افغان طالبان کی فتوحات جاری، ناروے، ڈنمارک وکینیڈا کے سفارتخانے بند

افغان طالبان کی فتوحات جاری، ناروے، ڈنمارک وکینیڈا کے سفارتخانے بند

Spread the love

کابل، واشنگٹن، دوجہ(جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) افغان طالبان کی فتوحات

طالبان نے افغانستان 34 صوبوں میں سے 19 پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا

ہے، جبکہ ایک اور پیشرفت میں ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان جنہوں نے

طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھاتے تھے نے خود کو طالبان کے حوالے کر دیا ہے،

اس ضمن میں طالبان نے اسماعیل خان کی حوالگی کی وڈیو اورتصاویر بھی میڈیا

کو جاری کر دیں، طالبان کے زیر کنٹرول صوبوں میں نیمروز، جوزجان، سرپل،

تخار، قندووز، سمنگان، فراہ، بغلان، بدخشان، غزنی، ہرات، بادغیس، قندھار،

ہلمند، غور، اروزگان، زابل، لوگر اور پکتیا شامل ہیں۔ دوسری طرف اشرف غنی

حکومت نے ملک کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا اجلاس بُلانے کی درخواست

کر دی-

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

افغان سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ طالبان نے وسطی افغانستان کے

صوبے غور پر بھی کسی مزاحمت یا لڑائی کے بغیر قبضہ کر لیا ہے۔ شہر کا

کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے وہاں متعین افغان فوجیوں، سیاسی عمائدین اور

کابل حکومت کو جوابدہ انتظامیہ کے عہدیداروں کو حفاظت کیساتھ علاقے سے

نکلنے کی اجازت دیدی۔ ایک اعلی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ طالبان نے لشکر

گاہ کو خالی کروانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد پھر وہاں 48 گھنٹے کے لیے فائر

بندی کا اعلان کر دیا گیا تاکہ اشرف غنی کی حامی فوج اور سول انتظامیہ کے

عہدیداروں کو شہر سے باہر جانے کا محفوظ راستہ دیا جا سکے۔ عرب میڈیا کے

مطابق طالبان نے افغان صدر اشرف غنی کے آبائی صوبے لوگر کے دارالحکومت

پل علم کو کنٹرول میں لینے کے بعد گورنر اور شہری خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو

گرفتار کر لیا۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ لوگرمیں افغان فورسز نے 12 گھنٹے

تک مقابلہ کیا لیکن اس کے بعد طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ صوبہ لوگر

افغان دارالحکومت کابل سے 80 کلو میٹر دور ہے اور یوں طالبان افغان کابل کے

قریب پہنچ چکے ہیں۔

=-،-= طالبان کا ہرات ائیرپورٹ پر کھڑے بھارتی لڑاکا طیارہ بھی قبضہ

اروزگان پر طالبان کے قبضے کے بعد وہاں کے گورنر افغان فورسز کے ہتھیار

ڈالنے کے بعد کابل جانے کیلئے ائیرپورٹ روانہ ہو گئے جبکہ گورنر ہرات اور

صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔ طالبان نے ہرات ائیرپورٹ سے

بھارتی لڑاکا طیارہ بھی قبضے میں لے لیا۔ اس سے پہلے قندوز ائیر پورٹ سے

بھارتی ہیلی کاپٹر طالبان کے ہاتھ آیا تھا۔ دوسری طرف امریکی اخبار نیویارک

ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے طالبان سے سفارتخانے پر حملہ نہ کرنے

کی گارنٹی مانگ لی ہے، افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کے ملک سے

فرار ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق امراللہ صالح

گزشتہ رات تاجکستان چلے گئے اور وہاں سے ویڈیو پیغام میں آئندہ کا لائحہ عمل

دیں گے، امریکہ نے افغانستان سے فوجوں کے انخلاء کے بعد اپنے سفارتی عملے

اور شہریوں کو نکالنے کے لیے ایک بڑا آپریشن شروع کردیا ہے جس کے لیے

کابل ایئرپورٹ پر 3 ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، امریکی فوجیوں

کی تعیناتی سے متعلق امریکی محکمہ دفاع نے بھی تصدیق کردی ہے امریکی

فوجی 24 تا 48 گھنٹے میں ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

=-،-= کابل میں ناروے، کینیڈا اور ڈنمارک کے سفارتخانے بند

ترجمان پینٹا گون جان کربی نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں افغانستان میں 3

انفینٹری بٹالینز کو بھیجا جائے گا، دو دن میں امریکی فوجی دارالحکومت کابل پہنچ

جائیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ بھی اپنے شہریوں کو نکالنے کے

لیے 600 فوجی افغانستان میں تعینات کرے گا۔ دریں اثناء کینیڈا نے بھی کابل میں

اپنا سفارت خانہ بند کرنے کے لیے سپیشل فورسز بھیج دی ہیں جبکہ ڈنمارک نے

بھی کابل میں اپنا سفارخانہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسپیشل فورسز کینیڈین

عملے کو بحفاظت افغانستان سے واپس کینیڈا لیکر جائیگی۔ امریکہ کے خصوصی

نمائندے برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ دوحہ مذاکرات میں افغان

شہروں پر حملے فوری بند کرنے اور سیاسی تصفیے پر اتفاق کیا گیا ہے، تمام

ممالک کے نمائندے اس بات پر متفق ہیں پُرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر بند

کیا جائے۔ امن عمل کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا

ہے کہ شرکاء نے زور دیا کہ فریقین فوری جنگ بندی کے لیے اقدامات کریں۔

=-،-= بزور طاقت افغانستان پر قبضہ قبول نہیں کرینگے، امریکہ، یورپی یونین

پاکستان نے بھی افعانستان میں خراب سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر قونصل

جنرل کے سٹاف میں کمی کردی ہے۔ افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد

خان نے کہا کہ قونصل خانہ بند نہیں کیا، اس بارے میں خبریں درست نہیں۔ انہوں

نے کہا کہ کووڈ کے پیش نظر ویزا آپریشن اِن پرسن بند کر دیا گیا اور صرف آن

لائن درخواست پر ویزہ جاری کیا جا رہا ہے، امریکی وزارت خارجہ اور یورپی

یونین نے افغانستان میں طاقت کے زور پر قبضہ کرنے والے کو تسلیم نہ کرنے

پیغام دیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ طالبان

کو امریکہ کا پیغام وہی ہے جو قطر مذاکرات میں شریک تمام ملکوں کا پیغام ہے

کہ ہم کسی ایسی قوت کو تسلیم نہیں کریں گے جو افغانستان پر طاقت کے زور سے

قبضہ کرنا چاہتی ہو۔ ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ امریکی شہری

واپس بلانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم افغان عوام کو تنہا چھوڑ دیں گے، امریکہ نے

افغانستان میں ہر شعبے میں سرمایہ کاری کی ہے۔ نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ صدر

بائیڈن نے افغان فوج کے لیے 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کی رقم رکھی ہے، افغانستان

میں امریکی سفارتخانہ کام کرتا رہے گا۔ دوسری جانب یورپی یونین نے بھی ایک

پیغام میں کہا ہے کہ طالبان نے بزور طاقت قبضہ کیا تو عالمی سطح پر قبول نہیں

کیا جائے گا۔

افغان طالبان کی فتوحات ، افغان طالبان کی فتوحات ، افغان طالبان کی فتوحات

افغان طالبان کی فتوحات ، افغان طالبان کی فتوحات ، افغان طالبان کی فتوحات

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply