230

افغان فوج کے طالبان ہمدرد اہلکاروں کی حکومتی فوجیوں پر فائرنگ، 32ہلاک،کئی زخمی

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں پیرا ملٹری فورس کے طالبان ہمدرد اہلکاروں نے حکومت کے

حامی فوجی اہلکاروں پر اندھا دھند فا ئر نگ کرکے 27 کو ہلاک کر دیا اور بعد ازاں تمام اسلحہ

تحویل میں لیکر طالبان گروپ سے جا ملے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان میں

نیم فوجی دستے کے طالبان کیلئے ہمدردی رکھنے والے 7 اہلکاروں نے حکومت کے حامی اہلکاروں

پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 27 اہلکار ہلاک ہوگئے۔ طالبان حامی اہلکار جاتے

ہوئے اپنے ساتھ اسلحہ اور ساز و سامان بھی لے گئے اور مقامی طالبان جتھے میں شمولیت اختیار

کرلی۔غزنی کے صوبائی کونسل کے صدر ناصر احمد فقیری نے بتایا یہ واقعہ قارا باغ ضلع میں ایک

فوجی اڈے پر پیش آیا جہا ں فوجیوں سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے فائرنگ کر کے اپنے ہی 7

ساتھیوں کو ہلاک کر دیا تاہم آزاد ذرائع نے 27 اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ صوبائی

کونسل کے صدر صدر ناصر احمد فقیری کا مزید کہنا تھا کہ فائرنگ کرنیوالا گروپ 7 اہلکاروں پر

مشتمل اور طالبا ن کا ہمدرد تھ%A %8%اA79%D ن8ن %DDل C ذمہ داری قبول کرلی ہے اور 32 فوجیوں کی

ہلاکت اور بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔واضح رہے

گزشتہ برس اکتوبر میں قبل طالبان کیلئے ہمدردی رکھنے والے ایک اہلکار نے قندھار میں موقع پا کر

طالبان مخالف پولیس چیف جنرل عبدالرزاق کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، اس واقع میں صوبائی

انٹیلی جنس چیف بھی ہلاک ہوئے تھے جبکہ گورنر شدید زخمی ہوگئے تھے اور امریکی کمانڈر

اسکاٹ ملر بال بال بچ گئے تھے۔افغان وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے حکام کی جانب سے حملے

کی تحقیقا ت شروع کر دی گئی ہیں۔ خیال رہے غزنی کے ضلع قارا باغ میں فوجی بیس میں یہ دوسرا

حملہ ہے۔ اس سے قبل رواں برس جولائی میں بھی ضلع قارا باغ کے فوجی بیس کو نشانہ بنایا گیا تھا

جس کے نتیجے میں افغان آرمی فورسز کے کمانڈر کرنل عبد المبین محبتی ہلاک ہوئے تھے۔

Leave a Reply