افغان معاملہ پر سلامتی کونسل اجلاس میں شرکت سے روکنا بدقسمتی، پاکستان

افغان معاملہ پر سلامتی کونسل اجلاس میں شرکت سے روکنا بدقسمتی، پاکستان

Spread the love

نیو یارک (جے ٹی این آن لائن نیوز) افغان معاملہ پر پاکستان

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا پاکستان نے افغانستان

میں قیام امن کیلئے ہر ممکن کوشش کی۔ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا

کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ افغان مسئلے کا مذاکرات کے سوا کوئی حل نہیں۔

اشرف غنی حکومت افغان عوام کی نمائندہ حکومت نہیں، افغانستان میں قیام امن

کیلئے افغانستان میں اتفاق رائے کی حکومت ضروری ہے۔ افغانستان پر ہونے

والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان کو درخواست کے

باوجود اجازت نہ دی گئی، جبکہ افغان نمائندے کو اجلاس میں تقریر کی اجازت

دی گئی، جو سلامتی کونسل کے قوانین کی خلاف ورزی ہے-

=-،-= افغانستان کے امن و استحکام میں پاکستان کا براہ راست حصہ، منیر اکرم

منیر اکرم نے مزید کہا مجھے افسوس ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے

اجلاس میں پاکستان کی شرکت قبول نہیں کی گئی۔ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے ،

کیونکہ پاکستان ایک پڑوسی ملک ہے، اور افغانستان کے امن و استحکام میں اس

کا براہ راست حصہ ہے۔ سلامتی کونسل کا اجلاس افغان حکومت کی درخواست پر

بلایا گیا تھا، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے پریس

بریفنگ میں بتایا اہم سٹیک ہولڈر کی حیثیت سے پاکستان نے اجلاس میں شرکت

کی درخواست گی مگر سلامتی کونسل کے موجودہ صدر بھارت نے درخواست

مسترد کر دی۔ واضح رہے کہ بھارت نے ایک ماہ کیلئے سلامتی کونسل کا صدر

منتخب ہوتے ہی سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا اور جانبداری کا مظاہرہ کرتے

ہوئے پاکستان کو اجلاس میں شرکت سے محروم رکھا۔

=-،-= پاکستان طالبان کیخلاف مدد کرے ، اشرف غنی حکومت کی اپیل

قبل ازیں افغانستان کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں

افغان صدر اشرف غنی حکومت نے طالبان کی سپلائی لائن اور انفرا اسٹرکچر ختم

کرنے کیلئے پاکستان سے مدد مانگ لی، سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں

افغان مشن کی سربراہ ڈبرا لیان نے سلامتی کونسل سے طالبان کے حملے فوری

بند کرانے کے لیے تمام سفارتی، سیاسی و مالی دباؤ استعمال کرنے کا مطالبہ کر

دیا۔ جبکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیراکرم نے افغانستان مسئلے

پر ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان کی درخواست

مسترد کئے جانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے افغان نمائندے کو اجلاس میں تقریر

کی اجازت دیئے جانے کے فعل کو سلامتی کونسل کے قوانین کی خلاف ورزی

قراردیدیا-

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا

خصوصی اجلاس بھارت کی زیر صدارت ہوا جس میں افغان مشن کی سربراہ نے

کہا عالمی برادری کو افغان مسئلے پر اختلافات ایک طرف رکھ کر فوری متحد

ہونے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں افغان وزیر خارجہ کی طرف سے نمائندہ

افغانستان نے بریفنگ دی اور کہا ملک کا نصف حصہ اس وقت طالبان حملوں کی

زد میں ہے، فلاحی بحران کی صورت حال ہے اور عالمی برادری کی مدد سے

بننے والا ملکی انفرااسٹرکچر شدید خطرے میں ہے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں

افغان وزیر خارجہ کے نمائندے نے طالبان کی سپلائی لائنز ختم کرانے میں

پاکستان سے مدد کی اپیل کی۔ نمائندہ افغانستان نے کہا گزشتہ ماہ تاشقند میں پاک

افغان قیادت کے درمیان ہوئے سمجھوتے کی بنیاد پر ہم پاکستان پر زور دیتے ہیں

کہ وہ طالبان کی پناہ گاہیں اور سپلائی لائنز ختم کرانے میں افغانستان کی مدد کرے

اور دہشتگردی کیخلاف لڑائی اور بین الاقوامی امن کی کوششوں کو معتبر و موثر

بنانے کے لیے ہمارے ساتھ مل کر ایک مشترکہ مانیٹرنگ و جانچ پڑتال کا طریقہ

کار وضع کرے۔

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

افغان صدر اشرف غنی حکومت کے نمائندے کا مزید کہنا تھا کہ میں یہاں پھر

زور دیتا ہوں کہ افغانستان باہمی عزت کی بنیاد پر پاکستان سے پُرامن اور دوستانہ

تعلقات چاہتا ہے۔ اجلاس میں برطانوی مندوب نے کہا کہ طالبان نے طاقت کے

زور پر حکومت قائم کی تو برطانیہ اسے تسلیم نہیں کریگا۔ فرانسیسی مندوب نے

کہا کہ افغانستان میں پرتشدد واقعات میں اضافہ قابل مذمت ہے۔ چینی مندوب نے

کہا کہ افغانستان میں قیام امن صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جنگ اس

مسئلے کا حل نہیں۔

افغان معاملہ پر پاکستان ، افغان معاملہ پر پاکستان ، افغان معاملہ پر پاکستان

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply