الیکشن 2023ء بذریعہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہی ہونگے، شبلی فراز

الیکشن 2023ء بذریعہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہی ہونگے، شبلی فراز

Spread the love

پشاور(بیورو چیف، عمران رشید) الیکشن 2023ء شبلی فراز

Journalist Imran Rasheed

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے پاکستان

نیشنل کوالٹی پالیسی 2021ء کی باضابطہ منظوری کے بعد ملکی معیشت کی

بہتری کے لئے ایکسپورٹ میں اضافہ اور معیاری مصنوعات کی فراہمی کے

ساتھ ساتھ پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ( PSQCA ) سمیت دیگر

کوالٹی، ایکریڈیشن کے اداروں کے کام کو مزید موثرو فعال بنایا جائے گا جبکہ

غیر معیاری مصنوعات کے لئے ایک اسپیشلائز و جدید لیبارٹری قائم کی جا رہی

ہے، پی ایس کیو سی اے کی ہیڈ کوارٹر کو بھی کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا

جائے گا۔ موجودہ حکومت پاکستانی مصنوعات کو عالمی معیار کے عین مطابق

لانے کے لئے کوشاں ہے-

=-،-= صدر سرحد چیمبر کی ایڈوانس ڈیجیٹل سکلڈ پروگرام کی تجویز

سرحد چیمبر کے صدر شیر باز بلور نے کہا پی ایس کیو سی اے اور پاکستان

نیشنل ایکریڈیشن کونسل کاروباری طبقہ کو سہولیات اور اشیاء کی منظوری

سرٹیفیکیشن کے اجراء کو بروقت یقینی بنانے کیلئے اپنا فعال کردار ادا کرنے پر

زور دیا تاکہ عالمی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ رسائی

سے ملکی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے ایڈوانس ڈیجیٹل سکلڈ

پروگرام شروع کرنے کی تجویز پیش کی جس کے ذریعے ایک تربیت یافتہ ورک

فورس آئے گی جو ملکی معیشت کی بہتری میں اپنا موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا پاکستان کی آبادی کا 63 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور

ہمارے نوجوان کافی باصلاحیت اور ہنر مند ہیں صرف ان کی رہنمائی اور تعاون

کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی ملکی ترقی میں اپنا بھرپور ادا کر سکیں۔ انہوں نے

ای کامرس کی ترقی میں پبلک پرائیویٹ سیکٹر کے باہمی کردار ادا کرنے پر بھی

زور دیا۔

=–= معیشت و کاروبار سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–=)

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز نے

گذشتہ روز دورہ سرحد چیمبر کے موقع پر سرحد چیمبر کے صدر شیر باز بلور

نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار جدید خطوط اور ٹیکنالوجی

کے ذریعے فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان

اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی مصنوعات کی معیار میں مزید بہتری لانے کے

لئے انسپکشن کو مزید بڑھائے۔ انہوں نے کہا پانی کی بڑھتی ہوئی کمی پاکستان

کے لئے ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کے لئے پاکستان کونسل آف

ریسرچ ان واٹر ریسورس اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے پاکستان

کونسل فارری نیو بیل انرجی ٹیکنالوجیز کے ذریعے قابل تجدید بجلی کے وسائل

کو بڑھانے کے لئے نوجوانوں کے لئے خصوصی تربیت کے انعقاد پر بھی زور

دیا ہے۔

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

اجلاس میں لیڈر بزنس مین فورم سینیٹر الیاس احمد بلور سرحد چیمبر کے سینئر

نائب صدر انجینئر منظور الٰہی، سابق صدر ایف پی سی سی آئی غضنفر بلور

سابق صدور زاہد اللہ شنواری، ملک نیاز احمد، فیض محمد فیضی ایگزیکٹو کمیٹی

کے اراکین محمد اورنگزیب، محمد نعیم بٹ، وقار احمد، سابق نائب صدور عابد

اللہ یوسفزئی، جاوید اختر اور سہیل جاوید، منہاج الدین، راشد اقبال صدیقی، فضل

واحد، صدر گل، فیض رسول، نعیم قاسمی، وویمن چیمبر کی ممبر قرة العین،

وفاقی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے افسران علی فراز، تنویر عباس، عبداللہ

ناصر، نورین خان، سدرہ حسین سمیت صنعتکاروں، تاجروں، ایکسپورٹرز اور

امپورٹرز کی کثیر تعداد میں موجود تھی۔

=-،-= مصنوعات کا معیار مزید بہتر بنانے کیلئے پیشہ ورانہ تربیت اشد ضروری

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا کہ مصنوعات کے معیار کو

مزید بہتر بنانے کے لئے پیشہ ورانہ تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا

کہ ملک بھر میں تمام کوالٹی معیارسے متعلقہ لیبارٹریز کے کام اور معیار کو

مزید بہتر بنانے کے لئے آﺅٹ سورس کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے

معدنی و قدرتی وسائل کی ترقی و بہتری کے لئے باقاعدہ میپنگ اور تحقیق کی جا

رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان سے خام مال کو ایک تحفہ کے

طور پر استعمال کیا گیا لیکن اس کو ویلیو ایڈیشن کا ذریعہ نہیں بنایا گیا ہے۔ وفاقی

وزیر نے کہا حکومت انڈسٹریز اور اکیڈیمیہ کا ایک ٹرائی اینگل (Triangle) بنایا

جا رہا ہے تاکہ اس اقدام کے ذریعے پراڈکٹ کے معیار کوبہتر بنانے کے ساتھ

ساتھ روزگار کے مواقع اور تربیتی پروگرام کے انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر کے فروغ پر توجہ

مرکوز رکھی ہوئی ہے جس کے لئے طریقہ کار وضع کیا جارہا ہے جس کے

حوالے سے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔

=-،-= وفاقی وزیر کا ملکی حالات اور سیاسی مسائل پر تفصیلی اظہار خیال

اس موقع پر ملکی حالات اور دیگر مسائل کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے

وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات ہمیشہ سے متنازعہ رہے

ہیں جس کی وجہ سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے اب وقت آ گیا

ہے کہ ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جو کہ ہارنے والے اور جیتنے والے

دونوں نتائج کو ہمہ وقت تسلیم کریں۔ انہوں نے کہا کہ 2023ء کے عام انتخابات کا

انعقاد ٹیکنالوجی کے ذریعے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ

مشین (EVM) اس سفر کی ابتداء ہے جو پاکستان بھر میں شفاف، غیر جانبدار

اور آزاد و غیر متنازعہ الیکشن کے انعقاد میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے گی۔

EVM مشین کے حوالے سے اپوزیشن جماعتیں سب سے بڑا سٹیک ہولڈر ہے

اور میں حزب اختلاف جماعتوں سے کہتا ہوں اس مشین کی سائنس و ٹیکنالوجی

کو سمجھے اور ٹیکنیکل خامیوں کی نشاندہی کریں ناں کہ اس کو دیکھنے کے

بغیر پہلے ہی مسترد کریں جو کہ سراسر ناانصافی و زیادتی ہو گی۔

=-،-= اپوزیشن کو سنجیدگی کیساتھ ای وی ایم مشین کے مشاہدہ کی دعوت

انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دی کہ اس EVM مشین کا ماہرین کی مدد

سے خود مشاہدہ کریں اور اس کے حوالے سے تحفظات و خدشات کی نشاندہی

کریں تاکہ اس سسٹم کو قابل عمل اور نافذ العمل جلد بنایا جا سکے کیونکہ

اپوزیشن پارٹیز کا کردار EVM سسٹم کی کامیابی میں بہت اہم ہے۔ انہوں نے

چھوٹے صوبوں کے حقوق کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ

حکومت چھوٹوں صوبوں کے حقوق دینے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے

بالخصوص خیبر پختونخوا کے ہائیڈل پاور جنریشن پراجیکٹ اور دیگر حقوق پر

زیادہ توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے تاکہ لوگوں کو سستی بجلی کی پیداوار کی

فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے

حقوق کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ وزیر خزانہ اور چیف

سیکرٹری اور وہ خود بات چیت کر رہے ہیں۔ اس سے قبل EVM سسٹم کی

افادیت، استعمال اور ملک بھر میں آزاد، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے

انعقاد میں EVM مشین کے کردار کو ایک ملٹی میڈیا پریذنٹیشن کے ذریعے بتایا

گیا اور شرکاء نے عملی طور پر EVM مشین کے ذریعے ووٹ دینے کا بھی

مظاہرہ کیا۔

=-،-= طلبہ کا مقصد صرف ڈگری کا حصول نہیں ہونا چاہیے ، شبلی فراز

پشاور کی انجینئرنگ یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر برائے

سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا 2023ء میں انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ

مشین کے ذریعے ہونگے۔ 90 دن کے الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنائی گئی، 15

سیکنڈ کے اندر کسی بھی الیکشن بوتھ کا نتیجہ سامنے آئے گا۔ ووٹنگ مشین میں

انسانی عمل دخل کم سے کم رکھا گیا ہے، یہ صرف ایک مشین نہیں، ووٹ کے

سلسلے میں یہ مشین تمام ایشو کا حل ہے، اس مشین کو انٹرنیٹ کی بھی ضرورت

نہیں اس سے ووٹر بھی مطمئن رہے گا، 15 سیکنڈ کے اندر کسی بھی الیکشن

بوتھ کا نتیجہ سامنے آئے گا، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق گنتی

کے عمل میں 18 لاکھ ووٹ ضائع ہوتے ہیں، ووٹ کا ضیاع نتائج پر اثر انداز

ہوتا یے، ملک میں ہر الیکشن متنازعہ رہا یے، وفاقی وزیر نے طلبہ پر زور دیا

کہ ہمارا مقصد صرف ڈگری کا حصول نہیں ہونا چاہیئے، شاندار ماضی کے ساتھ

مستقبل پر بھی توجہ دینے، روز مرہ استعمال کی اشیاء بنانے کے عمل میں آگے

بڑھنے اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی

ضرورت ہے-

الیکشن 2023ء شبلی فراز ، الیکشن 2023ء شبلی فراز ، الیکشن 2023ء شبلی فراز

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply