امریکہ، طالبان امن معاہدے کی سلامتی کونسل نے توثیق کر دی

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیویارک، کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ اور افغان طالبان کے مابین

معاہدے کی توثیق کر دی۔امریکہ نے طالبان کیساتھ ہونے والے معاہدے کی اقوام متحدہ کی سلامتی

کونسل سے توثیق کیلئے قرارداد جمع کرائی تھی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ طالبان نے

اپنے 5 ہزار اسیر رہنماوں اور جنگجووں کی رہائی کے لیے صدر اشرف غنی کی جانب سے پیش

کردہ مشروط پلان کو مسترد کردیا ہے ۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 29 فروری کو قطر

میں امریکہ اور طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوئے تھے جس میں طے پایا تھا کہ

افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج 14 ماہ میں مکمل طور پر نکل جائیں گی اور طالبان امریکی اور

غیر ملکی افواج کو نکلنے کا محفوظ راستہ فراہم کریں گے۔قرارداد میں معاہدے کو کامیاب بنانے کے

لیے افغان فریقین کے ارادوں اور جامع سیز فائر کو بھی سراہا گیا ہے۔اس کے علاوہ قرارداد میں امن

عمل یقینی بنانے کے لیے انٹرا افغان مذاکرات پر بھی زور دیا گیا ہے۔افغانستان میں امریکی فوج کے

ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا آغاز ہو

گیا ہے۔افغان صدر اشرف غنی نے 1500 طالبان قیدیوں کی رہائی کے پروانے پر دستخط کر دیئے

ہیں جبکہ افغان طالبان نے معاہدے کے تحت اپنے 5 ہزار قیدیوں کی رہائی کی فہرست امریکا کے

حوالے کی ہے۔مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی کمانڈر جنرل فرینک میکینزی نے امریکی کانگریس کی

آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ طالبان کے حملے معاہدے میں طے پانے والے اعداد و شمار سے زیادہ

ہیں لہذا ایسی صورت حال میں افغانستان سے مکمل فوجی انخلا نہ کیا جائے۔ادھر افغان صدر اشرف

غنی اور عبداللہ عبداللہ نے دو مختلف تقاریب میں افغان صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا جس سے

افغانستان میں ایک نئی سیاسی چپقلش کا آغاز ہو گیا ہے اور امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والا

معاہدے بھی خطرات کا شکار ہو سکتا ہے۔دریں اثناء طالبان نے اپنے 5 ہزار اسیر رہنماوں اور

جنگجووں کی رہائی کے لیے صدر اشرف غنی کی جانب سے پیش کردہ مشروط پلان کو مسترد کردیا

ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا

گیا ہے کہ صدر اشرف غنی کا اسیروں کی رہائی کے لیے شرائط رکھنا امریکا سے امن معاہدے کی

سراسر خلاف ورزی ہے۔ترجمان سہیل شاہین کا افغان صدر کی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے مزید

کہنا تھا کہ امن معاہدے میں 5 ہزار طالبان اسیروں کی غیر مشروط رہائی درج ہے جس کے بعد ہی

انٹرا افغان مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوسکے گا۔ترجمان افغان طالبان کی جانب سے یہ بیان اْس وقت

سامنے آیا ہے جب نو منتخب افغان صدر نے 1500 طالبان اسیروں کی رہائی کا پروانہ جاری کیا ہے

جب کہ بقیہ کی رہائی کو ملک میں پر تشدد کارروائیوں میں کمی اور انٹر افغان مذاکرات سے مشروط

کیا ہے جب کہ رہا ہونے والوں کو جنگ میں شرکت نہ کرنے کا حلف نامہ جمع کرانا ہوگا۔صدارتی

ترجمان صدیق صدیقی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ افغان امن عمل کے تحت طالبان اور افغان

حکومت کے درمیان بین الافغان مذاکرات شروع کرنے کے لیے ان قیدیوں کو رہا کرنے کی منظوری

دے دی اور 4 روز میں اس عمل کا ا?غاز کردیا جائے گا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply