امتحانات میں پاسنگ مارکس اب 33 نہیں 40 فیصد نمبر لازمی قرار

امتحانات میں پاسنگ مارکس اب 33 نہیں 40 فیصد لازمی قرار

Spread the love

اسلام آباد ( جے ٹی این آن لائن ایجوکیشن نیوز) امتحانات میں پاسنگ مارکس

تعلیمی اداروں کے لئے پالیسی تبدیل کر دی گئی جس کے تحت پاسنگ مارکس کی

شرح 33 سے بڑھا کر 40 کردی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی نظام تعلیمات

نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں طالبعلموں کیلئے پالیسی میں تبدیلی کرتے

ہوئے پاسنگ مارکس کی شرح 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کردی ہے۔ نئی

پالیسی کے مطابق پاس ہو نے کیلئے 75 فیصد حاضری بھی لازمی قراد دیدی گئی

ہے۔ علاوہ ازیں دو سے زیادہ مضامین میں فیل ہونیوالا طالبعلم فیل تصور ہو گا۔

==-== یہ بھی پڑھیں: تعلیم میں تفریق ختم کرنے کیلئے یکساں قومی نصاب ناگزیر

نئی پالیسی کا اطلاق2021ء کے امتحانات میں ہو گا۔ اس حوالے سے نوٹیفیکیشن

بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت پہلی اور دوسری جماعت کے طالبعلموں

کو اگلے گریڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم تیسری چوتھی جماعت کے طالبعلم دو

مضامین میں فیل ہونگے تو انہیں فیل تصور کیا جائیگا۔

==-== آٹھویں تک یکساں تعلیمی نصاب

دوسری جانب وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے آٹھویں تک یکساں تعلیمی نصاب

کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا صوبوں اور نجی تعلیمی اداروں کو

اضافی مواد پڑھانے کی اجازت دی گئی ہے، ایلیٹ پرائیویٹ سکولز میوزک اور

ڈانس کی کلاسز دینے میں آزاد ہیں اسی طرح مدارس بھی اپنے درس نظامی کا

اضافی مواد پڑھا سکتے ہیں۔ مدارس کی رجسٹریشن پر باہمی تبادلہ خیال کرتے

ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ملک بھر میں مدارس کی رجسٹریشن

کا سلسلہ جاری ہے اور وفاقی وزارت تعلیم کے ذیلی ادارہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف

ریلی جئس ایجوکیشن کے تحت سولہ آفسز اس مقصد کیلئے قائم کئے گئے ہیں اور

اس وقت تک دو ہزار مدارس رجسٹر ہو چکے ہیں، کچھ مدارس کی طرف سے نئی

تعلیمی بورڈز بنانے کا تقاضا تھا تو پانچ نئے بورڈز بھی بنائے گئے ہیں۔

=قارئین=: خبر اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

امتحانات میں پاسنگ مارکس

Leave a Reply