corona Special jtnonline3

کووڈ ویکسینیشن کی سہولت کیلئے اقوام متحدہ کی اردو مہم کا آغاز

Spread the love

اقوام متحدہ اردو مہم

نیویارک (جے ٹی این آن لائن نیوز) اقوام متحدہ نے کووڈ 19 ویکسین کی منصفانہ اور مساوی تقسیم

کو یقینی بنانے کے لیے پہلی مرتبہ اردو (اور دیگر نوزبانوں میں)اپنی مہم کا آغاز کردیا۔مزید یہ کہ

پاکستان بھی وبا کو شکست دینے میں عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس کوشش میں

شامل ہوگیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ نے کووڈ 19 ویکسین تک عالمی رسائی یا

کوویکس کہلائی جانے والی مہم کے تحت ضرورت مندوں کو ویکسین کی فراہمی کے لیے عالمی

اقدام کا آغاز کردیا۔اس حوالے سے پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر منیر اکرم کا کہنا تھا کہ ہمیں

ویکسین کی فراہمی کے لیے کوویکس کی سہولت کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔انہوں نے دنیا پر زور

دیا کہ وہ اس شارٹ فال کو دور کرنے کے لیے جلد از جلد فنڈ کریں جو مہم کو اپنے مقصد تک

پہنچنے سے روک رہا ہے۔پاکستانی سفیر جو اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل(ایکوایس او

سی)کے صدر بھی ہیں نے کہا کہ وائرس سے متاثرہ دنیا کی معیشت کی تیزی سے بحالی کے لیے وبا

کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ادھر کوویکس کے ایک شراکت دار گاوی نے پاکستان کے لیے

آسکفورڈ-ایسٹرا زینیکا کی کورونا ویکسین کی ساڑھے 4 کروڑ خوراکوں کی وصولی کا انتظام کیا

ہے، جس کا ٹیکہ ساڑھے 4 کروڑ لوگوں کو لگایا جائے گا، یہ ویکسین بھارت میں تیار کی جارہی

ہے۔کوویکس عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) گلوبل الائنس برائے ویکسینز اینڈ امیونائزیشن (گاوی)،

کولیشن فار ایپیڈیمک پریپرڈنیس انوویشنز (سی ای پی آئی) اور یونیسیف کا ایک مشترکہ اتحاد ہے۔

اگرچہ اسے 190 حصہ لینے والے ممالک کی حمایت حاصل ہے تاہم رواں سال کے آخر تک سب

سے زیادہ ضرورت مندوں کو ویکسین کی فراہمی کے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے کوویکس

کو اب بھی 2 ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہے۔امریکا کی جانب سے 4 ارب ڈالر کا وعدہ کیا گیا

ہے اور وہ سب سے بڑا حکومتی ڈونر ہے، اس کے علاوہ نجی عطیات دہندگان میں شامل بل اینڈ ملنڈا

گیٹس فانڈیشن نے 15 کروڑ ڈالر سے زیادہ کا وعدہ کیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو

گوتیرس نے کہا کہ وائرس نے 25 لاکھ سے زیادہ افراد کو ہلاک کردیا جبکہ کروڑوں کو کمزوری

کے ساتھ ساتھ طویل مدتی صحت کے اثرات کے ساتھ چھوڑ دیا۔انہوں نے کہا کہ صرف ایک ساتھ مل

کر ہی ہم اس وبا کا خاتمہ کرسکتے ہیں اور ان چیزوں پر واپس جاسکتے ہیں جس سے ہم پیار کرتے

تھے۔مزید برآں اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکریٹری جنرل آمنہ جے محمد کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال میں ہم

نے کھانا کھانے، گلے ملنے اور اسکول اور کام پر جانے سمیت ان چیزوں کو یاد کیا جو ہمیں ایک

دوسرے کے ساتھ پسند تھیں۔انہوں نے دنیا پر زور دیا کہ تمام لوگوں کے لیے ویکسین کی دستیابی کے

لیے مل کر کام کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک ساتھ ہم زندگی مزے دوبارہ لے سکیں گے، ہمیں یہ یقینی

بنانا ہے کہ ہر ایک کو ویکسین ملے تاکہ ہم دوبارہ ویسے رہ سکیں جیسے ہم چاہتے ہیں۔

اقوام متحدہ اردو مہم

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply