امریکہ افغانستان سے مکمل انخلا کیلئے تیار

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے طالبان کو

یقین دہانی کرادی ہے کہ ہم غیرملکی فوج نکالنے کو تیار ہیں، امید ہے طالبان سے

یکم ستمبر تک افغان امن سمجھوتہ طے پاجائے گا،اس کے متعلق طالبان کو بھی بتا

دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر خا ر جہ کا کابل میں افغان قیادت سے

ملاقا توں کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا حقیقی پیشرفت حاصل کرلی

ہے، سمجھوتے کا مسودہ بھی تیار ہے اور افغان امن سمجھوتے اوروہاں قیام امن

سمیت خطے میں استحکام کے حوالے سے پاکستان کا نہایت اہم کردار ہے، ہم

پاکستان کی جانب سے مزید عملی اقدامات اور تعاون سمیت کسی بھی قسم کے

معاہدے پر عمل درآمد کے خواہاں ہیں۔ امریکہ مذاکرات کے نتائج سے متعلق

ہدایات نہیں دے سکتا، امید ہے افغان سرزمین اب دوبارہ دہشتگردی کا مرکز نہیں

بنے گی نہ ہی دہشت گردوں کو اب افغانستان میں محفوظ ٹھکانے ملیں گے۔ ان کا

کہنا تھا ایک جانب افغان طالبان سے قیام امن کیلئے مذاکرات جاری ہیں تو دوسری

جانب افغان حکومت سے بھی بات چیت کا عمل رکا نہیں کیونکہ ہم دونوں عمل کو

ایک جیسی اہمیت دے رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا امریکہ افغانستان کو بھولا

نہیں ۔افغا نستا ن میں قیام امن کیلئے جرمنی کی کوششوں کا بھی خیرمقدم کرتے

ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورہ پر ہیں ،

اس دوران انہوں نے افغان صدر اشرف غنی اورچیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ سے

ملاقات کی اور طالبان کیساتھ جاری امن مذاکرات کے موضو ع پر بھی تبادلہ خیال

کیا۔ملاقات میںامریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیوکاکہنا تھا امریکہ افغانستان سے

اپنی افواج نکالنے کیلئے تیار ہے ، لیکن واشنگٹن نے طالبان کو فوج کے انخلا کی

کوئی ٹائم لائن نہیں دی ۔ملاقات میں تینوں رہنماؤں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ

افغانستان میں امن قائم کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔مائیک پومپیو کا یہ بھی کہنا تھا

امریکہ افغانستان امن معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے عملی

اقدامات کی توقع رکھتا ہے، امید ہے افغانستان میں 28 ستمبر کو ہونیوالے صدارتی

انتخابات سے قبل طالبان کیساتھ امن معاہدہ ہو جائے گا،ادھرافغان چینل تولو نیوز

کے مطابق مائیک پومپیو کا کہنا تھا مجھے امید ہے کہ یکم ستمبر سے قبل امن

معاہدہ ہو جائے گا اور یہی ہمارا مشن ہے،واضح رہے افغان فوج کی تربیت،

معاونت اور مدد کیلئے امریکہ کی سربراہی میں نیٹو مشن کے 20 ہزار غیر ملکی

فوجی اہلکار افغانستان میں تعینات ہیں جن میں سے زیادہ تر امریکی ہیں۔امریکہ

نے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بدلے میں طالبان سے اس بات کی ضمانت کا

مطالبہ کر رکھا ہے کہ دہشتگرد حملوں کیلئے افغانستان کی سرزمین کو استعمال

نہیں کیا جائے گا۔افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات رواں برس جنوری

میں دوحا میں شروع ہوئے تھے۔دوحا مذاکرات میں امریکہ کی نمائندگی امریکہ

کے خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کر رہے ہیں ، جبکہ امریکی وزیر خارجہ کا

دورہ امریکی حکام اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے ساتویں مرحلے کے

آغاز سے قبل سامنے آیاہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply