Afghan Taliban,Peace Accord,Doha Dialog,Pakistan Invitation,

امریکہ سے معاہدہ ممکن، دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرینگے، افغان طالبان

Spread the love

دوحہ،واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) افغان طالبان

افغان طالبان نے کہا ہے امریکہ سے 80 فیصد مذاکرات مکمل ہوچکے ہیں تاہم اس

میں امریکی فوج کے انخلا کے ٹائم فریم پر اب بھی بحث ہونا باقی ہے۔ دوحہ میں

افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہم 80

فیصد امور پر معاہدہ کرچکے ہیں اور باقی 20 فیصد میں افغانستان سے غیر ملکی

افواج کا انخلا اور ایک اور مسئلہ شامل ہے، وہ دوسرا ‘مسئلہ کیا ہے تاہم ان کا کہنا

تھا وہ ایک چھوٹا مسئلہ ہے اور بڑا مسئلہ امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی

ہے۔ ہم پراْمید ہیں مذاکرات کے اس مرحلے میں معاہدہ کرلیں گے کیونکہ امریکہ

نے اس سے قبل بھی اس جانب اشارے دئیے ہیں۔ اسلام آباد سے دعوت نامہ

موصول نہیں ہوا، ہم دیگر دارالحکومتوں میں اپنے وفد بھیجتے ہیں اور ہم دعوت

ملنے پر اسلام آباد بھی اپنی ٹیم بھیج سکتے ہیں۔

پڑھیں: افغان طالبان کا امریکہ سے فوجی انخلا معاملے پر پیش رفت کا دعویٰ

عمران خان کی کابل سے مذاکرات کرنے کی درخواست کیے جانے کے حوالے

سے سوال کے جواب میں افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا ہماری پالیسی تبدیل

نہیں ہوسکتی، ایک چیز دوسرے کے بغیر نہیں ہوسکتی، یہ ہماری واضح پالیسی

ہے، انٹرا افغان ڈائیلاگ کا افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے معاہدے

کے بعد فوری آغاز ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: طالبان سے معاہدہ افغانستان سے انخلاء نہیں امن کیلئے ہوگا، زلمے

ادھر امریکہ کے خصوصی سفیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے افغان طالبان

سے دوحہ میں مذاکرات کے بعد ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’’طالبان سمجھوتے

کیلئے تیار ہوگئے ہیں اور ہم ایک بہترین معاہدے کیلئے تیار ہیں‘‘ دوسری طرف

افغان امن مرحلے میں تیزی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطے کے ممکنہ

دورے کے پیش نظر امریکی وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے-

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کو سیاسی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں، چین

واشنگٹن میں سفارتی ذرائع نے بتایا ٹرمپ انتظامیہ کے جنوبی و وسطی ایشیا کے

لیے معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز افغانستان اور باہمی تعلقات پر بات کرنے کے

لیے اسلام آباد آئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے دوحہ مذاکرات کے دوران امریکہ اور

افغان طالبان کے درمیان اگر معاہدہ ہوجاتا ہے تو صدر ٹرمپ معاہدے کو حتمی

شکل دینے کیلئے ستمبر میں افغانستان کا دورہ کریں گے۔

Leave a Reply