prime-minister imran khan 88

اقلیتوں کے ساتھ تفریق ہماری پالیسی نہ آئین کا حصہ بھارت میں رواںسلوک کاموازنہ پاکستان سے نہیں کیا جا سکتا، وزیراعظم

Spread the love

ڈیووس ،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مذہبی

اقلیتوں کے ساتھ تفریق پاکستان کے آئین کا حصہ نہیں اور نہ ہی یہ پاکستانی

حکومت کی پالیسی میں شامل ہے،بھارت میں لوگ خوفزدہ ہیں،اگر بات کسی اقلیت

یا خاص طور پر مسلمانوں کی کریں تو جو انڈیا میں ہو رہا ہے اس کا موازنہ

پاکستان سے نہیں کیا جا سکتا، پاکستان میں معیشت اب سنبھل چکی ہے، روپے کی

قدر مستحکم ہوگئی ہے، سٹاک مارکیٹ میں اعتماد آنے کے بعد اوپر جا رہی ہے،

سرمایہ کاری 100 فیصد تک اوپر گئی ہے،2020ترقی کا سال ہے ،کشمیر انڈیا

اور پاکستان کے درمیان ایک متنازع علاقہ ہے اور یہ براہ راست ہماری تشویش کا

باعث ہے،اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان دو طرفہ بات چیت نہیں ہوتی تو اس

مسئلے کا حل کس طرح نکلے گا، اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ہوتی

ہے تو یہ پاکستان کے لیے تباہ کن ہوگا ،سیاست میں کسی ذاتی فائدے کے لیے نہیں

آیا ،یہ ہمیشہ سے ایک مشن تھا۔بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا

کہ پاکستان میں ایسے لوگ رہے ہوں گے جنھوں نے اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ

رویہ نہیں رکھا ہوگا، لیکن جب بھی کسی نے (ایسا کیا ہے تو) حکومت نے لوگوں

کے خلاف اقدامات کیے ہیں،مثال کے طور پر پنجاب میں ایک واقعہ ہوا تھا جس

میں سکھ برادری کو نشانہ بنایا گیا تھا، ہم نے اس کے ردعمل میں کارروائی کی

اور وہ شخص اب قید میں ہے تاہم ایسا انڈیا میں نہیں ہو رہا،وہاں قانون اپنے ہاتھ

میں لینے والے گروہ موجود ہیں۔ گائے کا گوشت کھانے پر سب کے سامنے قتل کیا

جاتا ہے،(انڈیا اور پاکستان میں) ’فرق یہ ہے کہ انڈیا نے ایسا قانون منظور کر لیا

ہے جو انڈیا میں مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے،اس سے مسلمان

دوسرے درجے کے شہری بن جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ بھارت میں لوگ خوفزدہ

ہیں،اگر بات کسی اقلیت یا خاص طور پر مسلمانوں کی کریں تو جو انڈیا میں ہو رہا

ہے اس کا موازنہ پاکستان سے نہیں کیا جا سکتا۔پاکستان میں معاشی بحران، روپے

کی قدر میں کمی اور صنعتی سست رفتاری سے نکلنے کے لیے حکومتی

منصوبے پر پوچھے گئے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایک مشکل

صورتحال میں حکومت سنبھالی اور اس وقت پاکستان کو ’تاریخ کے سب سے

بڑے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے‘ کا سامنا تھا،درآمدات 60 ارب ڈالر تھیں اور برآمدات

کم ہو کر20 ارب ڈالر تھیں،یہ بڑا فاصلہ تھا،ہمیں آغاز میں ہی بڑے فیصلے کرنے

تھے۔ افسوس کے ساتھ اس سے لوگ متاثر ہوئے تاہم پھر ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ

خسارہ 75 فیصد تک کم ہواانھوں نے دعویٰ کیا کہ معیشت اب سنبھل چکی ہے،

روپے کی قدر مستحکم ہوگئی ہے، سٹاک مارکیٹ میں اعتماد آنے کے بعد یہ اوپر

جا رہی ہے، سرمایہ کاری 100 فیصد تک اوپر گئی ہے۔ اس سال ہم پاکستان میں

ترقی دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ نوکریاں حاصل کر سکیں۔ گذشتہ سال لوگوں کے

لیے استحکام نہ ہونے کی وجہ سے مشکل تھا۔ ہر ایسی معیشت جس میں بڑا خسارہ

اور قرضے ہوں اسے مشکل وقت سے گزرنا پڑتا ہے۔برآمدات میں اضافے کے

حوالے سے انہوںنے کہاکہ پہلے ہونے والی ترقی درآمدات اور کھپت پر منحصر

تھی اس مشکل وقت کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ جہاں ہم برآمدات سے ترقی

کرنے جا رہے ہیں۔اعمران خان کا کہنا تھا کہ اگر انھیں چین کی ساتھ سنکیانگ میں

اویغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کرنا ہوگا تو وہ

یہ کام پس پردہ ہی کریں گے کیونکہ چینی ایسے ہی کام کرتے ہیں۔جب ان سے

پوچھا گیا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ چین سے اپنے اقتصادی تعلقات کی وجہ سے

سنکیانگ کے حوالے سے دانستہ طور پر جاننا چاہ نہیں رہے، تو انھوں نے اس

تاثر کی تردید کی۔انھوں نے کہا کہ اس طرح تو مجھے ہر اس جگہ کی بات کرنی

چاہیے جہاں مسلمان ہیں، جیسے لیبیا، شام، صومالیہ، یمن۔ ہر جگہ ہی مسلمانوں کو

قتل کیا جا رہا ہے، تو مجھے ہر ایک کے لیے بات کرنی چاہیے۔ بات یہ ہے کہ فی

الحال جو انڈیا میں ہو رہا ہے یہ تشویش کا باعث ہے۔انھوں نے کہا کہ یاد رکھیں یہ

صرف کشمیر کی بات نہیں، ابھی انڈیا میں شہریت اور رجسٹریشن ایکٹ کے دو

قوانین کی وجہ سے تقریباً دو کروڑ مسلمان غیر قانونی قرار دیے جانے کے

خطرے میں ہیں۔ ان کی شہریت چھینی جا سکتی ہے۔ اور یہ پہلا قدم ہوسکتا ہے۔ تو

یہ مجھے پریشان کرتا ہے۔

Leave a Reply