الیکٹرانک ووٹنگ مسترد

پی ڈی ایم نے الیکٹرانک ووٹنگ کو مسترد کر دیا ، احتجاجی جلسوں کا اعلان

Spread the love

الیکٹرانک ووٹنگ مسترد

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے پاکستان پیپلز

پارٹی اور اے این پی کو پارلیمنٹ میں ساتھ ملانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔جبکہ ایک مرتبہ پھر جلسے

کرنے کا بھی اعلان کردیا۔پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کا سربراہی اجلاس ن لیگ کے

اسلام آباد سیکرٹریٹ میں ہوا، جس کی میزبانی مسلم لیگ ن اور صدارت سربراہ پی ڈی ایم فضل

الرحمان نے کی۔ اجلاس میں شہباز شریف، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، آفتاب شیر پاؤ،

محمود خان اچکزئی، میر کبیر شاہی، طاہر بزنجو بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں ملک کی سیاسی

صورتحال اور پی ڈی ایم کی حکمت عملی پر مشاورت ہوئی اور پیپلزپارٹی اور اے این پی کی واپسی

سے متعلق معاملات بھی زیر غور لائے گئے۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ پیپلز پارٹی اور اے

این پی کو پارلیمنٹ میں ساتھ ملایا جائے گا، بجٹ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کا مل کر مخالفت کا

فیصلہ کیا گیا۔ بجٹ اجلاس میں جعلی حکومتی اعداد و شمار بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انتخابی

اصلاحات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی اور متفقہ طور پر

الیکٹارنک ووٹنگ مشینوں سے متعلق فیصلے کو مسترد کر دیا گیااجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو

کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خطے کی صورتحال تشویشناک ہوتی جارہی ہے،

افغانستان کی صورتحال پر پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس طلب کیاجائے۔ دفاعی صورتحال پر ان کیمرہ

اجلاس میں ایوان کو آگاہ کیا جائے، افواہیں ہیں پاکستان امریکی طیاروں کو ایئر بیس مہیا کرے گا،

پاکستان کیا ممکنہ مشکلات سے دو چار ہو سکتا ہے؟ان کاکہنا تھا کہ موجودہ حکومت کسی بھی قسم

کے چیلنج کا سامنا نہیں کرسکتی، موجودہ حکومت عوام کی منتخب کردہ حکومت نہیں ہے۔ بڑے

احتجاجی جلسوں اور عوام سے رابطوں کا پلان بنا لیا ہے، 4 جولائی کو سوات میں احتجاجی مظاہرہ

کیا جائے گا، 29 جولائی کو کراچی میں جلسہ کیا جائے گا، 14 اگست کو یوم آزادی منائیں گے، اسلام

آباد میں عظیم الشان مظاہرہ ہو گا۔پاکستان کی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہو گا۔ انہوں الیکشن کے

دوران الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کو دھاندلی قرار دیا پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر

مریم نواز نے کہا کہ اگر مزاحمت ہو گی تو ہی مفاہمت ہو گی۔ کمزور سے کوئی بات نہیں کرتا۔ مریم

نواز نے کہا کہ پیپلز پارٹی شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کرتی ہے۔ پی ڈی ایم کی اپنی حکمت

عملی ہے اور پارلیمنٹ کی اپنی حکمت عملی ہے۔ دونوں کو یکجا نہ کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ

اپوزیشن لیڈر کے طور پر شہباز شریف اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہیں۔ پی ڈی ایم کامکمل طور پر

آزادانہ کردار ہے۔ پیپلز پارٹی اب پی ڈی ایم کا حصہ نہیں اس لیے اب وہ میرا ہدف نہیں ہے۔

درخواست ہے کہ بار بار مجھے پیپلز پارٹی سے متعلق سوال میں نہ الجھایا جائے۔صحافی کی طرف

سے سوال کیا گیا کہ ن لیگ میں مفاہمت کی سیاست ہو گی یا مزاحمت کی۔ اس سوال کے جواب میں

مریم نواز نے کہا کہ اگر مزاحمت ہو گی تو ہی مفاہمت ہو گی۔ کمزور سے بات نہیں ہوتی۔ جہاں

کمزوری دکھائی دشمن حملہ آور ہو گا۔لیگی نائب صدر نے کہا کہ کوئی بھی چیز ٹرے میں رکھ کر

نہیں ملتی۔ آپ کو اپنا حق لڑ کر اور چھین کر لینا پڑتا ہے۔ آج ملک میں صحافیوں پر حملے ہو رہے

ہیں۔ جب سچ بولنے اور سچ لکھنے پر سزا دی جائے تو دل دکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں آواز اٹھانا کو

ئی چھوٹی بات نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاست، صحافت اور عدالت کے لیے جدوجہد کی، ہماری

عوام کے لیے کی جانے والی جدوجہد سے غیر جمہوری قوتیں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئیں۔ یہ

سب کچھ مفاہمت نہیں ہے۔ اب یہ پاکستان میں نہیں ہوگا کہ کوئی خود کو عوام کے علاوہ طاقت کا

سرجشمہ سمجھے۔ عوام کے پاس جانا پی ڈی ایم کا حق ہے۔ مایوسی کے عالم میں جلسے جلوس نہیں

کیے جاتے۔ عوام کے ساتھ کھڑے ہونا پی ڈی ایم کی کمزوری نہیں بلکہ پی ڈی ایم کی مضبوطی کی

نشانی ہے۔اس سے قبل پی ڈی ایم کے اجلاس میں پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹنے پیپلزپارٹی اور عوامی

نیشنل پارٹی کیساتھ مل کر بجٹ کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔۔پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل اور مسلم

لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے اجلاس میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کو جاری

شوکاز نوٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے دونوں پارٹیوں کو

اپنے فیصلوں پرنظرثانی کے لیے کہا لیکن دونوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا، ن لیگ کا دونوں

جماعتوں بارے موقف واضح ہے، اب پی ڈی ایم ان دونوں بارے فیصلہ کرے۔پیپلز پارٹی اور اے این

پی کے معاملے پر تفصیلی مشاورت کے بعد تمام جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو فیصلے کا

اختیار دے دیا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کو پارلیمنٹ میں ساتھ ملانے کا فیصلہ کرتے

ہوئے کہا گیا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر کردار ادا کریں گی۔بجٹ

اجلاس کے موقع پر تمام اپوزیشن جماعتوں نے مل کر مخالفت کرنے اور جعلی حکومتی اعداد و شمار

کو بھر پور طریقہ سے بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا۔مسلم لیگ (ن )کے قائد نواز شریف، اسحاق ڈار

اور عابد شیرعلی ویڈیو لنک پر شریک ہوئے، تحریک انصاف کی اتحادی صف سے نکل کر پی ڈی

ایم میں شامل ہونے والے بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل بھی ویڈیو لنک پر موجود تھے۔نواز

شریف نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کی واپسی پر موقف واضح کیا، نائب صدر مسلم لیگ ن مریم

نواز نے بھی اپنی تجاویز پیش کیں۔پی ڈی ایم اجلاس سے قبل شہباز شریف کی زیر صدارت ن لیگ کا

مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، احسن اقبال، ایاز صادق اور دیگر

شریک ہوئے، اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے بیانیے، آئندہ بجٹ اور پارٹی امور پر بات چیت ہوئی۔

الیکٹرانک ووٹنگ مسترد

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply