Taliban

افغان طالبان کی پیشقدمی جاری،200 اضلاع پر کنٹرول کا دعویٰ

Spread the love

افغان طالبان کی پیشقدمی

کابل ،دوشنبے ،ماسکو (جے ٹی این آن لائن نیوز) افغانستان میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے ساتھ

ساتھ طالبان اور افغان سکیورٹی فورسزمیں جھڑپوں میں تیزی آگئی۔ مغربی سکیورٹی عہدیداروں کا

کہنا ہے کہ طالبان افغانستان کے کل 421 اضلاع میں سے ایک تہائی حصے پرکنٹرول حاصل

کرچکے ہیں۔تاہم طالبان کا دعوی ہے کہ افغانستان کے 34صوبوں میں 200سے زائد اضلاع پر ان کا

کنٹرول ہے۔صوبہ بدخشاں میں طالبان نے بغیر کسی جنگ و جدل کے زیادہ تر علاقوں کا کنٹرول

حاصل کیا جبکہ صوبہ بلخ میں بھی لڑائی جاری ہے۔ اسی دوران قریب ایک ہزار افغان فوجی جان

بچانے کے لیے ہمسایہ ملک تاجکستان داخل ہو گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان کی

ان کامیابیوں کے بعد ترکی اور روس نے مزار شریف میں قائم اپنے قونصل خانے بند کر دیے ہیں

جبکہ ایران نے اپنے سفارتی عملے کو نقل وحرکت محدود کرنے کا حکم دیا ہے۔برطانوی نیوز

ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان ترجمان ذبیح للہ مجاہد کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں افغان

حکومت سے مذاکرات میں تیزی آئیگی۔انہوں نے کہا کہ دونوں جانب سے تحریری امن منصوبے کی

تیاری میں ایک ماہ لگ سکتا ہے۔دوسری جانب ترجمان وزارت افغان امور نے ذبیح للہ مجاہد کے بیان

کا خیرمقدم کیا ۔ادھر افغانستان کے شمالی صوبہ قندوز کے صدر مقام مورچہ بند شہر قندوز میں افغان

فورسز نے 36طالبان عسکریت پسند ہلاک اور 21شدت پسند زخمی کرنے کادعویٰ بھی کیاہے۔

افغانستان میں امریکی سفارت خانے کی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ

سفارت خانہ ہر قسم کے حالات میں عملے کی حفاظت کے تفصیلی منصوبے رکھتا ہے۔امریکی میڈیا

سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی سفارت خانے کی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی

شرط رکھی اور بتایا کہ حالیہ دنوں میں سیکیورٹی کی صورتِ حال کا کثرت سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سفارت خانے میں 1400 امریکی شہری اور تقریبا 4 ہزار عملے کے اراکان موجود

ہیں، سفارت خانے کے عملے اور سہولتوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس منصوبے ہیں۔ افغانستان کے

شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان کی تیزی سے پیش قدمی جاری ہے جس کی وجہ سے تاجکستان

کے صدر نے بدخشاں سے متصل تاجک سرحد کی حفاظت کے لیے 20 ہزار فوجی بھیجنے کا حکم

دے دیا۔روس کی جانب سے تاجکستان کو سرحد پر صورتِ حال مستحکم کرنے میں تعاون کی یقین

دہانی کرائی گئی ۔روسی حکومت کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ضرورت پڑنے پر تاجکستان

کی براہِ راست اور علاقائی سیکیورٹی بلاک کے ذریعے مدد کریں گے۔ادھر جرمن حکام نے کہاہے

کہ انہوں نے ملک کی فوج کے 2 ہزار 400 افغان ملازمین اور ان کے رشتہ داروں کو ویزے جاری

کردیے ہیں، تاہم ان میں سے تمام فوری طور پر جرمنی نہیں آنا چاہتے۔قبل ازیں ترجمان افغان اعلی

کونسل قومی مصالحت ڈاکٹر مجیب رحمان رحمانی نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے پرعزم ہیں، ہم

جنگ بندی کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، اب یہ طالبان پر منحصر ہے کہ وہ آگے آئیں اور جنگ

بندی اور تشدد کو ختم کریں اور افغان مسلے کا سیاسی حل تلاش کریں۔ طالبان کہتے رہے ہیں کہ وہ

غیرملکی قابض فورسز کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اب غیرملکی فورسز جاچکی ہیں اس لیے ہمیں اب

ایک دوسرے کے خلاف نہیں لڑنا چاہیے۔ پاکستان نے افغان امن معاملے میں مثبت کردار ادا کیا ہے

اور افغانستان میں امن عمل کی حمایت کی، افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، پاکستان

کی امن کے لیے آفیشل لائن کا خیرمقدم کرتے ہیں، پاکستان ہمسایہ ملک ہے اور مثبت کردار ادا

کرسکتا ہے، اس نے مثبت کردار ادا کیا ہے ہم اس کی اس پوزیشن کا خیرمقدم کرتے ہیں، ہم کہہ رہے

ہیں کہ پاکستان امن عمل کی حمایت جاری رکھے ۔افغانستان میں امریکا کے سب سے بڑے فضائی

اڈے بگرام ایئر بیس کے نئے افغان کمانڈر جنرل اسد اللہ کوہستانی نے صحافیوں سے گفتگو میں

امریکی فوجیوں کے فضائی اڈہ خالی کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر بات کی۔افغان

کمانڈر نے شکوہ کیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے بغیر بتائے رات 3 بجے فضائی اڈہ خالی کر دیا تھا

جب کہ یہاں ہزاروں طالبان قیدی بھی موجود تھے۔ جنرل اسد اللہ کوہستانی نے امریکی فوج کے

اچانک بگرام ایئر بیس خالی کرنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی فوجیوں کے ساتھ دہائیوں

تک کام کیا تاہم امریکی فوج نے فضائی اڈے کو خالی کرنے سے قبل ہمیں اعتماد میں نہیں لیا۔ افغان

کمانڈر نے مزید کہا کہ بگرام ایئر بیس میں ایک قید خانہ بھی ہے جس میں 5 ہزار سے زائد طالبان

اسیر ہیں۔ ہمیں علم ہے کہ طالبان اب شہروں کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ بگرام

ایئر بیس پر بھی حملہ کیا جائے گا۔ جنرل اسد اللہ کوہستانی کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کے مقابلے

میں ہماری صلاحیت اور استعداد کم ہے لیکن ہم محدود جنگی ساز و سامان کے ساتھ طالبان کا مقابلہ

کرنے اور اپنے لوگوں کی حفاظت کے لیے تیار ہیں۔ ہم سے جو بن سکے گا کریں گے۔

افغان طالبان کی پیشقدمی

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply