الیکشن کمیشن کی تکمیل کیلئے “یوٹرن” کب؟

Spread the love

(تجزیہ:..شیخو جی)
الیکشن کمیشن ایک چیئرمین اور چار ارکان پر مشتمل ہوتا ہے جن کا تعلق چاروں

صوبوں سے ہوتا ہے، اس وقت الیکش کمیشن نامکمل ہے کیونکہ بلوچستان اور

سندھ کے ارکان اپنی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو چکے ہیں اوران کی جگہ نئے

ارکان کا تقرر نہیں کیا گیا، اس لئے کہا جاسکتا ہے وطن عزیز کے الیکشن کمیشن

میں اس وقت دو صوبوں کی کوئی نمائندگی نہیں، اب سوال یہ ہے کیا اس کی وجہ

قحط الرجال ہے اور کیا دونوں صوبوں میں ایسے فاضل ارکان دستیاب نہیں جنہیں

الیکشن کمیشن میں اپنے اپنے صوبوں کی نمائندگی کا اعزاز بخشا جاسکے،نہیں

ایسا بالکل نہیں، دونوں صوبوں میں ایسی شخصیات آسانی سے تلاش کی جاسکتی

ہیں جو بطو رکن الیکشن کمیشن اپنے فرائض بطریق احسن انجام دے سکتی ہوں۔

یہ الگ بات ہے ماضی میں بعض نیک نام شخصیات بھی جب الیکشن کمیشن میں

آئیں تو یار لوگوں نے ان کی ساری نیک نامی ہوا میں اڑا دی۔ ذرا فلیش بیک کی

طرف چلتے ہیں، جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کو الیکشن کمیشن کا چیئرمین

بنایا گیا تھا، یہ تقرر نہ صرف آئین و قانون میں درج طریق کار کے عین مطابق

تھا بلکہ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں میں اس معاملے پر کلی اتفاق پایا جاتا تھا

کہ ایک بہترین شخصیت کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم

نیک نامی کی شہرت رکھتے تھے اور ایک دبنگ جج کے طور پر جانے جاتے

تھے یاد نہیں پڑتا کسی جانب سے ان پر اعتراض کیا گیا ہو، بلکہ ان دنوں ایسی

اطلاعات بھی آئی تھیں کہ وہ یہ عہدہ سنبھالنے کے لئے رضا مند نہیں تھے، انہیں

آمادہ کرنے کے لئے بڑی کوششیں کی گئیں، جب ان کے تقرر کا اعلان ہوا تو ہر

جانب سے خیرمقدم کیا گیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی اس تقرر

پر خوش تھے، ان کی جانب سے خیر مقدمی بیانات کا ریکارڈ موجود ہے، 2013ء

کے الیکشن کے انعقاد تک تو سب اچھا تھا لیکن جونہی نتائج آئے دنیا جہان کی

برائیاں ان میں تلاش کر لی گئیں۔ اگرچہ تحریک انصاف کے مطالبے پر قائم ہونے

والے جوڈیشل کمیشن نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ ان انتخابات میں کوئی منظم

دھاندلی نہیں ہوئی تھی، لیکن جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کا گناہ معاف نہیں ہوا

اور ان کا خیرمقدم کرنیوالے بھی ان کے خلاف جو منہ میں آیا کہتے رہے، اس پس

منظر میں موجودہ الیکشن کمیشن کے ارکان بھی نکتہ چینی کا ہدف بنتے رہے ہیں۔

2018ء کے الیکشن نتائج جس پراسرار انداز میں روکے گئے اور بعض حلقوں

کے نتیجے کا اعلان کئی دن تک نہ ہوا۔ اس پر آج تک نکتہ چینی ہوتی ہے اور

ایسی ہی شکایات کا جائزہ لینے کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے

جو کچھوے کی رفتار سے چل رہی ہے، لیکن اس وقت ہم بات کر رہے ہیں الیکشن

کمیشن کے دو ارکان کا تقرر کیوں نہیں ہو رہا اور الیکشن کمیشن نامکمل کیوں

ہے؟ البتہ اس سوال کا جواب تو ماہرین قانون ہی دے سکتے ہیں کہ کیا نامکمل

الیکشن کمیشن کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات (ضمنی انتخاب وغیرہ) قانونی

طور پر درست ہوں گے یا نہیں؟

ارکان کے تقرر کا طریق کار بھی وہی ہے جو چیئرمین الیکشن کمیشن کے تقرر کا

ہے اور یہ طریق کار آئین کے آرٹیکل 213، (2اے) میں درج ہے۔ چیئرمین کا تقرر

وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف باہمی مشاورت سے کرتے ہیں، دونوں میں

بامقصد مشاورت ہوتی ہے اور وہ تین ناموں پر غور کرکے یہ نام حتمی منظوری

کے لئے پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیتے ہیں جو کسی ایک نام کی منظوری دے دیتی

ہے۔ لیکن وزیراعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف میں چونکہ

کوئی ورکنگ ریلیشن شپ نہیں، اس لئے دونوں میں مشاورت نہیں ہو رہی،

حالانکہ یہ باہمی مشورہ انہوں نے اپنے کسی ذاتی مطلب کے لئے نہیں کرنا،

مملکت کے ایک اہم ادارے کے ارکان کے تقرر کے سلسلے میں کرنا ہے لیکن

ایسے محسوس ہوتا ہے وزیراعظم عمران خان، قائد حزب اختلاف سے ملاقات

میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں، وہ شہبازشریف کو چور اور ڈاکو تو درجنوں

مرتبہ کہہ چکے، پہلے ان کی کوشش تھی کہ انہیں قائد حزب اختلاف نہ بنایا جائے

لیکن یہ استحقاق اپوزیشن جماعتوں کے پاس ہے کہ وہ کسے اپنا قائد بناتی ہیں۔

چنانچہ انہوں نے یہ منصب شہبازشریف کو دے دیا۔ یہیں سے ایک نئے نزاع نے

جنم لیا، دس سال سے یہ روایت (غلط یا صحیح) چلی آرہی تھی کہ قائد حزب

اختلاف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا جاتا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت

میں چوھری نثارعلی خان چیئرمین تھے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں یہ

منصب سید خورشید شاہ کے پاس تھا، اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے حزب

اختلاف شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانا چاہتی تھی یہ بھی

وزیراعظم کو گوارا نہ تھا، لیکن حزب اختلاف نے کامیاب حکمت عملی اختیار کر

کے انہیں چیئرمین تو بنوا لیا لیکن ان کے خلاف وزراء کی زبانیں زہر ہی اگلتی

رہیں، عدالتوں میں جانے کا اعلان بھی کیا گیا لیکن تاحال شہبازشریف قائد حزب

اختلاف اور پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ اب وزیراعظم کی انا انہیں

اجازت نہیں دیتی کہ وہ شہباز شریف سے مشاورت کریں، جس کے بغیر الیکشن

کمیشن کے دو ارکان کا تقرر نہیں ہوسکتا۔ بس اسی وجہ سے ارکان کے تقرر کا

معاملہ آگے نہیں بڑھ رہا۔ دیکھیں حکومت اس کا حل کیا نکالتی ہے؟

ہماری رائے تو یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پہلی فرصت ہی میں الیکشن

کمیشن میں نمائندگی سے محروم دونوں صوبوں کو نمائندگی یقینی بنانے کیلئے

قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے ملاقات کا اہتمام کریں اور نام تجویز کر کے

پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کر دیں تاکہ مستقبل میں اٹھنے والے آئینی سوالات سے

اپنی حکومت اور خود کو محفوظ رکھ سکیں اور “یو ٹرن” لینے والا ہی حقیقی لیڈر

ہوتا ہے کے نظریے کو تقویت مل سکے ، ورنہ عوام وزیراعظم عمران خا ن کے

نظریہ “یو ٹرن” کو بھی اسی نگاہ سے دیکھنے میں حق بجانب ہونگے جس نگاہ

سے وہ نواز شریف کے “ووٹ کو عزت دو” اور آصف زرداری کے”نعرہ بھٹو”

کو دیکھتے چلے آ رہے ہیں ،

Leave a Reply