے درمیان بات چیت جاری ہے جس میں طالبان نے القاعدہ اور دوسری دہشت

گردتنظیموں کیساتھ تعلقات نہ رکھنے اور ان کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی

کرائی ہے جبکہ امریکہ، افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلاء کا شیڈول

دے گا۔ ان دو معاہدوں پر دستخط ہونے کے بعد افغانستان میں جنگ بندی اور

مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے حوالے سے دو معاہدے اور ہونگے جس

کیلئے طالبان ،افغان حکومت اور دوسرے سٹیک ہولڈرز کے مابین مذاکرات

ہونگے۔ امریکہ ان مذاکرات میں طالبان سے اپنی تمام شرائط منوانا چاہتا تھا مگر

طالبان نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے حتمی شیڈول دئیے

جانے سے قبل کوئی بھی امریکی مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا جس کے باعث

معاہدوں پر فی الحال دستخط نہ ہوسکے۔ اب امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل

زاد واشنگٹن جا کر ٹرمپ انتظامیہ سے ان معاہدوں پر مشاورت کریں گے اور

مذاکرات کے اگلے دور میں ان معاہدوں پر دستخط ہوں گے ۔دوحہ مذاکرات کے

بعد زلمے خلیل نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے اہم پیشرفت ہوئی ہے جس

کے نتیجے میں امن کے امکانات روشن ہوگئے ہیں تاہم جب تک تمام باتوں پر

اتفاق نہیں ہوجاتا حتمی معاہدہ طے نہیں پائے گا۔

افغانستان پر امریکی حملے کو 17سال مکمل ہو چکے ہیں اور ان 17برسوں میں

کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکہ کو اس جنگ میں ذلت اور رسوائی

کے سوا کچھ نہیں ملا۔ جنرل نکلسن تقریباً اڑھائی سال تک افغانستان میں امریکی

اور نیٹو افواج کے کمانڈر رہے۔ افغانستان کے محاذ پر انہوں نے چار مرتبہ

مختلف عہدوں پر فرائض انجام دئیے، اس لئے افغان جنگ کی گہرائی کے بارے

میں شاید ان سے زیادہ کوئی نہ جانتا ہو۔ جنرل نکلسن نے اپنی ریٹائرمنٹ پر ایک

الوداعی تقریب میں کہا تھا کہ میں اپنے دل کی بات کرنا چاہتا ہوں اب وقت آ گیا

ہے کہ ہم اس جنگ کو ختم کر دیں یہ جنگ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ

ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ اس جنگ کے ابتدائی مقاصد امریکی سیاستدانوں اور

فوجی کمانڈروں کے ذہن سے محو ہوگئے۔ اب یہ جنگ صرف اس لئے لڑی جا

رہی ہے کہ امریکی فوجیں یہاں موجود ہیں۔سابق امریکی صدر بارک اوبامہ نے

2014ء میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کا وعدہ کیا مگر فوجی

کمانڈروں نے انہیں ایسا کرنے سے روکدیا جس کے باعث8ہزار امریکی فوجی

افغان فوج کی تربیت اور خصوصی آپریشنز کیلئے افغانستان میں تعینات رہے اور

باقی فوجیوں کو واپس بلا لیا گیا ۔صدر ٹرمپ نے بھی نہ چاہتے ہوئے اپنے

انتخابی وعدہ کے برعکس افغانستان میں تعینات امریکی فوج میں چار ہزار

امریکی فوجیوں کا اضافہ کیا اور کارکردگی بہتر بنانے کیلئے انہیں آزادانہ

فیصلوں کا اختیار بھی دے دیا۔

اس کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا ء کے بارے میں اپنی نئی پالیسی

کا اعلان کیا جس میں پاکستان پر شدید تنقید کی گئی اور بھارت کو نہ صرف سراہا

گیا بلکہ اسے اپنا سٹریٹجک پارٹنر بھی قرار دیا۔ اب ٹرمپ کی آدھی سے زائد

صدارتی مدت گزر گئی مگر افغانستان میں امریکہ کو کوئی کامیابی نصیب نہیں

ہوئی جس کے بعد امریکہ کو مجبوراً پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیکنا پڑے اور

طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے امریکہ کو پاکستان کی منت سماجت

کرنا پڑی کیونکہ امریکہ کی لاکھ کوششوں کے باوجود افغانستان میں حالات تبدیل

نہ ہوئے اور امریکی حکومت افغانستان میں ہونیوالے اپنے نقصان کو امریکی

عوام سے پوشیدہ رکھنے پر اب تک مجبور رہی ۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز

نے افغان جنگ کے 17سال مکمل ہونے پر اس جنگ کے بارے میں ایک طویل

رپورٹ شائع کی جس میں افغانستان میں ہونیوالے امریکی نقصانات پر مفصل

روشنی ڈالی گئی رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں 2200امریکی فوجی ہلاک ہو

چکے جبکہ اس جنگ پر امریکہ 840ارب ڈالر خرچ کر چکا یہ اخراجات نہ

صرف کسی بھی امریکی جنگ سے زیادہ ہیں بلکہ اس رقم سے بھی کہیں زیادہ

اس میں امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد مغربی یورپ کی

تعمیر اور مارشل پلان کے تحت برداشت کئے تھے۔ان اخراجات کیلئے امریکی

حکومت اپنے عوام سے مسلسل جھوٹ بولتی رہی کہ افغانستان میں امریکہ طالبان

کے خلاف مضبوط ہو رہا ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے امریکہ اور

افغان حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ اس وقت طالبان افغانستان کے 60 فیصد

سے زائد علاقے پر قابض ہیں اور افغان حکومت کی عملداری صرف چند شہروں

تک رہ گئی ہے امریکی فوجی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں افغان فوج کی تعداد

3لاکھ14ہزار ہے جبکہ طالبان کی تعداد 60ہزار ہے جبکہ افغان حکومت کا کہنا

ہے کہ ان کے جنگجوؤں کی تعداد 2لاکھ ہے۔افغان فوجی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ

انکی فوج کا ایک تہائی حصہ خیالی (Ghost) فوجیوں پر مشتمل ہے جن کی

تنخواہوں کی مد میں خرچ کی جانیوالی رقم سے وارڈلارڈز کی جیبیں گرم ہوتی

ہیں افغانستان میں خرچ کی جانیوالی امریکی رقوم میں بدعنوانی اور کرپشن کا

ایک بڑا سکینڈل امریکی کانگریس کے مقرر کردہ انسپکٹر جنرل برائے افغان

تعمیر نو جان سیوپکو سامنے لائے۔ ان کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ

افغانستان کی تعمیر نو کیلئے یورپی ایڈ نے سب سے بڑا منصوبہ شروع کیا جس

کا مقصد افغان خواتین کی فلاح و بہبود تھا یہ منصوبہ 280ملین ڈالر سے شروع

کیا گیا اس منصوبے میں 75ہزار افغان خواتین کو ہنر مند بنانے اور انہیں روز گار

کے مواقع فراہم کرنا تھا تین سال کے بعد معلوم ہوا کہ اس پروگرام سے صرف

55خواتین نے استفادہ کیا اس منصوبے کے 89ملین ڈالر میں سے 18فیصد

اخراجات چینی ٹھیکیداروں کو سکیورٹی فراہم کرنے پر خرچ کئے گئے۔

اپنی الوداعی تقریر میں جنرل نکلسن نے کہا کہ اگرچہ میں پاکستان کو امن کا

مخالف سمجھتا رہا مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسے بیان اپنے فوجیوں کی ناکامی

کو چھپانے کیلئے دیتے رہے۔ امریکہ افغانستان میں آنے کے تھوڑے عرصے بعد

جنگ کے اصل مقاصد بھول گیا جسکے باعث اس جنگ کا یہی انجام ہونا تھا

خصوصاً اس دشمن کے سامنے جو امریکی تہذیب، ترقی، جنگی سازوسامان سے

رتی برابر بھی مرغوب نہیں۔ امریکہ کے مقابلے طالبان کا اپنی زمین غیر ملکی

قابضین سے چھڑانا ایک بڑا مقصد ہے جس کے باعث جنگ کیلئے انکے جذبے

میں کمی نہیں آئی۔ جنرل نکلسن کے ان حقائق کو سمجھ جب امریکی انتظامیہ کو

آئی تو انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی سنجیدہ کوششیں شروع کر دیں اور

پاکستان کی مدد سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب رہا۔

امریکہ افغانستان سے نکلنا ، امریکہ افغانستان سے نکلنا ، امریکہ افغانستان سے نکلنا

=—–= قارئین =-: خبر اچھی لگے تو شیئر کریں، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
=—–=ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )

Leave a Reply