sachi kahaniya jtnonline3

الوداع پہاڑ الوداع، ہو شنگھائی اور چینی دوشیزہ ” سائی قی یان “

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیوشوئی، ہیفے (جے ٹی این آن لائن سچی کہانیاں ) الوداع پہاڑ ہو شنگھائی

مشرقی چین کے صوبہ جیانگ شی کی کانٹی شیوشوئی کے غریب پہاڑی علاقوں

میں رہنے والوں کیلئے مقامی انسداد غربت آباد کاری مہم زندگی تبدیل کرنیوالی

ثابت ہوئی۔

=–= یہ بھی پڑھیں، اور رابعہ بہک گئی حجاب دیکھ کر
—————————————————————————

تفصیلات کے مطابق ایک وقت میں شانگ فینگ علاقہ کے پہاڑی گائوں میں

رہائش پذیر” ہو شنگھائی ” جو انسداد غربت و آباد کاری سے فائدہ اٹھانے والے

دیہاتیوں میں سے ایک ہیں۔ 2017ء میں آباد کاری معاشرے میں ایک بالکل نئے

اپارٹمنٹ میں منتقل ہونے سے قبل ” ہو ” کو ضروریات زندگی کیلئے قریب ترین

دکان پر جانے کیلئے کئی گھنٹوں سفر کرنا پڑتا تھا، ان کا خاندان آمدن کیلئے

معمولی کھیتوں سے فصلیں حاصل کرتا تھا۔ شیوشوئی میں غربت کے خاتمے کے

مقصد کیساتھ آباد کاری پروگرام سے ” ہو ” سمیت دیگر غریب دیہاتیوں کی بہتر

گھروں، ہسپتالوں، سکولوں اور ملازمت کے مواقع تک رسائی ممکن ہوئی۔

=–= ” ہو ” کو جنگل کے رینجر کی ملازمت ملی ہوئے دن تبدیل

پروگرام کے ایک حصہ کے طور پر ” ہو ” کو جنگل کے رینجر کی ملازمت مل

گئی، انہوں نے نامیاتی چاولوں اور ریشم کے کیڑوں کے کاروبار میں بھی سرمایہ

کاری کی جس کے باعث انہیں 2018ء میں اپنے خاندان کو غربت سے نکالنے میں

مدد ملی۔ چین کے تیرہویں پانچ سالہ منصو بہ ( 2020-2016 ) کے دوران شیو

شوئی کانٹی نے ملک کے پہاڑی علاقوں میں زندگی کی مشکلات کا شکار 10 ہزار

غریب دیہی رہائشیوں کیلئے 141 آباد کاری علاقے تعمیر کئے ہیں۔

=–= ” ہو آئی ہوا ” اور لینگ چھِنگ لیو کی زندگی

لینگ چھِنگ لیو اور انکی اہلیہ ” ہو آئی ہوا ” 2017ء میں آباد کاری کے علاقے

میں ایک نئے کنکریٹ کے مکان میں منتقل ہونے سے قبل پہاڑی گاؤں یانگ فانگ

میں ایک خستہ حال کچے مکان میں رہتے تھے، جوڑے نے شہتوت کے درخت

لگا کر اور کھیتوں سے ریشم چننے کا کام کرکے اپنے خاندان کی آمدن میں اضافہ

کیا۔

=–= ” سائی قی یان ” کے والدین نے کیا اس کے علاج کا فیصلہ

ادھر” سائی قی یان ” مشرقی چین کے صوبہ آنہوئی کی جِن ژائی کانٹی میں اپنے

گھر کے قریب پہاڑوں پر چائے کی پیداوار کے مقام سے بادلوں کے منظر سے

لطف اندوز ہو تی ہے، لیکن یہ تفریح ایک عیش وعشرت ہے کیونکہ 15 سالہ لڑکی

پیدائشی طور پر ریڑھ کی ہڈی کے مسئلہ سے دوچار تھی۔ 2012ء میں اہلخانہ نے

بیجنگ سے علاج کروانے کا فیصلہ کیا، آنیوالے 8 سالوں میں ” سائی قی یان ” کی

8 مرتبہ سرجری کی گئی جس کے بعد اسکی کمر سیدھی ہو گئی مگر بحالی کا یہ

عمل اس کیلئے کافی تکلیف دہ تھا، تا ہم متعدد سرجریز نے ” سائی قی یان ” کے

اہلخانہ کو شدید غربت کا شکار کر دیا۔

=–= حکومتی انسداد غربت پروگرام میں رجسڑیشن سے زندگی نے بدلی کروٹ

2016ء میں ” سائی قی یان ” کے اہلخانہ کو حکومت کی جانب سے غربت کا

شکار خاندان کے طور پر رجسٹر کیا گیا۔ مقامی غربت کی امدادی پالیسیوں کی مدد

سے اہلخانہ نے 2019ء میں غربت پر قابو پا لیا۔ ” سائی قی یان” کے والدین اب

چائے اگاتے ہیں اور اب انہیں سالانہ 30 ہزار یوآن ( تقر یبا 4 ہزار 240 امریکی

ڈالر) کی آمدن حاصل ہو تی ہے۔ ” سائی قی یان ” کا کہنا ہے کہ وہ خصوصی طور

پر طبی عملہ کا شکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے اس کی صحت کا خیال رکھا،

مقامی بورڈنگ سکول میں چھٹی جماعت کی طالبعلم کا اب خواب ہے کہ وہ ڈاکٹر

بن سکے۔

=–= قارئین =-: ہماری کاوش پسند آئی ہو گی،اپ ڈیٹ رہنے کیلئے ہمیں فالوکریں

الوداع پہاڑ ہو شنگھائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply